ادھورا ’ریویو سسٹم‘ منظور نہیں

امپائروں کے فاصلے پر نظرثانی کے نظام، ریویو سسٹم یا ڈی آر ایس، متعارف کروانے کا بنیادی مقصد تو یہی تھا کہ میدان میں موجود امپائر سے بحیثیت انسان جو خطائیں ہوجاتی ہیں، ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس کا ازالہ ممکن ہو سکے لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس ہے۔ وقتاً فوقتاً مختلف ٹیموں کی جانب سے اِس نظام میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔ سوائے بھارت کے جس نے اِس نظام کو ماننے سر ے سے ہی انکار کردیا ہے۔ لیکن اس نظام کے پرانے حامی پاکستان کو بھی اب شکایت پیدا ہو چلی ہے جس کے ہیڈ کوچ وقار یونس نے فیصلوں میں عدم تسلسل پر شکایت کرتے ہوئے نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کو انٹرویو دیتے ہوئے وقار یونس نے کہا ہے کہ شک کی گنجائش میں امپائر کے فیصلے پر انحصار 50 نہیں بلکہ 75 فیصد ہونا چاہیے۔ "جب امپائر کو معلوم ہو کہ جب بھی ان کے فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا تو ٹیکنالوجی نظام ان کی حمایت میں ہوگا، تو وہ سہل پسند ہوجائیں گے اور یوں غلطی کا امکان مزید بڑھ جاتا ہے۔"

ایل بی ڈبلیو کے فیصلے میں اگر امپائر نے کسی کھلاڑی کو ناٹ آؤٹ قرار دیا ہے اور ری پلے سے ظاہر ہو کہ گیند کا 50 فیصد سے کم حصہ کسی اسٹمپ کو چھوتا ہوا نکلتا، تو اس صورت میں امپائر کے فیصلے کو مقدم جانا جاتا ہے۔ وقار یونس نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ 50 فیصد کا فارمولا ٹھیک نہیں، اِس طرح کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایل بی ڈبلیو کے فیصلے کو جب ڈی آر ایس کے تحت چیلنج کیا جاتا ہے اور 49 فیصد گیند بھی وکٹ کو چھو رہی ہو تو امپائر کے فیصلے کے مطابق آؤٹ نہیں دیا جاتا۔ ’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ فارمولے کو 50 فیصد کے بجائے 70 اور 30 یا پھر 75 اور 25 کی شرح سے تبدیل کرنا چاہیے، یعنی اگر گیند 25 فیصد بھی وکٹ پر لگ رہی ہو تو آوٹ دینا چاہیے پھر چاہے وہ امپائر کے فیصلے کو ہی غلط کیوں نہ ثابت کررہا ہو۔ ‘‘

وقار یونس کا مزید کہنا تھا کہ وہ ڈی آر ایس کے تحت کھیلنے سے انکار نہیں کررہے، مگر چاہتے ہیں کہ اِس سسٹم میں جو کمی موجود ہے اُس کو دور کیا جائے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو تنازعات کھڑے ہوتے رہیں گے۔

پاکستان اور انگلستان کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریز میں ڈی آر ایس کا نظام موجود ہے مگر اسے مزید کارآمد اور آسان بنانے والی جدید ٹیکنالوجی’ہاٹ اسپاٹ‘ اور ’اسنکو‘ نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈی آر ایس کا مکمل پیکیج استعمال کرنے سے ایک دن کے خرچے میں تقریباً 6 ہزار برطانوی پاؤنڈز کا اضافہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وقار یونس یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ وہ ادھورے ریویو سسٹم کو نہیں مانتے، اگر آئی سی سی چاہتی ہے کہ اِس سسٹم کو نافذ ہونا چاہیے تو پھر مکمل طور پر کیا جائے۔ ادھورے سسٹم کی وجہ سے بعض اوقات بہت ہی نامناسب فیصلے دیکھنے کو ملے ہیں۔

پاکستان کے ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ بعض اوقات صرف ایک غلط فیصلہ میچ کے نتیجے کو مکمل طور پر تبدیل کردیتا ہے، اور ایسا ہم ابوظہبی میں دیکھ چکے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِس حوالے سے وہ آئی سی سی کے نمائندوں سے ملاقات کرچکے ہیں اور اپنے تحفظات سے آگاہ بھی کیا ہے، جس پر اتفاق کیا گیا ہے اور بہتری لانے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

دبئی ٹیسٹ سے قبل آئی سی سی نے صحافیوں کے لیے ایک بریفنگ کا انعقاد کیا تھا اور اِس بریفنگ میں بھی اِس سسٹم میں موجود خامیوں کے حوالے سے نکات اُٹھائے گئے تھے جس پر آئی سی سی کے جنرل مینیجر جیف الرڈائس نے اتفاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل میں اِن خامیوں کو دور کرنے کے لیے ضرور کوئی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔

دوسری جانب آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ڈی آر ایس سسٹم کو ڈیزائن ہی اِس طرح کیا گیا ہے کہ جو واضح غلطیاں ہوتی ہیں، اُن سے باآسانی بچا جاسکے۔

اپریل سے ستمبر کے آخر تک 19 ٹیسٹ مقابلے اِس سسٹم کے ساتھ کھیلے گئے، جن میں 899 فیصلے ہوئے۔ اِن میں سے 179 کو ریویو کیا گیا ہے جن میں سے 35 غلط ثابت ہوئے۔ آئی سی سی کے اعداد و شمار کے مطابق 95.6 فیصد فیصلے ٹھیک ہوئے ہیں جبکہ اِس سے قبل یہ شرح 99.1 فیصد تھی۔

Facebook Comments