ٹی ٹوئنٹی کے بیس

چھٹا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ایک ایسے موقع پر شروع ہو رہا ہے جب مختصر ترین طرز کی کرکٹ اپنے 11 سال مکمل کرچکی ہے۔ صرف ایک دہائی میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی مقبول ترین طرز بن چکی ہے۔ آئیے اپنے پسندیدہ کرکٹ فارمیٹ کو "عجیب و غریب اعداد و شمار" کے زاویے سے دیکھتے ہیں:

(نوٹ: یہ تمام اعداد و شمار سال 2015ء تک کے اختتام یعنی 31 دسمبر تک کے ہیں۔ یہ معروف آن لائن کرکٹ جریدے "The Cricket Monthly" پر شائع ہونے والے مضمون "Twenty from T20" کا ترجمہ ہے)

17

Morne-Morkel

کسی بھی باؤلر کی طرف سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں دی گئی سب سے زیادہ فری ہٹس ہیں، جو جنوبی افریقی باؤلر مورنے مورکل نے دیں۔ جس پر انہوں نے 25 رنز کھائے۔

دوسرے نمبر پر پاکستان کےسہیل تنویر رہے، جنہوں نے 16 فری ہٹس دیں، لیکن انہوں نے رنز صرف 18 ہی کھائے۔ فری ہٹس پر سب سے زیادہ رنز ویسٹ انڈیز کے روی رامپال نے دیے، جنہوں نے 11 فری ہٹس دیں اور 29 رنز کھائے۔ جنوبی افریقہ کے وین پارنیل کو 8 پر 20، پاکستان کے عمر گل کو 9 پر 21 رنز پڑ چکے ہیں۔

فری ہٹ پر سب سے برا اکانمی ریٹ

(کم از کم 5 گیندیں)

گیندباز رنز گیندیں چوکے چھکے ڈاٹ بالز اکانمی ریٹ
سنیل نرائن 20 5  0 3  0 24
کائل ملز 16 5 2 1 1 19.20
لاستھ مالنگا 18 6 3  0  0 18
فیڈل ایڈورڈز 19 7  0 2 1 16.29
روی رامپال 29 11 3 2 2 15.82

فری ہٹ پر سب سے اچھا اکانمی ریٹ

(کم از کم 5 گیندیں)

گیندباز رنز گیندیں چوکے چھکے ڈاٹ بالز اکانمی ریٹ
دولت زدران 1 5  0  0 4 1.20
مچل جانسن 3 5  0  0 3 3.60
سہیل تنویر 18 16 2  0 5 6.75
مورنے مورکل 25 17 2 1 7 8.82
جیکب اورم 8 5  0 1 2 9.60

3.91

2009ء تک پاور پلیز میں سپنرز نے 3.91 فیصد اوورز پھینکے۔ لیکن 2010ء کے آغاز سے لے کر پاور پلیز میں سپنرز کے اوورز پھینکنے کی شرح 482 فیصد اضافے کے ساتھ 22.77 فیصد ہو گئی ہے۔ 2010ء سے 2015ء کے درمیان پاور پلے میں سپنرز کا بولنگ اوسط 23.70 فی وکٹ جبکہ اکانمی ریٹ 6.49 فی اوور رہا۔ جبکہ اسی دورانیے میں سیمرز کا بولنگ اوسط 28.30 اور اکانومی ریٹ 7.13 رہا۔

150.17

کسی بھی بیٹسمین کا پہلی دس گیندوں پر سب سے زیادہ سٹرائیک ریٹ ہے۔ اور یہ کارنامہ شاہد آفریدی کا ہے۔ جو کم از کم 500 رنز بنانے والے تمام بیٹسمینوں سے سب سے زیادہ ہے۔

دوسرا نمبر ان کے "پشاور زلمی" کے ساتھی ڈیرن سیمی کا ہے، جن کا پہلی دس گیندوں پہ سٹرائیک ریٹ 141.46 ہے۔ اس فہرست میں زیادہ تر مڈل آرڈر والے بیٹسمین ہیں، لیکن حیران کن طور پر کین ولیم سن بھی اس میں چھٹے نمبر پر موجود ہیں۔ جن کا سٹرائیک ریٹ 130.36 ہے۔

best-t20i-strike-rates-on-first-ten-balls

440

انگلستان کے کریگ کیزویٹر کا فری ہٹ پہ سٹرائیک ریٹ 440 ہے۔ جو کم از کم 4 فری ہٹ کھیلنے والے تمام بیٹسمینوں سے زیادہ ہے۔

کیزویٹر نے 3 چھکوں کے ساتھ 5 گیندوں پر 22 رنز بنائے۔ شین واٹسن نے 4 پر 13 اور روس ٹیلر نے 4 گیندوں پر 12 رنز بنائے۔

فری ہٹ پر بہترین اسٹرائیک ریٹ

(کم از کم 4 گیندیں)

بلے باز رنز گیندیں چوکے چھکے کل باؤنڈریز اکانمی ریٹ
کریگ کیزویٹر 22 5  0 3 3 440
شین واٹسن 13 4  0 2 2 325
روس ٹیلر 12 4 1 1 2 300
مارٹن گپٹل 14 5 3  0 3 280
ایلٹن چگمبورا 13 5 1 1 2 260

فری ہٹ پر بدترین اسٹرائیک ریٹ

(کم از کم 4 گیندیں)

بلے باز رنز گیندیں چوکے چھکے کل باؤنڈریز اکانمی ریٹ
تمیم اقبال  0 4  0  0  0  0
تلکارتنے دلشان 5 5 1  0 1 100
ایلکس ہیلز 7 6 1  0 1 116.67
شاہد آفریدی 8 6  0 1 1 133.33
سریش رینا 6 4 1  0 1 150

4.93

جنوری 2010ء سے لے کر اب تک پاور پلیز میں کم از کم 30 اوورز پھینکنے والے باؤلرز میں سعید اجمل کا اکانمی ریٹ سب سے بہترین ہے، جو محض 4.93 ہے۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے ممکنہ سپنرز میں سے سیموئیل بدری کا پاور پلے اکانمی ریٹ سب سے بہترین ہے، جو 5.59 ہے۔ ان کے بعد شکیب الحسن کا نمبر ہے۔ جن کا پاور پلے میں اکانمی ریٹ 6.05 ہے۔

پاور پلے میں سپنرز کا بہترین اکانومی ریٹ

گیند باز رنز گیندیں وکٹیں اوسط اکانمی ریٹ چوکے چھکے
سعید اجمل 153 186 10 15.30 4.93 20 1
محمد حفیظ 234 258 8 29.25 5.44 22 6
سیموئل بدری 347 372 19 18.26 5.59 47 4
شکیب الحسن 191 204 11 17.36 5.61 23 4
پراسپر اتسیا 192 186 6 32.00 6.19 24 2

1.49-

ویسٹ انڈیز کے سیموئیل بدری کا ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ میں اوور کی پہلی چار اور آخری دو گیندوں پر اکانمی ریٹ کا فرق 1.49- ہے۔

پہلی چار گیندوں پہ بدری کا اوسط اکانمی ریٹ 4.89 ہے لیکن آخری دو گیندوں پہ یہ بڑھ کر 6.38 ہو جاتا ہے (جو ٹی ٹوئنٹی میں ایک اچھا اکانمی ریٹ ہے)۔ ہم وطن ڈیوین براوو بھی اپنا اوور کا خراب اختتام کرتے ہیں، ان کا آخری دو گیندوں پہ اکانمی ریٹ 9.25 ہو جاتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پہلی چار گیندوں پہ 8.15 ہوتا ہے۔

عمران طاہر بھی ان باؤلرز میں شامل ہیں جن کا اکانمی ریٹ اوور کے درمیان ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔ طاہر کی پہلی چار گیندوں پہ اکانمی ریٹ 6.99 ہوتا ہے جبکہ آخری دو پہ صرف 5.49۔ اسی طرح رویندرا جدیجا کا پہلی چار گیندوں پر اکانمی ریٹ 7.80 ہوتا ہے جبکہ آخری دو پہ 6.32، سٹیون فن کا پہلی چار گیندوں پہ 7.73 اور آخری دو پہ 6.46۔

6

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے دو مکمل اراکین کے درمیان کسی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل مقابلے میں میں آخری اوور میں کم از کم جتنے رنز کا دفاع کیا گیا ہے، وہ صرف 6 ہیں۔

پہلی مرتبہ یہ جنوبی افریقہ بمقابلہ نیوزی لینڈ مقابلے میں ہوا۔ 2012ء میں آکلینڈ میں کھیلے گئے میچ میں مرچنٹ دے لانگ نے صرف 3 رنز دیے جب جنوبی افریقہ کو 7 رنز کے دفاع کی ضرورت تھی۔ اسی طرح ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء میں چٹاکانگ میں کھیلے گئے میچ میں جنوبی افریقہ ہی کے ڈیل سٹین نےصرف چار رنز دیے، جب مقابل نیوزی لینڈ ہی کو 7 رنز کی ضرورت تھی۔ البتہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے کم رنز کا دفاع کا اعزاز عمان کے بلال خان کے پاس ہے۔ جنہوں نے ہانگ کانگ کے خلاف میچ میں صرف 1 رن دیا جب ہانگ کانگ کو 6 رنز کی ضرورت تھی۔

77.2

کم از کم 500 رنز بنانے والے بلے بازوں میں سے پہلی دس گیندوں اور بقیہ اننگز کے سٹرائیک ریٹ میں سب سے زیادہ فرق 77.2 ہے۔ یہ فرق انگلستان کے لیوک رائٹ کا ہے۔

پہلے پانچ کھلاڑیوں کے علاوہ اس فہرست میں قابل ذکر ناموں میں ڈیرن سیمی (فرق 61.93)، مارلون سیموئیلز (55.18) اور کیرون پولارڈ (53.16) شامل ہیں۔

highest-difference-between-strike-rates

8

یہ تعداد سب سے زیادہ رن آؤٹس کی ہے جو ڈیرن سیمی نے کیے ہیں۔

سات رن آؤٹس کے ساتھ تلکارتنے دلشان کا دوسرا نمبر ہے۔ جبکہ ڈیرن براوو اور ڈیوڈ ملر چھ، چھ رن آؤٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ وکٹ کیپرز میں سے مہندر سنگھ دھونی سات رن آؤٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔

(نوٹ: اس میں صرف وہی فیلڈر شامل ہیں جو وکٹ کیپر، باؤلر یا کسی فیلڈر کی طرف تھرو کریں یا پھر ڈائریکٹ ہٹ کریں۔ وکٹ کیپرز کے لیے صرف ڈائریکٹ ہٹ کو مدنظر رکھا گیا ہے)

5.66-

یہ پہلی دس گیندوں اور بقیہ اننگز کے سٹرائیک ریٹ کا فرق ہے، جو سری لنکن کوشال پیریرا کا ہے۔

پیریرا اُن تین بیٹسمینوں میں شامل ہیں۔ جن کا "سکورنگ پیٹرن" مختلف ہے۔ باقی دو شاہد آفریدی اور کین ولیم سن ہیں۔ آفریدی کا پہلی دس گیندوں پہ سٹرائیک ریٹ 150.17 ہوتا ہے جو بعد میں 4 فیصد گر کر 144.20 ہو جاتا ہے، جبکہ ولیم سن کا 2 فیصد کم ہوتا ہے۔

کم رفتار سے سکور بڑھانے والے بیٹسمین

(کم از کم 500 رنز)

بلے باز رنز گیندیں سٹرائیک ریٹ رنز گیندیں سٹرائیک ریٹ سٹرائیک ریٹ میں فرق فیصد میں فرق
کوشال پیریرا 270 190 139.35 324 250 129.60 -7.77 -5.66
شاہد آفریدی 877 584 150.17 390 276 144.20 -5.97 -3.97
کین ولیم سن 292 224 130.36 377 295 127.00 -2.56 -1.96
ہاشم آملا 297 249 119.20 403 322 125.16 5.88 4.93
ولیم پورٹرفیلڈ 340 325 104.62 394 349 112.89 8.28 7.91

6

نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ 6 مرتبہ ایسے ہدف کا کامیابی سے دفاع کر چکے ہیں جب مخالف کو آخری اوور میں جیت کے لیے 6 اور 15 کے درمیان رنز کی ضرورت تھی۔

نیوزی لینڈ سات میں سے ایسے چھ میچز جیت چکا ہے جبکہ جنوبی افریقہ 12 میں سے چھ۔ نیوزی لینڈ 10 میں سے پانچ ایسے میچز ہار بھی چکا ہے جب اسے آخری اوور میں جیت کے لیے 6 اور 15 کے درمیان رنز کی ضرورت تھی۔ جبکہ دوسرا نمبر پاکستان کا ہے جو 19 میں سے 9 ایسے مقابلے ہار چکا ہے۔

جب مخالف ٹیم کو جیت کے لیے آخری اوور میں 6 اور 10 کے درمیان رنز کی ضرورت ہو تو فیلڈنگ ٹیم صرف 30 فیصد مقابلوں میں ہدف کا دفاع کر سکی ہے یعنی 50 میں سے 15 مقابلوں میں۔ جبکہ جب آخری اوور میں ہدف بڑھ کر 11 اور 15 کے درمیان ہو تو فیلڈنگ ٹیم 70 فیصد میچز جیتی ہے یعنی 30 میں سے 21۔

Dale Steyn celebrates after sealing South Africa's World Twenty20 win against New Zealand

97

یہ سب سے زیادہ رنز ہیں، جو ویسٹ انڈیز نے فری ہٹ پہ کھائے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کا فری ہٹ پہ اکانمی ریٹ 16.17 ہے جو بنگلہ دیش کے 17.25 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

ویسے فری ہٹ پہ سب سے زیادہ رن ریٹ زمبابوے کا ہے جبکہ دوسرا نمبر انڈیا کا ہے۔ فری ہٹ پہ رن ریٹ اور اکانمی ریٹ کے فرق میں آسٹریلیا سب سے آگے ہے جبکہ دوسرا نمبر زمبابوے کا ہے۔ ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش آخر پہ ہیں۔

فری ہٹ پہ ٹیم کا رن ریٹ اور اکانومی ریٹ

ملک رنز گیندیں رن ریٹ رنز کھائے گیندیں اکانمی ریٹ فرق
آسٹریلیا 46 20 13.00 55 32 10.31 3.49
زمبابوے 33 13 15.23 28 14 12 3.23
انگلستان 73 32 13.69 26 14 11.14 2.54
نیوزی لینڈ 51 20 10.93 39 26 9 1.93
پاکستان 87 39 13.30 85 37 13.70 -0.40
بھارت 53 22 14.45 46 18 15.33 -0.88
جنوبی افریقہ 25 18 8.33 60 36 10 -1.67
سری لنکا 50 22 13.64 26 10 15.60 -1.96
ویسٹ انڈیز 30 21 10.86 97 36 16.17 -5.31
بنگلہ دیش 21 22 5.3 23 8 17.25 -11.52

11

پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیمیں عموماً 11 اوورز کے بعد اپنے سکور کو ڈبل کر لیتی ہیں۔

2012ء سے اب تک ابتدائی 11 اوورز میں ٹیموں کا اوسط 77.56 رہا ہے جبکہ آخری 9 اوورز میں 77.37۔ 2008ء اور 2011ء کے درمیان 11 اوورز میں ایوریج 77.03 جبکہ آخری 9 اوورز میں 72.96 تھا۔

2012ء سے پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کا ابتدائی 4 اوورز میں اوسط سکور 42.77 رہا۔ درمیانی اوورز میں (یعنی 7 سے 14 میں) 57.49 اور آخری 6 اوورز میں 54.67 رہا۔ آخری 3 اوورز میں 29.67 اوسط اسکور رہا ہے۔

20 اوورز کا اوسط 2008ء سے 2011ء کے درمیان 150 سے بڑھ کر 2012ء سے اب تک 155 ہوچکا ہے۔

average-runs-per-over

64

کرس گیل اپنی ابتدائی دس گیندوں میں سے 64 فیصد پر کوئی رن نہیں بنا پاے۔ یہ کم از کم 500 رنز بنانے والے بلے بازوں میں سب سے زیادہ ہے۔

اس فہرست میں پہلے پانچ اوپنرز ہی ہیں، اور اس کی وجہ نئی گیند اور فیلڈنگ پابندیاں ہو سکتی ہیں۔

پہلی دس گیندوں میں سے زیادہ ڈاٹ بال کھیلنے والے بیٹسمین

بلے باز رنز گیندیں سٹرائیک ریٹ ڈاٹ بالز فیصد
کرس گیل 406 350 113.41 228 64
احمد شہزاد 294 324 90.74 204 63
سنتھ جے سوریا 259 221 117.19 139 63
ولیم پورٹرفیلڈ 340 325 104.62 202 62
کریگ کیزویٹر 208 224 92.86 139 62

17

ساتویں سے 14 ویں اوور کے درمیان یہ ہے عمران طاہر کا سٹرائیک ریٹ ہے، یعنی فی وکٹ گیندیں۔

عمران طاہر کی ان اوورز کے دوران اوسط یعنی رنز فی وکٹ 18.44 ہے۔ کم از کم 300 گیندیں پھینکنے والے سرفہرست دس ٹیموں کے باؤلرز میں سے صرف دو ہی اس سے بہتر سٹرائیک ریٹ رکھتے ہیں، گریم سوان 16.39 اور اجنتھا مینڈس 16.78۔ اینجلو میتھیوز کا درمیانی اوورز میں سب سے برا سٹرائیک ریٹ اور اکانومی ریٹ ہے۔ میتھوز کا درمیانی اوورز میں سٹرائیک ریٹ 44، اکانومی ریٹ 7.7 اور ایوریج 56.14 ہے۔

195.81

یہ برینڈن میک کولم کا آخری چھ اوورز میں اسٹرائیک ریٹ ہے۔ ان اوورز میں کم از کم 300 رنز بنانے والے بلے بازوں میں یہ سب سے زیادہ ہے۔

اس فہرست کے ٹاپ چھ کھلاڑیوں میں ہسی برادران، یووراج سنگھ، ایون مورگن اور ابراہم ڈی ولیئرز شامل ہیں۔ اس فہرست میں دھونی 144.85 کے سٹرائیک ریٹ کے ساتھ 26 ویں اور آفریدی 150.73 کے کے ساتھ 21 ویں نمبر پر ہیں۔

آخری 6 اوورز میں چھکے لگانے کے حساب سے یووراج پہلے نمبر پر ہیں جو ہر 7.47 گیندوں پہ ایک چھکا لگاتے ہیں۔ دھونی ہر 19.86 اور آفریدی ہر 11.39 گیندوں پر ایک چھکا لگاتے ہیں۔

آخری چھ اوورز میں بہترین سٹرائیک ریٹ

(آخری چھ اوورز میں کم از کم 300 رنز بنانے والی بیٹسمین)

بلے باز سٹرائیک ریٹ گیندیں فی چھکا
برینڈن میک کولم 195.01 8.27
ڈیوڈ ہسی 180.92 7.86
مائیکل ہسی 171.6 12.79
ایون مورگن 170.83 9.93
ابراہم ڈی ولیئرز 170.83 11.29
یووراج سنگھ 170.29 7.47

6.28

یہ ہے ویسٹ انڈیز کے سنیل نرائن کا آخری 6 اوورز میں اکانمی ریٹ۔ یہ آخری چھ اوورز میں کم از کم 180 گیندیں پھینکنے والے باؤلرز میں سب سے بہترین ہے۔

نرائن اس دورانیے میں ہر 23 گیندوں پر ایک چھکا کھاتے ہیں۔ آخری 6 اوورز میں سب سے بری اکانمی بنگلہ دیش کے کپتان مشرفی مرتضیٰ کی ہے جو 10.81 ہے جبکہ ڈیون براوو 10.16 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

economy-rate-in-last-six-overs

17

آخری اوورز میں سب سے زیادہ رنز کہ جن کے دفاع میں کوئی باؤلر ناکام ہوا ہو۔ جی ہاں! وہی "منحوس" میچ کہ جب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010ء کے سیمی فائنل میں سعید اجمل نے آخری اوور میں 23 رنز کھائے، اس وقت جب آسٹریلیا کو 18 رنز کی ضرورت تھی۔ بنگلہ دیش کے ناصر حسین نے گزشتہ سال زمبابوے کے مقابلے میں 18 رنز کھائے تھے۔

18

جنوبی افریقہ کے فیلڈرز کی جانب سے کیے گئے رن آؤٹس اور جنوبی افریقہ کے بیٹسمینوں کے رن آؤٹس میں 18 کا فرق ہے۔ جو کسی بھی ٹیم سے زیادہ ہے۔

دوسرا نمبر ویسٹ انڈیز کا ہے جن کا فرق 13 ہے جبکہ سری لنکا 12 کے فرق کے ساتھ تیسرے نمبر پہ ہے۔ بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کا فرق منفی میں سب ٹیموں سے زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش کے بلے باز اپنے فیلڈرز کے کیے گئے رن آؤٹس سے 15 مرتبہ زیادہ رن آؤٹ ہوئے۔ نیوزی لینڈ کا فرق 13 ہے۔

batting-run-outs-fielding-run-outs

Facebook Comments