پاکستان کا 'ایل کلاسیکو' اور محمد عامر کی ہیٹ ٹرک

پاکستان کے روایتی حریف، کراچی اور لاہور، مدمقابل آئے تو کروڑوں نظریں مقابل 22 کھلاڑیوں پر تھیں لیکن میلہ لوٹا صرف ایک نے، محمد عامر نے!

اسپاٹ فکسنگ جیسے بدترین اسکینڈل میں پھنسنے والے محمد عامر کبھی دنیا بھر کی آنکھوں کا تارا تھے، انہیں "مستقبل کا وسیم اکرم" کہا جاتا تھا لیکن اس تنازع نے انہیں سب کی نظروں میں گرا دیا۔ معافی تلافی کے باوجود عامر کے لیے اب بھی "سب اچھا" کے حالات نہیں ہیں۔ انہیں اپنی کارکردگی سے اپنے گناہ کے داغ دھونے ہیں اور پاکستان سپر لیگ میں اپنے پہلے ہی مقابلے میں ہیٹ ٹرک نے ان کے دامن کو مزید صاف کیا ہے۔

جب محمد عامر کے ایک، ایک قدم پر کروڑوں نظریں ہیں، کوئی اور ہوتا تو اتنے دباؤ تلے دب ہی جاتا لیکن عامر کی خوش قسمتی یہ ہے کہ جتنے ان کے ناقدین ہیں، اس سے زیادہ ان کے حامی میدان میں موجود ہیں۔ جب لاہور قلندرز کے خلاف انہیں پہلا اوور تھمایا گیا تو میدان میں تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد "عامر، عامر" کے نعرے بلند کر رہی تھی۔

عامر نے اپنے تیسرے اوور میں کمال کر دکھایا، پہلے ڈیوین براوو کو ایک خوبصورت گیند پر کلین بولڈ کیا۔ اگلی گیند پر زوہیب خان انہیں پیڈل سویپ کی کوشش کرنے میں وکٹ کیپر کو کیچ دے گئے اور تیسری گیند پر عامر نے ثابت کیا کہ ان کا دماغ کتنا چلتا ہے۔ انہوں نے بعد میں خود بتایا کہ جب کیون کوپر کھیلنے کے لیے آئے تھے تو مجھے اندازہ تھا کہ وہ ایک یارکر کی توقع رکھیں گے، اس لیے میں نے لینتھ بال پھینکی اور وہ وکٹوں کے بالکل سامنے دھر لیے گئے۔

140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والی یہ گیند کوپر اور اس کے ساتھ ہی لاہور قلندرز کے حوصلے توڑنے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔ اس ہیٹ ٹرک کی بدولت کراچی کنگز نے پاکستان کا 'ایل کلاسیکو' باآسانی جیتا۔

بلاشبہ اس ہیٹ ٹرک کی بدولت محمد عامر نے اپنی 'حقیقی قید' سے رہائی کی سمت ایک اور قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے میدان میں موجود ہزاروں تماشائیوں کے دل تو جیت لیے ہیں لیکن پی ایس ایل میں بہترین کارکردگی انہیں ناقدین کو خاموش کرانے میں بھی مدد دے گی۔

mohammad-amir

Facebook Comments