کینگروز ’’گابا‘‘ میں پاکستان کو ’’کھابہ‘‘ نہ سمجھ لیں!

برسبین کے ’’گابا‘‘ پر کینگروز ہر مہمان ٹیم کو ’’کھابہ‘‘ سمجھ کر کھاجاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ 1989ء سے اس میدان پر کھیلے گئے 27ٹیسٹ میچز میں آسٹریلیا نے 20فتوحات سمیٹی ہیں جبکہ دیگر سات ٹیسٹ میچز میں کوئی بھی ٹیم آسٹریلیا کو زیر نہیں کرسکی۔ دوسری طرف سے اگر پاکستانی ٹیم کی بات کریں تو آسٹریلیا میں کھیلے گئے آخری نو ٹیسٹ میچز میں گرین شرٹس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور گزشتہ 17 برسوں میں آسٹریلیا ہی واحد ملک رہا ہے جہاں پاکستانی ٹیم ایک بھی ٹیسٹ نہیں جیت سکی ۔ماضی میں وسیم اکرم کی سپر اسٹار ٹیم ہو یا انضمام الحق کے ساتھی ہوں یا پھر محمد یوسف کی کپتانی میں بکھری ہوئی پاکستانی ٹیم ...گزشتہ نو ٹیسٹ میچز میں پاکستان کو آسٹریلیا میں ہر مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ان خوفناک حقائق اور اعدادوشمار کے سائے میں کل پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کیخلاف تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آغاز کرے گی جسے گزشتہ تین ٹیسٹ میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اس کے باوجود کینگروز کے دیس میں گرین شرٹس سے کسی معجزے کی توقع کی جارہی ہے ۔

آسٹریلین کرکٹ بورڈ عام طور پر ٹیسٹ سیریز کا آغاز برسبین سے کرتا ہے جہاں مہمان ٹیمیں باآسانی کینگروز کے جال میں پھنس جاتی ہیں اور پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد سیریز میں واپسی کم و بیش ناممکن ہوجاتی ہے۔ پاکستان کیخلاف سیریز کا پہلا ٹیسٹ بھی برسبین میں کھیلا جائے گا جہاں وکٹ پر موجود ہلکی گھاس اور پھر پنک بال کیساتھ رات کے وقت کھیلنا بیٹسمینوں کیلئے آسان نہ ہوگا ۔گابا کے کیوریٹر کا کہنا ہے کہ اس نے ایک سپورٹنگ وکٹ تیار کی ہے جس پر ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ کا اثر اتنا نہیں ہوگا جتنا کہ گزشتہ برس ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ کا ہوا تھا۔ گابا کی وکٹ پر یقینا فاسٹ بالرز لطف حاصل کریں گے جبکہ اسپنرزکا کردار ابتدائی طور پر تو اتنا زیادہ نہیں ہوگا لیکن آخری دو دن اسپنرز فیصلہ کن بھی ثابت ہوسکتے ہیں البتہ بیٹسمینوں کو اس وکٹ پر رنز کرنے کیلئے بہت جدوجہد سے گزرنا ہوگا۔ بظاہر یہی نظر آرہا ہے کہ برسبین میں پاکستانی ٹیم کا بچ نکلنامشکل ہوگا اورآسٹریلین ٹیم ان کنڈیشنز کا بھرپور انداز میں فائدہ اٹھاتے ہوئے سیریز میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

پاکستانی کپتان مصباح الحق نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ گرین شرٹس کی حالیہ کارکردگی خراب رہی ہے جس کی وجہ سے آسٹریلیا کیخلاف میدان میں اترتے ہوئے وہ اتنے پراعتماد نہیں ہیں لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ پاکستانی ٹیم باآسانی ہتھیار ڈال دے گی۔ بھلے ماضی میں پاکستانی ٹیم کو آسٹریلیا میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس مرتبہ پاکستانی ٹیم لڑے بغیر ہتھیار ڈال دے۔ چھ برس قبل پاکستان کی بکھری ہوئی ٹیم نے سڈنی میں آسٹریلیا کو اپنی بالنگ سے پھانس لیا تھا مگر فیلڈ میں ہونے والی کچھ غلطیوں نے جیت کا موقع گنوادیا ۔ گزشتہ دورہ آسٹریلیا کے مقابلے میں پاکستانی بالنگ لائن قدرے مضبوط ہے اور اس میں 20وکٹیں لینے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ شاید اسی لیے کوچ مکی آرتھر کو بھی محسوس ہورہا ہے کہ اگر بیٹسمین اپنی ذمہ داری دکھا دیں تو پھر بالرز دو مرتبہ کینگروز کو پویلین بھیج سکتے ہیں۔ محمد عامر اور وہاب ریاض کیلئے آسٹریلیا کی وکٹوں پر کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں جبکہ راحت علی اور سہیل خان جیسے بالرز بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں ۔دوسری جانب انجری سے نجات کے بعد یاسر شاہ بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں اور آسٹریلیا میں لیگ اسپنرکے کردار کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ماضی میں عبدالقادر، مشتاق احمد اور دانش کنیریا نے اس خطے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یاسر شاہ سے بھی یہ امید کی جاسکتی ہے۔

آسٹریلیا میں یاسر شاہ کی مدد کیلئے مشتاق احمد بھی موجود ہیں جنہیں آسٹریلین وکٹوں پر کھیلنے کا اچھا خاصا تجربہ حاصل ہے۔ اگر یاسر شاہ کو گیند کو آگے پھینکتے ہوئے تیزی سے اسپن کرنے میں کامیاب رہے تو یقینی طور پر آسٹریلین بیٹسمینوں کیلئے لیگ اسپنر کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوگا جبکہ پاکستانی بالرز کو بھی اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ غیر ضروری طور پر پرجوش ہونے کی بجائے اگر انہوں نے درست لائن پر آسٹریلین بیٹسمینوں کو بالنگ کی تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔ مکی آرتھر کا ماننا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم300کے لگ بھگ رنز بنانے میں کامیاب رہی تو پھر بالرز بھی 20وکٹیں حاصل کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے مگر سوال یہ ہے کہ نیوزی لینڈ میں ناکام ہونے والی بیٹنگ لائن کو کیسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ مچل اسٹارک اور دیگر آسٹریلین پیسرز کے سامنے ڈٹ کر بیٹنگ کرسکیں۔

کینگروز کو شکست دینا قطعی طور پر بھی ناممکن نہیں ہے لیکن آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچ جیتنے کیلئے کسی فلوک کی نہیں بلکہ بہت زیادہ اچھی کارکردگی کی ضرورت ہے کیونکہ کینگروز کی اوسط درجے کی پرفارمنس بھی دوسروں سے کہیں بہتر ہوتی ہے اور اگر مخالف ٹیم محنت سے عاری دکھائی دے تو آسٹریلین ٹیم اپنے مہمانوں کو ’’کھابہ‘‘ سمجھ کر کھانے میں دیر نہیں لگاتی وہ بھی’’ گابا‘‘ کے میدان پر!!

Gabba-Brisbane

Facebook Comments