ایک مرتبہ پھر بال ٹیمپرنگ کا ہنگامہ

کہنے کو تو یہ کہا جاتا ہے کہ مغرب میں تہذیب و اخلاق ہے، جبکہ کھیل کے میدان میں تو ہمیں یہ کہیں نظر نہیں آتا۔ ریورس سوئنگ جب پاکستانی باؤلرز کرتے تھے تو وہ گیند سے چھیڑ چھاڑ کے مرتکب قرار پاتے تھے، لیکن جب انگلینڈ کے باؤلرز سیکھ گئے تو "آرٹ" بن گیا۔ آج بھی ان کے لیے ایک شکست ہضم کرنا مشکل ہو جاتا ہے جیسا کہ آسٹریلیا کے لیے پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 177 رنز کی ہار قبول کرنا۔ ویسے بھی "سپورٹس مین سپرٹ" آسٹریلیا کے لیے بڑا مشکل کام رہا ہے۔ جب مخالف بلے بازی ان پر بھاری پڑنے لگتے ہیں تو ان کے ساتھ نوک جھونک شروع کر دیتے ہیں اور اگر گیند بازی بھاری محسوس ہوجائے تو الزام تراشی شروع۔ جی ہاں! آسٹریلیا نے ایک بدترین شکست کے بعد یہ واویلا شروع کردیا ہے کہ جنوبی افریقہ نے بال ٹیمپرنگ یعنی گیند سے چھیڑ چھاڑ کی۔

جنوبی افریقہ کے کپتان فف دو پلیسی نے آسٹریلیا کے اس رویے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا شکست کا غم غلط کرنے کا نامناسب طریقہ اپنا رہا ہے اور حقائق کے منافی بال ٹیمپرنگ کا رنگ دے رہا ہے۔ "گیند کا غیر معمولی طور پر ریورس سوئنگ ہونا ہمارے لئے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ تھا جتنا آسٹریلیا کو درپیش تھا۔ میں نے پرتھ میں پہلی اننگز کا مشاہدہ کیا تھا کہ 25 اوورز تک گیند عام روش سے زیادہ ہی ریورس ہو رہی تھی۔ معلوم ہوا کہ آسٹریلیا کے کھلاڑی غیر ضروری طور پر گیند کو زور سے زمین پر مار رہے تھے تاکہ وہ خراب ہو اور وہ ریورس حاصل کریں۔ یہ طریقہ بالکل قانونی لگتا تھا کیونکہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کر رہا تھا۔"

یہ بھی پڑھیں:  بال ٹمپرنگ کا جن بوتل سے باہر، دو پلیسی کی گیند سے چھیڑچھاڑ

پروٹیز قائد نے مزید کہا کہ ہمارے گیند باز بہت اچھے ہیں اور انہیں بھی گیند کو سوئنگ کرنے میں مزا آتا ہے اور یہ کہنا کہ گیند صرف ہمارے لیے سوئنگ ہو رہی تھی، درست نہیں۔"

ٹیسٹ کپتان ابراہم ڈی ولیئرز کے زخمی ہونے کے بعد ان کے قائم مقام کی حیثیت سے منصب سنبھالنے والے دو پلیسی نے اپنے کھلاڑیوں کی تعریف کی اور کہا کہ پورا دستہ جیت کے جذبے سے سرشار ہے اور باقی مقابلوں میں ـھی کامیابی حاصل کرکے آسٹریلیا کو مسلسل تیسری سیریز میں شکست دینے کا عزم رکھتا ہے۔

جنوبی افریقہ نے 2008ء اور 2012ء میں آسٹریلیا کو شکست دی تھی۔ آسٹریلیا میں کھیلے گئے گزشتہ 7 میں سے صرف ایک ٹیسٹ میں پروٹیز کو شکست ہوئی ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آسٹریلیا کی حالت کیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ بال ٹیمپرنگ جیسے الزامات پر اتر آیا ہے۔

ویسے جنوبی افریقہ کا ماضی بھی اتنا صاف نہیں ہے۔ اکتوبر 2013ء میں پاکستان کے خلاف ایک ٹیسٹ میں خود فف دو پلیسی بال ٹیمپرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے اور انہیں جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ اس لیے کچھ تو پرتھ میں بھی ہوا ہی ہوگا، آخر "رائی موجود تھی، تبھی تو پہاڑ بنا۔"

Facebook Comments