شاندار بلے بازی کے ذریعے پاکستان نے اپنے عزائم سے پردہ اُٹھادیا

دبئی کرکٹ گراونڈ کی تاریخ دیکھی جائے تو پاکستان یہاں ہمیشہ سے ہی مضبوط حریف رہا ہے پھر چاہے سامنے آسٹریلیا ہو، نیوزی لینڈ ہو یا پھر خود انگلستان، ہر بار پاکستان نے مخالف ٹیموں کو پچھارا ہے۔ اِس بار بھی میدان دبئی ہے اور مدمقابل انگستان اور پہلے ہی دن شاندار بلے بازی کے ذریعے پاکستان نے خطرناک اپنے عزائم سے پردہ اُٹھادیا۔

ٹاس ہوا تو اِس بار بھی قسمت کی دیوی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا ہی ساتھ دیا اور اُنہوں نے حسب توقع پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ انگلستان نے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی مگر پاکستانی ٹیم میں جس ایک تبدیلی کا یقین تھا وہی ہوئی، پہلے میچ میں انجری کے سبب نہ کھیلنے والے یاسر شاہ کو راحت علی کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا۔

پاکستان کی اننگز کا آغاز ہی اچھا ہوا۔ پہلی وکٹ کے لیے شان مسعود اور محمد حفیظ نے 51 کی رنز کی شراکت داری قائم کی مگر اس موقع پر حفیظ 19 رنز بناکر معین علی کا شکار ہوگئے۔ لیکن قومی ٹیم ابھی پہلی وکٹ کے نقصان سے سنبھلنے کی ہی کوشش کررہی تھی کہ بین اسٹوکس نے شعیب ملک کو آوٹ کرکے انگلستان کو ایک اور خوشی فراہم کردی۔ اِس وقت پاکستان کے 58 رنز پر 2 کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔

ٹیم کو سہارا دینے یونس خان آئے۔ دوسری جانب شاندار بلے بازی کرنے والے شان مسعود کھانے کے وقفے کے بعد پہلی ہی گین پر ایک بار پھر اینڈرسن کی گیند کا شکار ہوگئے۔ اُنہوں نے 54 رنز بنائے تھے۔

یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کے 85 رنز پر ابتدائی تین کھلاڑی پویلین لوٹ گئے تھے اور ساری ذمہ داری ٹیم کے دو سب سے تجربہ کار کھلاڑی یعنی یونس خان اور مصباح الحق کے کاندھوں پر آگئی اور ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی دونوں نے شائقین کرکٹ اور ٹیم دونوں کو مایوس نہیں کیا اور 93 رنز کی شاندار شراکت داری قائم کی۔ مگر جب اِس محنت کے ثمرات کو سمیٹنے کا وقت آیا تو یونس خان 56 رنز بناکر مارک ووڈ کی گیند پر آوٹ ہوگئے۔

جب پاکستان کے 178 رنز پر 4 کھلاڑی آوٹ ہوئے تو خدشہ تھا کہ اگر اب مزید ایک بھی کھلاڑی آوٹ ہوا تو پاکستان بڑی مشکل میں پھنس سکتا ہے مگر ایک بار پھر مصباح الحق اور اسد شفیق کے ساتھ نے ٹیم میں مضبوط پوزیشن پر لاکر کھڑا کردیا۔

میچ کی خاص بات مصباح الحق کی شاندار سنچری ہے جو اُنہوں نے دن کے آخری اوور میں چھکا مار کر مکمل کی۔ اُن کا ساتھ دینے والے اسد شفیق میچ ختم ہونے تک 46 پر کھڑے ہیں جبکہ دونوں کھلاڑی نے اب تک 102 رنز کی شراکت داری قائم کرلی ہے۔

انگلستان کی جانب سے معین علی، جیمز اینڈرسن، بین اسٹوکس اور مارک ووڈ نے ایک ایک کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔

 

Facebook Comments