ورلڈ ٹی ٹوئنٹی، نیوزی لینڈ تین اسپن باؤلرز کے ساتھ میدان میں اترے گا

پُراعتماد نیوزی لینڈ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے اپنے 15 رکنی دستے کا اعلان کردیا ہے جس میں’جیسا دیس ویسا بھیس‘ کے مصداق تین اسپن گیندبازوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ بھارتی وکٹوں سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جاسکے۔

سال کے اہم ترین ٹورنامنٹ کے لیے اعلان کردہ دستے میں مچل سینٹنر اور ایش سودھی کے ساتھ ساتھ حیران کن طور پر نیتھن میک کولم بھی شامل ہیں، جو آخری بار اگست میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے تھے۔ البتہ سینٹنر اور سودھی نے سری لنکا اور پاکستان کے خلاف حالیہ مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔

دستے کا اعلان کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کوچ مائیک ہیسن کا کہنا تھا کہ بھارتی وکٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تین اسپنرز کو منتخب کیا گیا ہے، یہ تینوں ایسے گیند باز ہیں جو پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہیسن کا کہنا تھا کہ نیتھن میک کولم کی آمد ٹیم کے لیے یقیناً اچھی خبر ہے کیونکہ وہ غیر ملکی وکٹوں پر کھیلنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ پھر میک کولم اور سینٹنر ایسے گیند باز ہیں جو ابتدائی 6 اوورز میں بھی گیند بازی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں کپتان کین ولیم سن کو بہتر ٹیم منتخب کرنے کا موقع میسر آئے گا۔

پاکستان کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں موقع حاصل کرنے والے ٹوڈ ایسٹل ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے دستے میں جگہ نہیں پا سکے۔ 2012ء میں سری لنکا کے خلاف پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ایسٹل کو پاکستان کے مقابلے میں ایک بار پھر اِس لیے موقع دیا گیا تاکہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے دستہ منتخب کرنے سے پہلے اُن کی کارکردگی بھی جانچ لی جائے اور مضبوط ترین ٹیم کا انتخاب یقینی بنایا جائے۔ لیکن پاکستان کے خلاف ابتدائی دو مقابلوں میں میں جب اُن کو کوئی وکٹ حاصل نہیں ملی۔ یوں نہ صرف تیسرے مقابلے میں باہر بٹھا دیے گئے، بلکہ اِسی کارکردگی کی وجہ سے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے بھی باہر ہوگئے۔

تین اسپنرز کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ نے بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے ہینری نکلس کو بھی طلب کیا ہے۔ پاکستان کے خلاف پہلے ایک روزہ میں 99 رنز پر 6 کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد یہ نکلس کی 82 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز تھی جس نے میزبان کو 280 رنز تک پہنچایا اور نیوزی لینڈ یہ مقابلہ جیتا بھی اور نکلس کو بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔ بلے بازی کے ساتھ ساتھ نکلس وکٹوں کے پیچھے ذمہ داری بھی سنبھال سکتے ہیں۔

"مشکل حالات میں نکلس سے جس ذمہ دارانہ کردار کی امید تھی، انہوں نے پاکستان کے خلاف پہلے ایک روزہ میں ویسا ہی کر دکھایا۔ پھر وکٹ کیپنگ کی اضافی صلاحیت کی وجہ سے ٹیم میں ان کا انتخاب بالکل درست فیصلہ ہے۔" مائیک ہیسن نے کہا۔

زخمی ٹم ساؤتھی، مچل میک کلیناگھن اور روس ٹیلر بھی دستے میں شامل ہیں، جن کے حوالے سے قوی امید ہے کہ وہ میگا ایونٹ سے قبل مکمل فٹ ہو جائیں گے۔ لیکن ان کے انتخاب کی وجہ سے میٹ ہنری کو موقع نہیں مل سکا۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں نیوزی لینڈ کو گروپ 2 میں رکھا گیا ہے جہاں اس کا مقابلہ آسٹریلیا، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور عمان سے ہوگا۔ اسے بلاشبہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا 'گروپ آف ڈیتھ' کہا جا سکتا ہے۔ بہرحال، نیوزی لینڈ کا پہلا مقابلہ 15 مارچ کو ناگ پور میں میزبان بھارت کے خلاف ہوگا۔

اعلان کردہ دستہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:

کین ولیم سن (کپتان)، ایڈم ملن، ایش سودھی، ٹرینٹ بولٹ، ٹم ساؤتھی، روس ٹیلر، کوری اینڈرسن، کولن منرو، گرانٹ ایلیٹ، لیوک رونکی (وکٹ کیپر)، مارٹن گپٹل، مچل سینٹنر، مچل میک کلیناگھن، نیتھن میک کولم اور ہنری نکلس۔

Facebook Comments