کرکٹ میں میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال شروع ہوگیا

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ آسٹریلیا دنیا کی فٹ ترین ٹیموں میں سے ایک ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے آسٹریلیا ہمیشہ جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ دورۂ سری لنکا سے پہلے اپنے تیز گیند بازوں کے لیے آسٹریلیا ایسی ٹیکنالوجی بروئے کار لا رہا ہے جو اس سے پہلے محض فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔

دورے کی تیاریوں کے لیے آسٹریلیا "تارپیڈو ٹیکنالوجی" استعمال کررہا ہے جو عام طور پر آبدوزوں اور گائیڈڈ میزائلوں میں استعمال ہوتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے تیز باؤلرز کے زخمی ہونے کے امکانات بھی کم سے کم ہو جائيں گے اور ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

کھلاڑیوں پر کام کا کتنا بوجھ ہے، اس بارے میں موجودہ تمام نظاموں کے ناقص ہونے کی وجہ سے آسٹریلیا کی کیتھولک یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے یہ نیا الگورتھم مرتب کیا ہے۔ رائج نظام میں صرف گیندوں کی پھینکی گئی تعداد کو دیکھا جاتا ہے، ان کی شدت اور انہیں پھینکنے کے لیے درکار محنت پر غور نہیں ہوتا۔

ایک برطانوی جریدے میں سائنس دانوں نے تمام کوچز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گائیڈڈ میزائل مائیکروٹیکنالوجی کا استعمال کریں، جو نئی بنائی گئی ویئرایبل یعنی پہننے کے قابل ڈیوائسز میں نصب کی گئی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی آبدوزوں، گائیڈڈ میزائلوں اور خلائی جہازوں کو چلانے میں کام آتی ہے۔

سائنس دان اور محقق ڈین میک نمارا کے مطابق ہر پھینکی گئی گیند کو ایکسلرومیٹر اور گائروسکوپ ٹیکنالوجی کے ذریعے نوٹ کیا جاتا ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر گيند پر کتنا دم لگایا گیا ہے اور اس کے بعد تھکن یا زیادہ دیر تک باؤلنگ کروانے کی وجہ سے کارکردگی میں کیسا فرق پڑتا ہے۔ اس لیے یہ نئی ٹیکنالوجی نہ صرف آسٹریلیا کے تیز گیند بازوں کے زخمی ہونے کے خدشات کم کرے گی بلکہ کارکردگی بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

یہی ٹیکنالوجی کرکٹ کے علاوہ بیس بال، رگبی، ٹینس اور فٹ بال میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ محقق اس وقت آسٹریلیا کے کرکٹ کھلاڑیوں کے علاوہ ویلز کی رگبی ٹیم کے ساتھ بھی یہ ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں۔

australia-team

Facebook Comments