عبدالرزاق بھی ہمت ہار گیا!

کل ایک خبر پڑھی کہ عبدالرزاق نے بحثیت اسسٹنٹ اور بالنگ کوچ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو جوائن کرلیا ہے۔ رزاق سے پہلے بھی کئی کھلاڑیوں نے ’’سابق‘‘ ہونے کے بعد کوچنگ کے میدان میں قدم رکھا اور ٹی20لیگز کی آمد کے بعد کوچنگ کی ’’نوکریوں‘‘ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ اس لیے پڑھنے میں تو یہ خبر عام سی معلوم ہوئی مگر چند سطروں کی اس خبر کے پیچھے کئی برسوں سے محیط پوری کہانی چھپی ہوئی ہے جس نے رنجیدہ کردیا۔

اگر پاکستانی آل راؤنڈرز کی فہرست بنائی جائے تو عمران خان کے بعد جو دوسرا نام ذہن میں آتا ہے وہ عبدالرزاق کا ہے اور رزاق کے کارناموں کی فہرست بھی عمران خان کی طرح طویل ہے لیکن جب ان دونوں آل راؤنڈرز کی پوزیشن اور انہیں کیرئیر کے دوران ملنے والی احترام پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو عبدالرزاق کسی بھی طرح عمران خان کے ہم پلہ دکھائی نہیں دیتے بلکہ دونوں میں کسی بھی طرح کا کوئی مقابلہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ پانچ سال پہلے اپنا آخری ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے عبدالرزاق کی صلاحیتوں کی گواہی آج بھی دی جاتی ہے اور جب بھی 2010ء میں جنوبی افریقہ کیخلاف عبدالرزاق کی طوفانی سنچری کی جھلکیاں ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ کیا کوئی بیٹسمین اس طرح بھی مخالف ٹیم کے بخیے ادھیڑتے ہوئے شکست کے منہ سے فتح نکال سکتا ہے مگر یہ عبدالرزاق کی ہی خوبی تھی جو ایک طرف سفاکانہ انداز سے بیٹنگ کرتے ہوئے بالرز کو دہلا دیتا ہے تو دوسری جانب 1999ء کے ورلڈ کپ میں نمبر تین پر ’’پنچ بلاکر‘‘ کا کردار بخوبی نبھانے والا بھی عبدالرزاق ہی ہے ۔اس کے علاوہ بالنگ کے شعبے میں بھی عبدالرزاق کی کارکردگی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے مگر اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ عبدالرزاق کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کا وہ حقدار تھا اور اسے ایسی وقت میں کوچنگ میں ’’جائے پناہ‘‘ تلاش کرنا پڑی جب اس کے ہم عمر کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

جس طرح بیٹنگ میں صلاحیت سے زیادہ درست ٹائمنگ کیساتھ کھیلے گئے اسٹروک کی اہمیت ہوتی ہے بالکل اسی طرح کامیابی بھی زندگی میں صحیح وقت پر کیے گئے صحیح فیصلوں کی محتاج ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے عبدالرزاق کبھی بھی درست وقت پر یہ فیصلے نہ کرسکے جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ اگر عبدالرزاق اور شاہد آفریدی کے کیرئیر کا ہی جائزہ لیا جائے تو شہرت کے اعتبار سے دونوں میں بہت بڑا فرق دکھائی دے گا۔ شاہد آفریدی نے عبدالرزاق کے انٹرنیشنل ڈیبیو سے صرف تین ماہ پہلے اپنا کیرئیر شروع کیا ۔ اس سے قبل دونوں پاکستان کی انڈر19ٹیم کا اہم حصہ تھے مگر شاہد آفریدی ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوکر شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے جبکہ رزاق کی گاڑی دھکا اسٹارٹ ہی رہی۔آفریدی کے کیرئیر میں بہت سے اسکینڈلز (کرکٹ سے متعلقہ)بنے ، شاہد آفریدی نے متعدد مرتبہ ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کیا ،کیرئیر کے آخری حصے میں وہ ٹیم پر بوجھ بھی بن گئے مگر اس کے باوجود شاہد آفریدی نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا، تینوں فارمیٹس میں قومی ٹیم کی کپتانی بھی کی، اپنی مرضی کے کھلاڑیوں کو ٹیم میں منتخب بھی کروایا مگر رزاق یہ سب کچھ نہ کرسکیں جنہیں 2006ء میں انضمام کی عدم موجودگی میں ایک مرتبہ کپتانی کے قابل سمجھا گیا جس کے بعد یہ باب بھی بند ہوگیا اور متعدد جونیئر کھلاڑیوں نے پاکستانی ٹیم کی قیادت کی۔

یہ بھی پڑھیں:  شاداب جیسے نوجوانوں کو موقع چاہیئے!

عبدالرزاق کے کارناموں کی تعداد بے شمار ہے مگر آل راؤنڈر نے اپنے کھیل کی نشونما نہیں کی بلکہ صرف قدرتی صلاحیت پر ہی بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی راہ تلاش کی ۔اس کے علاوہ عبدالرزاق اپنی شخصیت کو بھی پروان نہیں چڑھا سکاجو اتنے برس انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے باوجود’’موقع پرستی‘‘ کا گر نہ جان سکا۔کھیل کے دنوں میں دوسروں تک اپنی بات پہنچانے میں دشواری کا سامنا کرنے والے عبدالرزاق کیلئے کوچ کی حیثیت سے اپنی منصوبہ بندی کھلاڑیوں تک پہنچانا آسان نہ ہوگا۔ عبدالرزاق اگر اپنی شخصیت کو پروان نہ چڑھا سکے تو دوسری طرف پی سی بی نے ایسا کرنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اہم مواقع پر دیے گئے غلط بیانات نے عبدالرزاق کا انٹرنیشنل کیرئیر ختم کردیا جو بہت آسانی کیساتھ طوالت اختیار کرسکتا تھاجبکہ قومی ٹیم سے باہر ہونے کے بعد عبدالرزاق نے ڈومیسٹک کرکٹ کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا اور متعدد مرتبہ قومی ٹی20کپ سے چند دن قبل اپنی عدم دستیابی ظاہر کرکے مزید مشکلات کھڑی کرلیں۔

عبدالرزاق کا بالنگ کوچ بن جانا ممکن ہے کہ دوسروں کیلئے ایک عام سی خبر ہو مگر میرے لیے خبر بہت بڑی ہے کہ گزشتہ برسوں میں کبھی کبھار اپنی واپسی کی کوششیں کرنے والا عبدالرزاق ہمت ہار گیا ہے جس نے میدان کے اندر اپنی صلاحیتوں کی بدولت ہمیشہ ناممکن کو ممکن بنانے کی کوشش کی مگر غلط ’’ٹائمنگ‘‘ سے کیے گئے فیصلوں کے سبب وہ قبل از وقت کھیل سے علیحدہ ہوکر اُس لیگ میں کوچنگ کرے گا جہاں وہ ’’موقع پرست‘‘کھلاڑی اب تک کھیل رہے ہیں جنہوں نے عبدالرزاق کیساتھ اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا!

Abdul-Razzaq2

Facebook Comments