اسد شفیق میں تنڈولکر کی جھلک دکھائی دیتی ہے: مکی آرتھر

پاکستان کے کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ "اسد شفیق کو کھیلتا دیکھ کے ان کے ذہن میں سچن تنڈولکر کا تصور آتا ہے۔" دنیائے کرکٹ میں کسی بلے باز کا تقابل سچن سے کیا جائے، اس سے بڑا اعزاز کوئی اور ہو نہیں سکتا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ ماہ انگلستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں شاندار فتوحات کے بعد کوچ کی نظر میں اسد شفیق کا کیا مقام ہے۔

30 سالہ شفیق نے اوول میں ہونے والے چوتھے اور اہم ترین ٹیسٹ مقابلے میں فاتحانہ سنچری بنائی تھی، جس کی بدولت پاکستان سیریز دو-دو سے برابر کرنے میں کامیاب ہوا اور یوں عالمی درجہ بندی میں پہلی بار نمبر ایک بنا۔

ماضی میں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کی کوچنگ کرکے انہیں نمبر ایک مقام تک پہنچانے والے مکی آرتھر اب یہ منفرد اعزاز پاکستان کو بھی دلاچکے ہیں، یعنی ان کی زیر تربیت یہ تیسری ٹیم ہے جس نے دنیا میں سرفہرست مقام حاصل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسد شفیق تکنیکی لحاظ سے پاکستان کے بہترین بلے باز ہیں، بلکہ یہ تک کہہ گئے کہ جب اسد شفیق میدان میں کھیلتے ہیں تو انہیں تنڈولکر کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

اسد شفیق انگلستان کے دورے پر فارم میں بھی نظر آئے۔ انہوں نے لارڈز میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں 73 اور 49 رنز کی اننگز کھیلیں اور پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ اولڈ ٹریفرڈ اور ایجبسٹن کی شکستوں کی ایک اہم وجہ اسد شفیق کا نہ چلنا بھی تھا یہاں تک کہ تیسرے ٹیسٹ میں وہ 'پیئر' کی ہزیمت سے دوچار ہوئے یعنی دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے۔ لیکن اوول میں انہوں نے 109 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ یہ اسد شفیق کی نویں سنچری تھی اور ایشیا سے باہر دوسری، جو نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے آئندہ دوروں سے پہلے نیک شگون ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نمبر 8 سے نجات پانے کیلئے ’’نمبر2‘‘ کرکٹ بدلنا ہوگی!

مکی آرتھر کہتے ہیں کہ اسد شفیق کو تیسرے نمبر پر اس لیے کھلایا گیا کیونکہ محمد حفیظ کو باہر کیا گیا تھا۔ ٹیم میں چند بلے باز ہیں جو اس پوزیشن پر کھیلنا چاہتے ہیں اس لیے جو جسمانی، ذہنی، تکنیکی اعتبار سے مضبوط ہوگا وہ اس مقام پر کھیلے گا۔ تکنیکی طور پر ہمارے بہترین بلے باز کو نمبر 3 پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اسد شفیق سے بہت متاثر ہوا ہوں، وہ بیٹنگ آرڈر میں اوپر کھیلنا چاہتے ہیں۔ برمنگھم میں 'پیئر' کے بعد اوول میں وہ اوپر کھیلنے آئے اور سنچری بنا ڈالی۔ یہ ان کے مزاج اور مہارت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔

پاکستان اب متحدہ عرب امارات میں ویسٹ انڈیز کی میزبانی کرے گا جس کا آغاز 23 ستمبر کو تین ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی سیریز سے ہوگا جس کے بعد تین ایک رزہ اور پھر 13 اکتوبر تین ٹیسٹ کی سیریز شروع ہوگی۔ اس کے بعد پاکستان نومبر میں دو ٹیسٹ کھیلنے کے لیے نیوزی لینڈ جائے گا اور پھر 15 دسمبر سے آسٹریلیا کے خلاف سیریز شروع ہوگی۔

asad-shafiq-sachin-tendulkar

Facebook Comments