"لالا" یا "مصباح"، آج کون کھیلے گا اپنا آخری مقابلہ؟

پاکستان سپر لیگ کا پہلا سیزن اب اپنے بالکل اختتامی مرحلے میں ہے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ناقابل یقین کارکردگی دکھانے کے بعد فائنل میں جگہ پا چکا ہے کہ جو 23 فروری کو دبئی میں کھیلا جائے گا لیکن اس کا مدمقابل کون ہوگا؟ اس کا فیصلہ آج ہوگا کہ جب شاہد آفریدی کی زیر قیادت پشاور زلمی مصباح الحق کے اسلام آباد یونائیٹڈ کا سامنا کریں گے۔ یہاں جو ہارا وہ وطن واپسی کی راہ لے گا۔

پاکستان سپر لیگ کے پہلے مرحلے میں نمبر ایک پوزیشن حاصل کرنے والے پشاور کو پلے آف1 میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد کوئٹہ کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے پلے آف 2 میں کراچی کنگز کو ہرایا۔ یوں اب دونوں ٹیموں پلے آف3 میں مقابل آئی ہیں، یعنی وہ مقابلہ کہ جو درحقیقت سیمی فائنل کی صورت اختیار کرگیا ہے۔

بلاشبہ پشاور زلمی 'فیورٹ' ہے، وجہ؟ اس نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو پہلے مرحلے میں دونوں باہمی مقابلوں میں شکست دی تھی لیکن اسلام آباد یونائیٹڈ کو اب آسان حریف سمجھنا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ پشاور زلمی کے خلاف آخری مقابلے میں شکست کے بعد اسلام آباد نے مسلسل تین میچز جیتے ہیں اور جس طرح اس نے پلے آف 3 میں کراچی کو ہرایا ہے اس نے پشاور کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ پھر پشاور اعصاب کو تہہ و بالا کر دینے والے مقابلے میں شکست کھانے کے بعد آیا ہے، اس لیے اعتماد بلندی کی اس سطح پر تو نہیں ہوگا کہ جو پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد سرفہرست پوزیشن حاصل کرکے پایا گیا تھا۔ پھر بھی یہ بات پشاور کے لیے اطمینان کا باعث ہوگی کہ اسلام آباد نے ابھی تک کراچی اور لاہور جیسی ٹیموں کے علاوہ کسی کو شکست نہیں دی اور یہی یونائیٹڈ کا بڑا امتحان ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  پرانے "لالا" کی جھلک، پشاور نمبر ایک
Shaun-Tait

اگر کھلاڑیوں کو دیکھا جائے تو پشاور کو تمیم اقبال کی خدمات دستیاب نہیں ہوں گی کہ جو اسلام آباد کے خلاف ان کی دونوں فتوحات کے اہم کردار رہے ہیں۔ کامران اکمل کی پے در پے ناکامیوں کے بعد محمد حفیظ پر ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ ٹیم میں ایک اچھا اضافہ جانی بیئرسٹو کی صورت میں ہوا ہے کہ جو ایک عمدہ بلے باز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شاندار فیلڈر ہیں اور ان کی موجودگی پہلے ہی مقابلے میں اچھی طرح محسوس ہوئی تھی۔ کیا پشاور جانی بیئرسٹو کی وکٹ کیپنگ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کامران اکمل کو باہر بٹھانے کا فیصلہ کرے گا؟ ہے تو مشکل لیکن اگر اس سے بیٹنگ لائن کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے تو شاہد آفریدی کو یہ قدم ضرور اٹھانا چاہیے۔ پھر بھی امکان یہی ہے کہ ٹیم ان کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اترے گی:

محمد حفیظ، کامران اکمل، بریڈ ہوج، جانی بیئرسٹو، شاہد یوسف، ڈیرن سیمی، شاہد آفریدی (کپتان)، وہاب ریاض، حسن علی، محمد اصغر اور شان ٹیٹ۔

دوسری جانب اسلام آباد یونائیٹڈ کو ڈیوین اسمتھ کی شمولیت سے بہت سہارا ملا ہے کہ جنہوں نے زخمی شین واٹسن کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ گزشتہ مقابلے میں ان کی ناقابل شکست سنچری کو بریڈ ہیڈن کا بھی بھرپور ساتھ حاصل رہا بلکہ ہیڈن کی کارکردگی تو آخر میں خوب نکھر کر سامنے آئی ہے اور اس ناک آؤٹ میں بھی ان کا کردار اہم ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ پشاور کے خلاف باؤلنگ کو مضبوط بنانے کے لیے اسلام آباد سعید اجمل اور اظہر محمود کو واپس لائے۔ ممکنہ طور پر اسلام آباد یونائیٹڈ یہ ٹیم میدان میں اتارے گا:

ڈیوین اسمتھ، شرجیل خان، بریڈ ہیڈن، خالد لطیف، مصباح الحق (کپتان)، آندرے رسل، آصف علی، اظہر محمود، سعید اجمل، محمد سمیع اور محمد عرفان۔

Facebook Comments