ڈنیڈن میں نیوزی لینڈ کا غلبہ

نیوزی لینڈ اور سری لنکا کی مصروفیت میں ذرا سی بھی کمی نہیں آئی۔ ابھی پچھلے مہینے ہی سری لنکا اپنے میدانوں پر ویسٹ انڈیز سے کھیل رہا تھا جہاں اس نے شاندار کارکردگی پیش کی اورتینوں طرز کی سیریز میں فتوحات حاصل کیں۔ جبکہ نیوزی لینڈ نے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلی جہاں اسے دو-صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب دونوں ٹیمیں ڈنیڈن میں پہلے ٹیسٹ میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جہاں پہلے روز نیوزی لینڈ نے اوپنر مارٹن گپٹل،ان فارم کین ولیم سن اور کپتان برینڈن میک کولم کی شاندار بلے بازی کے نتیجے میں 409 رنز بنا لیے۔

سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز نے ٹاس جیت کر پہلے میزبان کو بلے بازی کی دعوت دی، جس کا اوپنر مارٹن گپٹل نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ 156 رنز کی شاندار اننگز دراصل ان کی تیسری ٹیسٹ سنچری تھی۔ جو ان کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ مسلسل خراب کارکردگی کی وجہ سے ان کی شمولیت پر سوالیہ نشانات اٹھنا شروع ہوگئے تھے۔ 234 گیندوں پر 21 چوکوں کی مدد سے کھیلی گئی اس اننگز کے دوران انہوں نے دوسری وکٹ پر کین ولیم سن کے ساتھ 173 رنز کی رفاقت قائم کی اور نیوزی لینڈ کا مجموعہ صرف ایک وکٹ پر 229 رنز تک پہنچا دیا۔ ولیم سن نے 88 رنز بنائے لیکن ان دونوں کے علاوہ صرف ایک ہی بلے باز مقابلے پر چھا سکے۔ وہ تھے کپتان برینڈن میک کولم۔ انہوں نے ٹیسٹ میں ایک روزہ کرکٹ کا رنگ دکھا دیا۔ صرف 57 گیندوں پر 75 رنز بنائے جس میں محض 33 گیندوں پر مکمل کی گئی نصف سنچری بھی شامل رہی۔ شائقین نے ان کی اننگز کو خوب سراہا شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ممکنہ طور پر یہ میک کولم کی آخری ٹیسٹ سیریز ہو۔

بہرحال، میک کولم کی برق رفتار اننگز نے ولیم سن کو گہنا دیا جنہوں نے 123 گیندوں پر 12 چوکوں کی مدد سے 88 رنز بنائے اور ایک قیمتی شراکت داری کے ذریعے مقابلے پر نیوزی لینڈ کی گرفت قائم کی۔ 56 رنز پر پہلی وکٹ گرنے کے بعد جب سری لنکا جلد از جلد وکٹیں حاصل کرنے کا خواہشمند تھا ان دونوں نے کریز پر قیام کیا اور مہمان گیندبازوں کے ارادوں کو ناکام کردیا۔

بہرحال، ان تینوں کے علاوہ کوئی بلے باز سری لنکا کے باؤلرز کا جم کر مقابلہ نہ کرسکا۔ تینوں نے مشترکہ طور پر 319 رنز بنائے تو باقی پانچ کھلاڑی صرف 81 رنز دے سکے۔ جب پہلے دن کا کھیل مکمل ہوا تو نیوزی لینڈ 8 وکٹوں پر 409 رنز بنا چکا تھا اور ڈوگ بریسویل 32 رنز پر کھڑے تھے۔

سری لنکا کی جانب سے سورنگا لکمل، نووان پردیپ اور دشمنتھا چمیرا نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ ملنڈا سری وردنے کے حصے میں ایک وکٹ آئی۔

مارٹن گپٹل کہتے ہیں کہ اس وکٹ پر کھیلنا آسان نہیں تھا کیونکہ میتھیوز نے وکٹ پر گھاس دیکھ کر ہی پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا تھا۔ گیند سوئنگ بھی ہو رہی تھی مگر بلے بازوں کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے ایک اچھا مجموعہ ممکن ہو سکا۔ کسی بھی ٹیم کے لیے ٹاس ہارنے کے بعد پہلے دن 400 رنز بنانا بہت خوشگوار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا اگر باقی دو کھلاڑیوں بھی کچھ رنز کر جائیں تو نیوزی لینڈ مقابلے میں مضبوط ترین پوزیشن پر آ جائے گا۔ لیکن اگر ایسا نہ بھی ہو سکا تو پریشان کن بات نہیں۔ جس مقام پر اس وقت نیوزی لینڈ موجود ہے یہاں سے جیتنا نسبتاً آسان ہے۔

Facebook Comments