اسپنرز کے لیے سازگار وکٹ پر بلے باز پھر پریشان

بھارت اور جنوبی افریقہ کے مابین کھیلے گئے ابتدائی دو ٹیسٹ میچوں کی طرح ناگپور میں جاری تیسرے ٹیسٹ کے پہلے دن وکٹ نے ایک بار پھر اسپنرز کی حمایت جاری رکھی جس کے سبب ایک بار پھر بلے باز پریشان دکھائی دیے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ پہلے ہی دن 12 وکٹیں گرگئی جن میں سے آٹھ وکٹیں اسپنرز کے حصے میں ہی آئی ہیں۔

بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کرتے وقت اُن کے پیش نظر یہی خیال ہوگا کہ بڑا اسکور کرکے جنوبی افریقہ کو ابتداء سے ہی دباو میں لے آیا جائے۔

اگرچہ آغاز تو اِسی قسم کا تھا اور سیریز میں پہلی مرتبہ بھارتی اوپننگ بلے باز 50 رنز کی شراکت دار قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ مگر یہیں سے بھارتی بلے بازوں کی وکٹیں گرنا شروع ہوگئی۔  شکھر دھون اِس میچ میں بھی ناکام ثابت ہوئے اور 12 رنز بنانے کے بعد ایلگر کی گیند کا شکار ہوگئے۔

پھر محض 19 رنز بعد یعنی 69 پر بھارت کی جانب سے اننگ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے مرلی وجے بھی مورنے مورکل کی گیند پر ڈھیر ہوگئے۔ اِس کے بعد جتنے بھی بلے باز آئے اُن میں صرف روہت شرما تھے جو اچھا آغاز نہ کرسکے لیکن بقیہ تمام بلے باز اچھے آغاز کے باوجود لمبی اننگ کھیلنے میں ناکام رہے اور یوں پوری بھارتی ٹیم محض 215 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے سائمن ہارمر سب سے کامیاب گیند باز رہے جنہوں نے 78 رنز کے عوض چار کھلاڑیوں کو آوٹ کیا جبکہ تیز گیند بازوں کے لیے وکٹ میں کچھ بھی مدد نہ ہونے کے باوجود مورنے مورکل نے شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کیا اور تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ جبکہ ڈین ایلگر، عمران طاہر اور کاگیسو رباڈا کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔

اگرچہ بھارتی ٹیم بہت زیادہ اسکور کرنے میں ناکام رہی مگر ابتدائی دو ٹیسٹ میچوں میں جنوبی افریقہ کے بلے بازوں کی کارکردگی دیکھتے ہوئے یہ بھی زیادہ لگ رہا تھا۔ اننگ کا آغاز ہوا تو جو خدشات ذہن پر تھے بالکل ویسا ہی ہوا اور جب ٹیم کا اسکور چار تک پہنچا تو روی چندرا اشوین نے لگاتار چوتھی اننگ میں چوتھی مرتبہ اسٹیان وین زائل کو صفر پر آوٹ کردیا۔ چونکہ دن ختم ہونے میں اب صرف چھ اوورز باقی تھے اِس لیے مہمان ٹیم نے نائٹ واچ مین کی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے عمران طاہر بھیجا گیا۔ عمران طاہر نے وکٹ پر پہنچتے ہی چوکا لگاکر اپنے ارادوں سے سب کو آگاہ کرنے کی کوشش تو کی مگر روینڈرا جڈیجا شاید ارادوں کو سمجھنے میں ناکام رہے اور مجموعی طور پر جب ٹیم کا اسکور نو تک پہنچا تو چار رنز بنانے والے عمران طاہر کو بولڈ کردیا۔

دو وکٹیں گرنے کے بعد آخری اوور ہونے کے بعد کپتان ہاشم آملہ بلے بازی کے لیے آئے اور آخر تک وکٹ پر موجود رہے اور یوں دن کے اختتام تک دو وکٹوں کے نقصان پر گیارہ رنز بنالیے۔

 

دن ختم ہونے تک جنوبی افریقہ کی ٹیم 204 رنز پیچھے تھی جبکہ اُس کی آٹھ وکٹیں باقی ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ اِس بار بھی بھارتی اسپنرز مشکلات کھڑی کریں گے یا پھر جنوبی افریقی بلے باز میچ میں واپس آنے کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں۔

Facebook Comments