پاکستانی گیندبازوں کے ساتھ ناانصافی کیوں؟ سعید اجمل پھٹ پڑے

خاموش طبع سعید اجمل بالآخر پھٹ پڑے، کہتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی طے شدہ حدود کے مطابق 15 درجے کے خم کے ساتھ باؤلنگ نہیں کرسکے، لیکن اس کی وجہ حادثے میں پیش آنے والی معذوری ہے، "میں چاہتے ہوئے بھی ہاتھ مکمل نہیں گھما سکتا" لیکن ساتھ ہی کہتے ہیں کہ "آئی سی سی کو پاکستانی گیندبازوں کے علاوہ کوئی کیوں نظر نہیں آتا؟ کیا ہربھجن سنگھ ٹھیک باؤلنگ کرتے ہیں؟ کیا روی چندر آشون ٹھیک طرح سے ہاتھ گھماتے ہیں؟ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر پاکستانی باؤلرز خطرناک ہیں تو ان کو روکنے کے لیے یہ ناانصافی کب تک جاری رہے گی؟"

ایک پاکستانی نجی ٹیلی وژن چینل کو دیے گئے انٹرویو میں سعید اجمل نے کہا کہ اب وہ ہر باؤلر کو غور سے دیکھ رہے ہیں اور متعدد گیندباز ایسے ہیں جن کا ہاتھ ٹھیک طرح سے نہیں گھوم رہا۔ انہوں نے تجربہ کار بھارتی گیندباز ہربھجن سنگھ کا نام تک لے لیا اور کہا کہ میں 100 فیصد یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ان کا ٹیسٹ لیا جائے تو ان پر فوری طور پر پابندی لگ جائے گی لیکن ساتھ ہی کہتے ہیں کہ "مجھے لگتا ہے کہ امپائروں نے اور خود آئی سی سی نے بھی بھارت کے حوالے سے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔"

خود پر عائد پابندی کے حوالے سے سعید اجمل کا کہنا تھا کہ "میں اپنے معاملے میں آئی سی سی کو قصوروار نہیں ٹھیراتا بلکہ میرا شکوہ تو اپنے بورڈ سے ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ بی جانتا تھا کہ حادثے کی وجہ سے میرا ہاتھ پورا نہیں گھوم سکتا اور اسی بنیاد پر میں چھ سال پہلے آئی سی سی سے ہی اپنا باؤلنگ ایکشن کلیئر کروا چکا ہوں۔ اگر پی سی بی میرا کیس ٹھیک طریقے سے آئی سی سی کے سامنے رکھتا تو مجھے امید ہے کہ نرمی مل سکتی تھی۔" انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر دنیا کا ایک بھی ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ آپریشن کے بعد میرا بازو ٹھیک طرح سے گھومنے شروع ہوجائے گا، تو میں اپنی غلطی مان لوں گا۔"

آئی سی سی کے قانون کے حوالے سے سعید اجمل کا کہنا تھا کہ "درحقیقت یہ قانون آف اسپنرز کو ختم کرنے کی مہم کا حصہ تھا۔ دنیا میں گنے چنے آف اسپن باؤلرز ہی رہ گئے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ بھی کچھ عرصے میں زیر عتاب آئیں گے۔" اجمل نے سوال کیا کہ "آئی سی سی صرف آف اسپنرز کے پیچھے ہی کیوں پڑی ہوئی ہے؟ لیگ اسپنرز اور تیز باؤلرز پر نظر کیوں نہیں رکھی جا رہی؟۔ "

بین الاقوامی کرکٹ میں 447 وکٹیں لینے والے سعید کہتے ہیں کہ جب ٹیسٹ کرکٹ کا مقام ٹی ٹوئنٹی کو دیا جائے گا اور وہاں بیٹسمین موٹے بلّوں کا سہارا لیں گے تو اسپنرز خود کو بچانے کے لیے وہی کریں گے، جو اب کررہے ہیں۔ "میرے نزدیک یہ ممکن ہی نہیں کہ ان مشکل حالات میں گیندباز 15 ڈگری کی کڑی شرط کو پورا کرتے ہوئے بلے بازوں کا مقابلہ کرسکیں۔"

اپنے مستقبل کے حوالے سے سعید اجمل نے کہا کہ وہ ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کے لیے فوری طور پر تیار ہیں، اور صرف موقع کے انتظار میں ہیں۔ البتہ ٹیسٹ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ابھی سوچ رہے ہیں۔ اگر محسوس ہوا کہ ٹیسٹ نہیں کھیل سکیں گے تو اگلے سال کے اوائل میں ہی ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیں گے۔

پاکستان کی جانب سے سب سے کم ٹیسٹ میچز میں 100 وکٹیں لینے والے سعید اجمل، ٹیسٹ میں 178، ایک روزہ میں 184 اور ٹی ٹوئنٹی میں 85 وکٹیں رکھتے ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں سری لنکا کے خلاف سیریز کے دوران امپائروں نے ان کے باؤلنگ ایکشن پر اعتراض کیا۔ جس کے بعد ہونے والی جانچ میں ناکامی کی وجہ سے انہیں بین الاقوامی کرکٹ سے روک دیا گیا۔ بعد ازاں تبدیل شدہ ایکشن کے ساتھ انہوں نے دوبارہ جانچ کروائی اور فروری میں انہیں باؤلنگ کرنے کی اجازت مل گئی۔ بدقسمتی سے وہ عالمی کپ میں شامل نہیں ہو سکے۔ اپریل میں پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں انہیں موقع دیا لیکن مایوس کن کارکردگی کے بعد انہیں نکال دیا گیا اور اب تک وہ دوبارہ قومی ٹیم میں واپسی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments