کیا سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہو پائے گا؟

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب کے عمل کے بعد اب صرف تین مہینے کا عرصہ باقی رہ گیا ہے۔ فروری کے اوائل میں ہم متحدہ عرب امارات کے میدانوں پر ایک اور زبردست سیزن شروع ہوتے دیکھیں گے کہ جس کا اختتام ممکنہ طور پر لاہور میں ہوگا۔ پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی کے بقول بورڈ کی کوشش ہے کہ پی ایس ایل2 کا فائنل لاہور میں کھیلا جائے۔ اس فیصلے کا جہاں ملک بھر میں زبردست خیرمقدم کیا گیا ہے وہیں پر چند حلقوں کی طرف سے پریشانی بھی ظاہر کی گئی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹرز کی انجمن "فیکا" بھی پاکستان کے حالات کو بدستور کرکٹ کے لیے ناموزوں قرار دیتے ہوئے کھلاڑیوں کو لاہور نہ جانے کا مشورہ دے چکی ہے۔

ایک طرف جہاں کئی کھلاڑی لاہور یاترا پر مثبت اشارے دے چکے ہیں، جن میں اس انگلستان کے کھلاڑی بھی شامل ہیں کہ جو بنگلہ دیش جانے میں بھی نخرے دکھا چکے ہیں۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ بھی کھلاڑیوں کے لاہور جانے پر معترض نہیں اور یہی وجہ ہے کہ کسی حد تک لاہور میں تاریخی فائنل ممکن دکھائی دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس معاملے میں کافی بدقسمت ہے۔ جیسے ہی پاکستان کے کرکٹ میدانوں کی رونق بحال ہونے کی امید پیدا ہوتی ہے، دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آ جاتا ہے۔ طویل عرصے بعد حالات بہتر ہونے لگے تو کراچی میں مہران بیس کا واقعہ پیش آ گیا، پھر جیسے ہی سب پر سکون لگنے لگا لاہور میں سانحہ گلشن اقبال پارک ہوا، اب حال ہی میں کوئٹہ دہشت گردی کا واقعہ، جس کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال سے خدشات پھر سر اٹھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  راشد لطیف کو منانے کی مہم، نجم سیٹھی خود میدان میں

بہرحال، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے انگلش کھلاڑیوں لیوک رائٹ، کیون پیٹرسن، ٹائمل ملز اور ڈیوڈ ولی کا یہ عزم حوصلہ افزا ہے کہ اگر کوئٹہ فائنل تک پہنچا اور سکیورٹی کو یقینی بنایا گیا تو وہ لاہور کھیلنے ضرور جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ایس ایل 2 کے لیے منتخب ہونے والے ایون مورگن اور ایلکس ہیلز، جنہوں نے سکیورٹی خدشات پر بنگلہ دیش کے حالیہ دورے سے انکار کردیا تھا، لاہور آنے کے سلسلے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

ویسے نجم سیٹھی کو مشورے دیے جا رہے ہیں کہ وہ فائنل کو لاہور سے منتقل کردیں، لیکن چیئرمین پی ایس ایل کا کہنا ہے کہ یہ بات معاہدے میں شامل ہے کہ اگر ان کی ٹیم فائنل میں پہنچے گی تو وہ کھلاڑیوں کی لاہور آمد کو یقینی بنائیں گے اور کھلاڑیوں نے بھی اس سے اتفاق کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے بھی کھلاڑیوں کو وی آئی پی سکیورٹی دینے کا وعدہ کیا ہے اس لیے یہ بات کافی حد تک حتمی ہے کہ فائنل لاہور ہی میں کھیلا جائے گا۔ البتہ "فیکا" جیسی انجمنوں کا اس پر خدشات کا اظہار کرنا معاملہ کھٹائی میں ڈال سکتا ہے۔

Facebook Comments