’’فولاد‘‘عالم!!

عمر: 31سال

فرسٹ کلاس رنز: 10ہزار سے زائد

اوسط: 57 سے زائد

سنچریاں: 25

سیزن میں ہزار سے زائد رنز: تین مرتبہ

سیزن میں50سے زائد کی اوسط: 11

ٹیسٹ ڈیبیو: 169رنز کی اننگز

بیرون ملک ٹیسٹ ڈیبیو پر اپنے ملک کیلئے سب سے بڑی اننگز کا اعزاز

مجموعی ٹیسٹ میچز: صرف تین!

یہ اعدادوشمار میں نے خود سے نہیں بنائے اور نہ ہی یہ کسی ماضی کے کھلاڑی کے ریکارڈز ہیں جسے انٹرنیشنل کرکٹ میں ملنے والے محدود مواقع پر صرف افسوس کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ اعداد و شمار 31سالہ فواد عالم کے ہیں جس نے آج اپنے فرسٹ کلاس کیرئیر کے 10 ہزار رنز 211 اننگز میں مکمل کیے اور اگر پاکستانی کھلاڑیوں میں تیز ترین 10 ہزار رنز کے ریکارڈ کھنگالے جائیں تو حنیف محمد(189اننگز)کے بعد سب سے کم اننگز میں یہ سنگ میل فواد عالم نے عبور کیا ہے جس نے محمد یوسف (219اننگز)اور مصباح الحق(221اننگز)جیسے بیٹسمینوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے مگر قسمت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ ٹیسٹ ڈیبیو پر 169رنز کی اننگز کھیلنے کے باوجود فواد عالم کو گزشتہ سات برسوں میں ایک مرتبہ بھی ٹیسٹ میچ نہیں کھلایاگیا۔ صرف تین ٹیسٹ میچز کھیلنے والے کھلاڑی کو اس مرتبہ سنٹرل کانٹریکٹس سے بھی محروم کرکے یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ کو فواد عالم جیسے بیٹسمین کی قطعی ضرورت نہیں ہے چاہے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں فواد عالم کی ہر صورت جگہ بنتی ہو!

فواد عالم بہت مضبوط اعصاب کا مالک انسان ہے کیونکہ جس طرح کا سلوک پاکستان کرکٹ بورڈ گزشتہ سات آٹھ برسوں سے فواد عالم کیساتھ کررہا ہے وہ کسی بھی کھلاڑی کو مایوسی کا شکار کرکے اس کھیل سے دور کرسکتا ہے مگر فواد عالم ہر سیزن میں پہلے سے زیادہ مضبوطی کیساتھ سامنے آکر پی سی بی حکام کو بغلیں جھانکنے پر مجبور کردیتا ہے۔فواد کی کہانی بہت عجیب ہے اور سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کا آغاز کہاں سے کیا جائے کیونکہ اس کہانی کے ہرصفحے پر ناانصافی کا لفظ لکھا ہوا ہے۔2009ء میں سری لنکامیں169رنز کی اننگز کیساتھ ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے فواد کو اسی سال صرف دو مزید ٹیسٹ میچز ملے، 2010ء کے بارہ مہینوں میں فواد عالم نے ون ڈے انٹرنیشنلز میں شاہد آفریدی اور عمر اکمل کے بعد پاکستان کیلئے سب سے زیادہ رنز بنائے مگر ورلڈ کپ 2011ء فواد عالم نے اپنے گھر میں بیٹھ کر دیکھا۔فواد ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کرتا رہا اور ساڑھے تین سال بعد سلیکٹرز کو کھبے بیٹسمین پر ترس آگیا جس نے ایشیا کپ 2014ء میں اپنے انٹرنیشنل کیرئیر کا دوبارہ آغاز 74،114* اور 62 رنز کی اننگز کیساتھ کرتے ہوئے اُن لوگوں کو منہ چھپانے کے قابل بھی نہ چھوڑا جو مسلسل فواد کو ناانصافی کا شکار بنا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  جب شارجہ پاکستانی بیٹنگ کا قبرستان بنا

ایشیا کپ میں غیر معمولی کارکردگی کے بعد فواد عالم آسٹریلیا کیخلاف ہوم سیریز میں صرف اننگز میں ناکام ہوا تو بائیں ہاتھ کے بیٹسمین کو عالمی کپ سے محروم کردیا گیا۔ورلڈ کپ کے بعد بنگلہ دیش میں تین اننگز کے دوران 18رنز فواد عالم کی ناکامی تھی جس کے بعد وہ کسی بھی طرز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے سے محروم ہے۔ 2014-15ء کے فرسٹ کلاس سیزن میں 72کی اوسط سے رنز کرنے اور سری لنکا میں اے ٹیم کی جانب سے عمدہ کارکردگی دکھانے کے بعد فواد عالم کو انگلینڈ کیخلاف ہوم سیریز میں ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنایا گیا مگر فائنل الیون کا حصہ شعیب ملک کو بنایا گیا۔اس سیریز میں شعیب ملک کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے باوجود دورہ انگلینڈ کیلئے فواد عالم کو فائنل الیون تو کجا اسکواڈ کا حصہ بھی بنانا مناسب نہ سمجھا گیا۔ انگلینڈ میں افتخار احمد کو ٹیسٹ کرکٹر بنا دیا گیا ،یونس خان کے متبادل کے طور پر بابر اعظم کو کھلایا، آل راؤنڈر کا ٹیگ لگا کر محمد نواز کو ٹیسٹ کرکٹ میں اُتارا گیا مگر تسلسل کیساتھ کارکردگی دکھانے والے فواد عالم کو کہیں بھی نہیں آزما گیا جسے کبھی کبھار اے ٹیم کی کپتانی کی ’’چوسنی‘‘ دے دی جاتی ہے۔

فواد عالم کی دس ہزار فرسٹ کلاس رنز تک رسائی صرف انفرادی سنگ میل نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کرکٹ کے پورے سسٹم پر طمانچہ ہے جو ایک بہترین کھلاڑی کو ضائع کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ ماضی میں ایسے کئی کھلاڑی پی سی بی کی غلط پالیسیوں کی بھینٹ چڑھنے کے بعد مایوسی کا شکار ہونے کے بعد قبل از وقت کرکٹ چھوڑ بیٹھے تھے مگر فواد ...فولاد کا بنا ہوا ہے جس کی صلاحیت کو نہ زنگ لگتا ہے اور نہ وہ کسی ناانصافی پر مایوس ہوکر محنت کرنا چھوڑ دیتا ہے بلکہ وہ ہر آنے والے دن پہلے سے زیادہ بہتر پرفارمنس دکھاتے ہوئے اپنے ناقدین کو خاموش اور کرکٹ بورڈ کو شرمندہ کررہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  شاہد آفریدی، تنازعات کی بدولت میڈیا کی آنکھ کا تارا

فواد عالم ناانصافی کا شکار ضرورہے مگر مایوس ہرگز نہیں ہے جسے یقین ہے کہ اُس کا وقت ضرور آئے گا جسے ایک ’’عالم‘‘ دیکھے گا اور ایسا ہوگا بھی مگر جن لوگوں نے فواد عالم کو انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس لانے کا فیصلہ کرنا ہے انہیں اب یہ سوچنا ہے کہ وہ مزید ’’شرمندہ‘‘ ہوناچاہتے ہیں یا پھر انہیں ’’شرم‘‘ آگئی ہے!

fawad-alam

Facebook Comments