پاک بھارت سیریز کے امکانات روشن؟

اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان طے ہونے والے معاہدے پر روشنی ڈالی جائے تو بھارت کو اگلے ماہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے خلاف سیریز کھیل لینی چاہیے تھی، مگر چونکہ بھارت اب جنگل کا بادشاہ بن گیا ہے تو اُس نے معاہدے کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہمیں وقت دینے سے انکار دیا۔ پھر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سربراہ شہریار خان کی بہت بھاگ دور کے بعد بھارت نے بھارتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیریز بھارت میں ہی کھیلنے کے لیے ’’ہاں‘‘ کردی، اگر اُن پر قومی دباو نہ ہوتا تو شاید (پی سی بی) ہاں کردیتا مگر نہ چاہتے ہوئے بھی ’نہ‘ کہنا پڑا۔ جس کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے صدر جائلز کلارک کو بیچ میں آنا پڑا اور گزشتہ روز دبئی میں بھارتی بورڈ کے صدر ششانک منوہر اور پی سی بی کے سربراہ شہریار خان کی ملاقات کروائی، جس میں وہ خود بھی شریک تھے۔ بعض حلقوں سے یہ اطلاعات آئیں کہ ڈیڈلاک اب بھی برقرار ہے مگر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی خبر میں کہا ہے کہ ممکنہ طور پر پاک بھارت سیریز اگلے ماہ سری لنکن سرزمین میں ہونے کا امکان ہے۔

بی بی سی کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ چونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ملک میں نہیں کھیلنا چاہتے بلکہ بھارت تو متحدہ عرب امارات میں بھی کھیلنے کے لیے راضی نہیں ہے اِس لیے سری لنکن سرزمین کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سیریز کو ممکن بنایا جاسکے۔

کہا جارہا ہے کہ پاکستان اِس فیصلے پر راضی ہوگیا ہے مگر بھارت کی جانب سے کچھ وقت مانگا گیا ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس 27 نومبر کو ہونے جارہا ہے جس میں اِس تجویز کے حوالے سے غور کیا جائے گا اور قوی امکان ہے کہ بھارت اِس تجویز پر عملدرآمد کے لیے ’رکاوٹ‘ نہیں بنے گا۔

لیکن شائقین کرکٹ کے لیے جو افسوس سے بھری خبر ہے وہ یہ کہ اگر بھارت نے ہاں بھی کردی تب بھی مکمل سیریز کا امکان ہر گز نہیں۔ معاہدے کے مطابق پاکستان اور بھارت کو دو ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے تھے لیکن چونکہ بھارت کو ایک روزہ سیریز کھیلنے کے لیے جنوری کے پہلے ہفتے آسٹریلیا روانہ ہونا ہے اِس لیے ممکن ہے کہ سیریز تین ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچوں تک محدود کردیا جائے۔

پاک بھارت سیریز کے حوالے سے جائلز کلارک کا کہنا ہے کہ دونوں بورڈز کے درمیان معاملات حل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاک بھارت سیریز صرف دونوں ممالک کے رہنے والے دیکھنا نہیں چاہتے بلکہ پوری دنیا دونوں کے مقابلے سے لطف اندوز ہوتی ہے، یہ کرکٹ سیریز کرکٹ کے مفاد میں ہے اور ہر صورت اِس کو ہونا چاہیے۔

گزشتہ روز شہریار خان نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں صرف اِتنا ہی کہا کہ ملاقات اچھے ماحول میں ہوئی جس میں پیشرفت ہوئی ہے، لیکن ملاقات کے حوالے سے جائلز کلارک آج یعنی پیر کو میڈیا کو بریفنگ دیں گے۔ اِس لیے جب تک کلارک خود میڈیا سے کچھ نہیں کہتے کسی بھی حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہی ہوگا۔

یاد رہے کہ سری لنکا 2002 میں بھی پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ کی میزبانی کرچکا ہے جو آسٹریلیا نے 41 رنز سے جیتا تھا، سیریز کے بقیہ دو ٹیسٹ میچ شارجہ میں کھیلے گئے تھے۔

Facebook Comments