پاک-انگلستان سیریز، وقار یونس پراعتماد اور پرجوش

پاکستان کو آئندہ چند دنوں میں زمبابوے کا دورہ کرنا ہے۔ وطن عزیز میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی میں اہم کردار ادا کرنے والے زمبابوے کے شکریے کے طور پر کیا جانے والا دورہ شاید اتنا اہم نہ ہو لیکن اس کے بعد پاکستان کو جو معرکہ درپیش ہے، وہ بلاشبہ سال کی اہم ترین سیریز ہے۔ ایشیز کے حالیہ فاتح انگلستان کے خلاف متحدہ عرب امارات کے میدانوں پر ایک مکمل سیریز پاکستان کی صلاحیتوں کا سخت ترین امتحان ہوگا لیکن کوچ وقار یونس مطمئن ہیں اور کہتے ہیں کہ ٹیم مکمل طور پر مستحکم اور پراعتماد ہے۔

13 اکتوبر سے شروع ہونے والی پاک-انگلستان سیریز میں پہلے تین ٹیسٹ مقابلے کھیلے جائیں گے جہاں پاکستان 2012ء کی تاریخ دہرانے کی کوشش کرے گا، جب اُس وقت کے عالمی نمبر ایک انگلستان کے خلاف سیریز کے تینوں ٹیسٹ مقابلے جیت کر تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔

انگلستان نے حال ہی میں آسٹریلیا کو شکست دی ہے اور اس کے حوصلے بھی آسمانوں پر ہیں لیکن وقار یونس کہتے ہیں کہ سری لنکا کے دورے پر جو نتائج پاکستان نے پیش کیے ہیں، اس کے بعد انہیں اس بات پر کوئی شبہ نہیں کہ وہ ایک اچھی ٹیم کا حصہ ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ ایک سال میں کسی ٹیسٹ سیریز میں شکست نہیں کھائی بلکہ اس دوران آسٹریلیا جیسی عالمی معیار کی ٹیم کے خلاف بھی کلین سویپ کامیابی حاصل کی ہے اور حال ہی میں سری لنکا کو بھی اس کے وطن میں شکست دی ہے۔

وقار یونس کہتے ہیں کہ شاندار کارکردگی کے مظاہرے کے باوجود ہم انگلستان کو آسان حریف نہیں سمجھیں گے اور اسی جوش و جزبے کے ساتھ کھیلیں گے، جس سے ہم نے ماضی قریب میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر لیگ اسپنر یاسر شاہ کو سراہا جنہوں نے متحدہ عرب امارات ہی میں آسٹریلیا کے خلاف صرف 2 ٹیسٹ مقابلوں میں 22 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ یاسر شاہ کچھ ہی عرصے میں دنیا کے بہترین ٹیسٹ اسپنر کے درجے پر فائز ہو گئے ہیں اور انگلستان کے خلاف سیریز کے لیے پاکستان کو ان سے بہت توقعات ہیں۔

Facebook Comments