شاہد آفریدی، جدید کرکٹ کا معمار

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے بھارت جانے سے پہلے اور بھارت پہنچنے کے بعد، پاکستان کے کھلاڑیوں کے لیے ہر طرف پریشانیاں ہی پریشانیاں تھیں۔ جانے سے پہلے یہ پریشانی کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کھیلنے کی اجازت ملے گی یا نہیں؟ پھر جب اجازت ملی تو اتنی تاخیر سے کہ ایک وارم اپ مقابلہ بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ جب پہنچے تو شاہد آفریدی کی جانب سے بھارت میں محبت ملنے کے حوالے سے بیان نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ پاکستان کا ذرائع ابلاغ، عوام، سیاست دان یہاں تک کہ سابق کھلاڑی تک آگ بگولا ہوگئے۔ جاوید میانداد جیسے کھلاڑی نے ٹیلی وژن پر براہ راست پروگرام کے دوران ’لعنت‘ تک دے ڈالی۔ اس صورت حال میں پاکستان کو اپنا پہلا مقابلہ بنگلہ دیش سے کھیلنا تھا۔ ’ بنگال ٹائیگرز‘ کے خلاف مقابلہ تو مقابلہ تصور ہی نہ ہوتا تھا لیکن گزشہ سال ایک روزہ سیریز میں کلین سویپ ہزیمت اور پھر ایشیا کپ میں ملنے والی حالیہ رسوائی کے بعد یہ پاک-بنگلہ مقابلہ بہت اہمیت اختیار کرگیا تھا۔

ٹیم پاکستان کی موجودہ حالت کی ذمہ داری مکمل طور پر کپتان شاہد آفریدی پر ڈالی جا رہی تھی کہ وہ نہ خود اچھا کھیل رہے ہیں اور نہ ہی کھلاڑیوں کو لڑوا رہے ہیں۔ یقیناً یہ وقت "لالا" کے لیے آسان نہیں تھا۔ شاید یہی ذہنی دباؤ تھا کہ وہ بھارت پہنچتے ہی بیمار پڑ گئے لیکن بنگلہ دیش کے خلاف مقابلے سے قبل صحت یاب ہوئے اور اپنے پورے تجربے کو میچ میں خوب استعمال کیا۔

202 رنز کے ہدف کا دفاع کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے چار اوورز میں 27 رنز دے کے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ وہ بھی کوئی بلے باز نہیں بلکہ سب سے خطرناک تمیم اقبال اور شبیر رحمٰن کی۔ یہ کارکردگی ہر لحاظ سے شاندار تھی لیکن اس سے پہلے انہوں نے وہ کر دکھایا، جس کے لیے وہ "ابتدا" سے مشہور ہیں۔

جب وہ بلے بازی کے لیے میدان میں اترے تھے تو پاکستان کے 14 اوورز میں دو وکٹوں پر 121 رنز تھے۔ یہاں انہوں نے ابتدائی بلے بازوں کی جانب سے فراہم کردہ آغاز کا فائدہ اٹھایا اور صرف 19 گیندوں پر 4 چھکوں اور اتنے ہی چوکوں کی مدد سے 49 رنز بنا ڈالے۔ نصف سنچری مکمل کرنے سے صرف ایک رن کے فاصلے پر وہ آؤٹ ہوئے۔ ان کی موجودگی میں صرف 35 گیندوں پر 77 رنز کا اضافہ ہوا۔

موٹے تازے بلّوں کی آمد سے کرکٹ کا نقشہ ہی تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ یہ تبدیلی کرکٹ کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ، لیکن اس تبدیلی کا فائدہ بلے بازوں کو خوب ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ نے وہ تصویر بھی دیکھی جس میں بیری رچرڈز اپنے اور ڈیوڈ وارنر کے بلّے کا تقابل پیش کررہے ہیں۔ نہیں دیکھی تو یہ دیکھ لیں:

Barry-Richards

کرس گیل، ابراہم ڈی ولیئرز اور برینڈن میک کولم انہی "ہتھیاروں" کی مدد سے موجودہ دور کے خطرناک ترین بلے باز بنے لیکن آج سے 20 سال پہلے یہی کام شاہد آفریدی کرتے تھے جب اتنے توانا بلّے نہیں ہوتے تھے۔ "لالا" یہ کام کرتے تھے اپنے مضبوط ہاتھوں، کندھوں اور بھرپور طاقت کے بل بوتے پر اور ایسے ایسے ریکارڈز قائم کیے جنہیں دیکھ کر آج بھی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

درحقیقت آج جو کرکٹ کھیلی جا رہی ہے، وہ اس کرکٹ سے بالکل مختلف ہے جو ہمارے آبا کھیلتے تھے۔ اس وقت یہ کھیل صرف تفریح کا ذریعہ تھا، لیکن آج ایک کاروبار بن چکا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ کاروباری تقاضے کچھ اور ہی ہوتے ہیں۔

جس برانڈ کی کرکٹ آج کھیلی جا رہی ہے، اس طرز کا کھیل سب سے پہلے شاہد آفریدی نے پیش کیا۔ آج پوری دنیا اس کھیل کو پسند کرتی ہے، چاہتی ہے، مانتی ہے اور اس سے بھرپور لگاؤ رکھتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر شاہد آفریدی فٹ بالر ہوتے تو کھیل شروع ہوتے ہی گول کرنے کا رواج بھی ہو جاتا۔

کرکٹ تاریخ میں صرف ایک ہی شاہد آفریدی تھا، ایک ہی ہے، اور ایک ہی رہے گا۔ دنیا کو دوبارہ ایسا کھلاڑی دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ آپ ان کی عمر اور کارکردگی کو بنیاد بنا کر مذاق تو اڑا سکتے ہیں لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ بدترین حالات کے باوجود آج جب وہ میدان میں اترتے ہیں تو شائقین انہیں دیکھنے سے خود کو روک نہیں سکتے۔

ممکن ہے کہ شاہد آفریدی نے اپنے کیریئر میں تن تنہا بہت زیادہ مقابلے جتوائے ہوں، گو کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے میچز کی تعداد کافی زیادہ ہے، یا پھر آپ ان کی قیادت میں ٹیم کارکردگی سے مطمئن نہ ہوں، لیکن 20 سال پہلے "لالا" نے اپنی پہلی ہی اننگز سے جس کرکٹ کی بنیاد رکھی تھی، وہ آج اپنی مقبولیت کی انتہا پر پہنچ چکی ہے۔

Facebook Comments