برینڈن میک کولم نے دنیائے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا

یہ 2015ء کا عالمی کپ تھا جہاں برینڈن میک کولم کی جارحانہ بلے بازی اور قائدانہ انداز کی بدولت نیوزی لینڈ تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کے لیے حتمی مقابلے تک پہنچا۔ بدقسمتی سے فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی لیکن گزشتہ کافی عرصے سے میک کولم کی قیادت میں جس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ نیوزی لینڈ دکھا رہا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے امید بندھ گئی تھی کہ 2016ء کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں میک کولم اپنا اور ٹیم کے ادھورے خواب کی تعبیر ضرور پا لیں گے اور ایک روزہ نہ سہی لیکن ٹی ٹوئنٹی میں عالمی چیمپئن ضرور بنیں گے لیکن اس سے قبل ہی انہوں نے حیران کن طور پر بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز دو-صفر سے جیتنے کے بعد برینڈن میک کولم کہتے ہیں کہ وہ فروری میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد کرکٹ چھوڑ دیں گے۔ یعنی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے صرف ایک مہینہ قبل۔

34 سالہ بلے باز 20 فروری سے کرائسٹ چرچ میں شروع ہونے والے نیوزی لینڈ-آسٹریلیا ٹیسٹ میں آخری بار ایکشن میں نظر آئیں گے۔ میک کولم کہتے ہیں کہ’ہر سفر کا بہرحال اختتام ہوتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے 11 سال نیوزی لینڈ کی نمائندگی کی اور صرف نمائندگی نہیں بلکہ قیادت کا موقع بھی پایا۔‘ ریٹائرمنٹ کے بارے میں’ باز ‘کا کہنا تھا کہ اُن کی خواہش تھی کہ یہ اعلان ابھی نہ کیا جائے بلکہ آخری وقت میں ہو لیکن چونکہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے ٹیم کا اعلان ہونا ہے، اِس لیے مجبوراً شائقین کرکٹ کو یہ خبر جلدی سنانی پڑی۔

حال ہی میں ٹیسٹ کرکٹ میں 100 چھکے لگانے کا عالمی ریکارڈ برابر کرنے والے میک کولم کہتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کیریئر میں اب تک ملنے والے اعزازات پر اکتفا کرلیا جائے اور اس پر فخر محسوس کیا جائے۔ کرکٹ چھوڑنے کے لیے اس سے اچھا وقت کوئی اور ہو نہیں سکتا کہ آپ کے جانے کے بعد لوگ آپ کو اچھے نام سے یاد رکھیں۔

میک کولم نے کہا کہ اس وقت تمام تر توجہ ان مقابلوں پر مرکوز ہے، جو آنے والے دنوں میں ہوں گے، جہاں صرف سامنا ہی نہیں کرنا بلکہ جیتنا بھی ہے۔ اب ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میک کولم کے جانے کے بعد نیوزی لینڈ کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ان کی کمی محسوس نہ ہو۔ وہ کپتان بھی تو تھے اس لیے نیوزی لینڈ کو دوگنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے نیوزی لینڈ نے نائب کپتان کین ولیم سن کو فوری طور پر کپتان مقرر کردیا ہے۔

جب نیوزی لینڈ نے روس ٹیلر سے اچانک قیادت چھین کر عہدہ برینڈن میک کولم کو دیا تھا تو ٹیم منتشر تھی لیکن میک کولم کی سنجیدگی، ذمہ داری اور معاملہ فہمی سے حالات قابو میں آنے لگے یہاں تک کہ خود ٹیلر بھی ان کی قیادت میں کھیلنے لگے۔

میک کولم اب تک 31 مقابلوں میں نیوزی لینڈ کی قیادت کی ہے جن میں 11 میں فتوحات حاصل کیں اور 11 بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوئے جبکہ 9 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک روزہ میں بطور کپتان میک کولم کی جیت کی شرح 59.43 رہی اور انہی کے دور میں نیوزی لینڈ پہلی بار عالمی کپ کے فائنل تک پہنچا۔ میک کولم نے 2002ء میں آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کیا تھا جبکہ ٹیسٹ کے لیے انہیں مزید دو سال کا انتظار کرنا پڑا تھا جب جنوبی افریقہ کے خلاف انہیں خود کو ثابت کرنے کا پہلا موقع ملا۔ آسٹریلیا کے خلاف سیریز کا پہلا ٹیسٹ میک کولم کا 100 واں ٹیسٹ مقابلہ ہوگا۔ یہی نہیں بلکہ اس مقابلے کے ساتھ ہی میک کولم کرکٹ تاریخ کے واحد کھلاڑی بن جائیں گے جو اپنے ڈیبیو سے لے کر 100 ویں ٹیسٹ تک ایک بار بھی ٹیم سے نہیں نکالے گئے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز کے پاس تھا جنہوں نے کیریئر کے آغاز کے بعد لگاتار 98میچز کھیلے تھے۔ البتہ سب سے زیادہ لگاتار ٹیسٹ کھیلنے کا ریکارڈ اس وقت آسٹریلیا کے ایلن بارڈر کے پاس ہے جنہوں نے 153 ٹیسٹ کھیلے تھے۔ اب تک کھیلے گئے 99 ٹیسٹ میں میک کولم نے 38.48 کے اوسط سے 6273رنز بنا رکھے ہیں جن میں 11 سنچریاں اور 31 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ میک کولم نیوزی لینڈ کی تاریخ کے پہلے بلے باز ہیں جنہوں نے ٹیسٹ میں ٹرپل سنچری بنائی۔ وہ اسٹیفن فلیمنگ کے بعد نیوزی لینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بھی ہیں۔ فلیمنگ نے 111 مقابلوں میں 7172 رنز بنائے تھے۔

Facebook Comments