باہمی سیریز: بھارت نے حتمی جواب کے لیے پاکستان کو مدعو کرلیا

پیچیدہ ترین حالات کے طویل مراحل، 'کبھی ہاں، کبھی ناں'، جھوٹے وعدے اور قرار، نہیں یہ کسی فلم کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کی آئندہ سیریز کی داستان ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ شاشنک منوہر نے سیریز پر مذاکرات کے لیے پی سی بی کو دعوت دی ہے۔

لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار خان نے کہا کہ "کیونکہ منوہر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے حالیہ اجلاس میں موجود نہیں تھے، اس لیے میں نے انہیں فون کیا۔ جس پر انہوں نے مجھے بی سی سی آئی کے ورکنگ کمیٹی اجلاس کے بعد دورۂ بھارت کی دعوت دی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آٹھ سے دس دنوں میں ہمیں حتمی جواب مل جائے گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں سے دبئی میں ہونے والی بات چیت میں کہہ دیا تھا کہ انہیں اگلے 10 سے 12 دنوں میں آئندہ پاک-بھارت سیریز کے لیے تصدیق کرنا ہوگی کہ وہ کھیلیں گے، یا نہیں کھیلیں گے۔"

شہریار خان نے سیریز کے امکانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بی سی سی آئی کے نئے صدر دونوں ممالک کو ایک مرتبہ پھر میدان میں دیکھنا چاہتے ہیں اور انہوں نے بورڈز کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ "منوہر نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ پاک-بھارت سیریز کے خواہاں ہیں اور ساتھ ہی دونوں بورڈز کے درمیان تمام تصفیہ طلب معاملات کو حل کرنے کے بھی۔ ہم نے پاک-بھارت کرکٹ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیے ہماری جانب سے کوئی تاخیر نہیں ہے، ہم مکمل طور پر تیار ہیں۔ گیند اب بھارت کے کورٹ میں ہے۔"

دونوں ممالک نے گزشتہ سال مفاہمت کی جس یادداشت پر دستحط کیے تھے، اس کے مطابق آئندہ باہمی سیریز دسمبر میں طے شدہ ہے جس کا میزبان پاکستان ہوگا۔ البتہ دونوں ممالک کے پیچیدہ سیاسی تعلقات کو دیکھتے ہوئے اس سیریز کے انعقاد پر ابتداء ہی سے سیاہ بادل چھائے رہے ہیں۔ گو کہ مذاکرات کا حالیہ دعوت نامہ اس سمت میں ایک مثبت قدم محسوس ہو رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیریز کے انعقاد کے حوالے سے اب تمام خوش فہمیوں کا خاتمہ ہوچکا ہے اور اس کے امکانات 10 فیصد بھی نہیں ہیں۔

Facebook Comments