یہ90ء کی کرکٹ بھی نہیں ہے!!

’’90ء کی دہائی کی کرکٹ‘‘ کی اصطلاح اب پاکستان کی ون ڈے ٹیم کیلئے طعنہ بنتی جارہی ہے کیونکہ ’’ہائی پروفائل‘‘ کوچ مکی آرتھر ہر شکست پر یہ الزام لگا دیتے ہیں پاکستانی ٹیم 90ء کی دہائی کے انداز میں ون ڈے کرکٹ کھیل رہی ہے جبکہ دیگر ٹیمیں موجودہ دور سے مطابقت رکھتی ہیں اور یہی وہ فرق ہے جو فتح و شکست کے درمیان موجود ہیں۔جتنی سرعت کیساتھ آج کل یہ اصطلاح استعمال کی جارہی ہے اسے سن کر ’’ٹین ایجرز‘‘ کے ذہن میں یہ خیال ضرور س اُٹھاتا ہوگا کہ 90ء کے عشرے میں پاکستانی ٹیم نے بدترین کرکٹ کھیلی ہوگی جس کے ’’طعنے‘‘ آج بھی سننے کو مل رہے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ 90ء کے اسی عشرے میں پاکستانی ٹیم نے آسٹریلین سرزمین پر ورلڈ کپ بھی جیتا اور پھر آسٹریلیا میں پہلی مرتبہ تین ملکی ون ڈے سیریز کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا لیکن آسٹریلیا کیخلاف حالیہ سیریز میں پرتھ کے ون ڈے میں پاکستانی ٹیم نے جو کرکٹ کھیلی ہے وہ 90ء کے عشرے کا نہیں بلکہ 70ء کے عشرے کا انداز تھا جب ون ڈے کرکٹ بھی ٹیسٹ کرکٹ کے انداز سے کھیلی جاتی تھی!

میلبورن کے دوسرے ون ڈے میں محمد حفیظ کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بارہ برس بعد آسٹریلیا میں کسی بھی فارمیٹ میں پہلی کامیابی حاصل کی تو یوں لگ رہا تھا کہ فتح و شکست سے قطع نظر پاکستانی ٹیم اس سیریز کے اگلے تینوں میچز میں ہوم سائیڈ کو ’’ٹف ٹائم‘‘ دے گی جبکہ پرتھ کے میدان پر آسٹریلیا کیخلاف پاکستان کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اس امید کو مزید تقویت مل رہی تھی لیکن پرتھ میں پاکستانی ٹیم اس پرفارمنس سے کوسوں دور دکھائی دی جو گرین شرٹس نے میلبورن کی یادگار کامیابی دکھائی تھی۔

میلبورن میں ایک طویل عرصے کے بعد کپتان محمد حفیظ اور فاسٹ بالر جنید خان پاکستانی ٹیم میں واپسی ہوئی اور ان دونوں کھلاڑیوں نے اپنی افادیت ’’ثابت‘‘ کرنے کیلئے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی اور اس میں یہ دونوں کھلاڑی کافی حد تک کامیاب بھی ثابت ہوئے ۔اگر میلبورن میں پاکستان کی جیت کا جائزہ لیا جائے تو حفیظ اور جنید کی انفرادی کارکردگی نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا مگر پرتھ میں یہ دونوں کھلاڑی اس کارکردگی کا نصف بھی نہ دکھا سکے جس کا مظاہرہ انہوں نے میلبورن میں کیا تھا۔

ان دونوں کھلاڑیوں کی انفرادی طور پر ناکامی کے علاوہ پرتھ میں گیم پلان کہیں بھی دکھائی نہیں دیا اور سیریز میں برتری حاصل کرنے کا جو موقع پاکستانی ٹیم کو ملا تھا وہ بری طرح گنوادیا گیا۔ پرتھ میں پاکستان کو پہلے بیٹنگ کرنے کا موقع لیا تو حفیظ کو ابتدا میں گنوانے کے باوجود شرجیل خان اور بابر اعظم نے اچھا آغاز فراہم کیا اور 20اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 99رنز بنانے کے بعد پاکستانی ٹیم نے اگلے دس اوورز میں 61رنز بنائے تو 3/160کے اسکور پر پاکستانی ٹیم تین سو پلس بناتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی اور یہ 90ء کی دہائی کا ہی انداز تھا جب پہلے 30اوورز میں وکٹیں بچا کر اگلے دس اوورز میں گیئر تبدیل کیا جاتا تھا اور پھر اختتامی دس اوورز میں بھرپور مار دھاڑ کی جاتی تھی۔ اگر کسی کو اس بات پر شک ہو تو 92ء کے ورلڈ کپ کا فائنل دیکھ لے۔بابر اعظم اور شعیب ملک وکٹ پر موجود تھے جبکہ عمر اکمل اور محمد رضوان کے علاوہ عماد وسیم اپنی بیٹنگ کے منتظر تھے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی بیٹنگ لائن نے آخری 20اوورز میں صرف 103رنز بنائے جس میں آخری دس اوورز میں 50رنز کی ’’کارنامہ سازی‘‘ بھی شامل تھی!

بیٹنگ کا یہ انداز 90ء کے دور کا بھی نہیں ہے کیونکہ دو عشرے قبل جب ٹی20کا جنم نہیں ہوا تھا اور ون ڈے فارمیٹ میں دائرے کا قانون بھی نیا تھا تو اس وقت بھی پاکستانی ٹیم آخری دس اوورز میں ستر سے اسی کے لگ بھگ رنز بنا کر اپنا مجموعہ قابل قدر بنا لیا کرتی تھی لیکن موجودہ دور میں اگر بیٹسمین موٹے بَلوں کے باوجود آخری پاور پلے میں باؤنڈری تلاش نہ کرسکیں تو پھر ان کی ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹنا لازمی ہوجاتا ہے کیونکہ بیٹسمینوں کی نااہلی پر 90ء کے دور کی کرکٹ کا پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔

میلبورن میں آسٹریلیا کے ہوش اُڑانے والے بالرز اگر صرف تین وکٹیں لیتے ہوئے پانچ اوورز پہلے ہمت ہار دیں تو ایسی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کرنا بھی ضروری ہے۔ فاسٹ بالرز پچھلے میچ کی آدھی کارکردگی بھی نہیں دکھا سکے جبکہ میلبورن کی ’’سازگار‘‘ وکٹ پر کینگروز کو انگلیوں پر نچانے والے اسپنرز عماد وسیم اور شعیب ملک نے مجموعی طور پر دس اوورز میں77رنز دے ڈالے اور پھر پوائنٹ پوزیشن پر محمدنواز نے آسان سا کیچ ڈراپ کرکے پاکستان کو مزید مشکلات سے دوچار کیا ۔اس سے قبل جنید خان کی نو بال بھی پاکستان کو یقینی وکٹ سے محروم کرچکی تھی۔

پرتھ میں اگر پاکستانی ٹیم 90ء کے عشرے کے مطابق بھی کرکٹ کھیل لیتی تو تین سو پلس اسکور کیساتھ جیت کی امیدیں روشن ہوسکتی تھیں لیکن ایسا نہ کیا گیا ۔ مکی آرتھر اور ان کی ٹیم کیلئے یہی مشورہ ہے کہ ’’ماڈرن‘‘ کرکٹ کھیلنے کی بجائے اگر وہ محض90ء کی کرکٹ کھیل لیں تو کامیابی کا تناسب بڑھ جائے گا!

Junaid-Khan

Facebook Comments