پاکستان سے مقابلہ، انگلستان ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کرنے کا خواہشمند

سال 2016ء کے اہم ترین دورے کے لیے پاکستان کی انگلستان روانگی میں صرف ایک مہینہ رہ گیا ہے۔ ایک طرف جہاں پاکستان کے کھلاڑی اس دورے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں، وہیں انگلستان کے کھلاڑی سری لنکا کے خلاف لہو گرما رہے ہیں اور منتظمین آئندہ سیریز کے لیے حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے اس سلسلے میں پاکستان کے سابق آف اسپن گیندباز ثقلین مشتاق سے رابطہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف سیریز میں انگلش باؤلرز کو اسپن باؤلنگ پر مشاورت دیں۔

14 جولائی سے لارڈز میں پہلے ٹیسٹ کے ذریعے شروع ہونے والی سیریز میں چار ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی مقابلہ کھیلا جائے گا، جس کے لیے قومی کرکٹ ٹیم اگلے ماہ کے اواخر میں انگلستان روانہ ہوگی۔ ثقلین مشتاق تاریخ کے بہترین آف اسپن گیندبازوں میں شمار ہوتے تھے بلکہ جدید آف اسپن باؤلنگ کے سب سے بڑے ہتھیار "دوسرا" کے خالق تھے۔ اگر وہ انگلستان کے لیے کام کرنے پر راضی ہوگئے تو یہ آف اسپنر معین علی کے لیے بہت بڑی خبر ہوگی۔

پاکستان اور انگلستان کے مابین آخری سیریز گزشتہ سال نومبر میں متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی تھی جہاں اسپن باؤلنگ کے لیے حالات انگلستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ سازگار تھے، لیکن معین علی اور عادل رشید تین ٹیسٹ میں 17 وکٹیں ہی لے سکے اور سیریز دو-صفر سے پاکستان نے جیتی۔ گو کہ انگلش کنڈیشنز تیز باؤلرز کے لیے زیادہ سازگار ہوں گی لیکن معین علی ثقلین مشتاق کے تجربے سے فائدہ حاصل کرکے مصباح الحق، یونس خان اور دیگر پاکستانی بلے بازوں کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں۔

ماضی میں مشتاق احمد انگلستان کے لیے چھ سال تک اسپن باؤلنگ کوچ رہے چکے ہیں۔ انہوں نے 2008ء سے 2014ء تک یہ ذمہ داری نبھائی اور اس دوران گریم سوان کو بین الاقوامی کرکٹ میں اہم اسپن باؤلر بنایا۔ مشتاق کی روانگی کے بعد سے اب تک انگلستان نے کوئی اسپن باؤلنگ کوچ نہیں رکھا اور ثقلین سے بھی عارضی خدمات کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔

ثقلین مشتاق ماضی میں ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے لیے بھی کام کر چکے ہیں اور پاکستان کے سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کی بہتری کے لیے بھی انہی کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

saqlain-mushtaq2

Facebook Comments