لہولہو...لہور!!

لاہور شہر کا طلسم مجھے حیرت زدہ کردیتا ہے کہ اس شہر میں کیسی کشش، جادواور رومان ہے کہ جو ایک مرتبہ اس شہر میں بس جائے اس کا یہاں سے جانے کو دل نہیں کرتااور جب لاہوریے لاہور کو ’’لہور‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں تو زبان پر ایسی مٹھاس ڈیرہ جمالیتی ہے جس کا مزہ بہت دیر تک چہروں کو شاداب رکھتا ہے مگر جب اسی لہور پر قیامت کی گھڑی گزرتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ سڑکوں پر بہنے والا یہ انمول خون میرے دل کے قطرے ہیں جو کلیجہ پھاڑ کر نکلے ہیں!

میرے قارئین کو تحریر کا آغاز روایتی محسوس نہ ہو مگر کل شام مال روڈ پر جو ’’انجام‘‘ ہوا ہے اس دیکھنے کے بعد میں کیسے روایتی اور اپنے انداز کے مطابق کرکٹ پر بات کروں؟یہ وہی مال روڈ ہے جس کیساتھ میں نے برسوں رومانس کیا ہے ۔ جس کے درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں مئی کی گرم دوپہروں میں بھی میرے لیے سائبان ہوجایا کرتی تھی اور اس سڑک سے جڑی تاریخ آج بھی میرے لیے تسکین کا باعث بنتی ہے تو میں کیوں اِس مال روڈ کا دکھ اپنے دل میں محسوس نہ کروں جس کے سینے پر کل شام خون کی ہولی کھیلی گئی ہے اور کئی بے گناہ جو صبح ہنستے مسکراتے ہوئے اپنے گھروں سے نکلے تھے شام کو اُن کے چیتھڑے بھی نہ پہچانے گئے۔

ایک طرف لاہور میں یہ خون کی ہولی کھیلی گئی ہے تو دوسری اس سانحے کو پاکستان سپر لیگ کیساتھ نتھی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کچھ ’’عناصر‘‘ نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں کھیلا جائے اس لیے مال روڈ پر ہونے والا خودکش دھماکہ دراصل پی ایس ایل کیخلاف ’’سازش‘‘ ہے۔یہ کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ ہر بڑے سانحے کے بعد عجیب و غریب جواز ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حقائق سے نہ صرف چشم پوشی کی جائے بلکہ اس پر سیاست بھی کی جائے اور نہایت افسوس ناک پہلو ہے۔

کیا یہ بات پتھر دل ہونے کا ثبوت نہیں ہے کہ مال روڈ کے سانحے کے چند گھنٹوں کے بعد پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی کا بیان سامنے آتا ہے کہ غیر ملکی کھلاڑی اب لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کھیلنے کی تیار نہیں مگر وہ اب بھی پاکستانی کھلاڑیوں کیساتھ لاہور میں ایونٹ کے فائنل کا انعقاد کرسکتے ہیں۔ نجم سیٹھی کونسی ’’اہلیت‘‘ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرواکر ہی دم لیں گے۔ کیا پی ایس ایل فائنل کی اہمیت سانحہ مال روڈ میں ضائع ہونے والی جانوں سے زیادہ ہے ؟ ایک طرف نجم سیٹھی لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کروانے کیلئے اپنی ’’توانائیاں‘‘صرف کررہے ہیں تو دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی منظر عام پر آگئے ہیں جن کا ’’موقف‘‘ ہے کہ اگر لاہور کرکٹ کیلئے ’’محفوظ‘‘ نہیں ہے تو پھر پی ایس ایل کا فائنل کراچی میں کروادیا جائے!!فکر صرف پی ایس ایل فائنل کی ہے جس کیلئے لاہور والے چاہتے ہیں کہ پاکستانی کھلاڑیوں کیساتھ یہ فائنل لاہور میں کھیلا جائے جبکہ کراچی کی خواہش ہے کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کیساتھ فائنل کی میزبانی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو مل جائے۔کراچی میں بے شمار مرتبہ ایسے واقعات ہوئے ہیں اور لاہور بھی دہشت گردی کے واقعات سے محفوظ نہیں رہا تو پھر کیا یہ ’’لالچ‘‘ درست ہے کہ اگر لاہور میں کوئی واقعہ ہو تو کراچی والے ہائی پروفائل ایونٹ چھیننے کی کوشش کریں یا دہشت گردی کراچی سے کوئی بڑا ایونٹ چھین لے تو لاہور والے اس پر بھنگڑے ڈالیں؟

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل فائنل کا بھرپور سکیورٹی پلان

پاکستان سپر لیگ یقینی طور پر پاکستان کی کرکٹ کیلئے نہایت اہمیت کی حامل ہے اور اگر اس لیگ کا فائنل لاہور میں منعقد ہوتا تو اس سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں بھی مدد ملتی لیکن مال روڈ پر ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد یہ بات یقینی ہوگئی ہے کہ غیر ملکی کھلاڑی لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل نہیں کھیلیں گے اور اگر غیر ملکی کھلاڑیوں کے بغیر یہ فائنل لاہور میں کھیلا گیا تو یہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کیلئے معاون ثابت نہیں ہوسکتا۔اس کے علاوہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا لاہور میں پی ایس ایل فائنل کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کی حفاظت کی ضمانت دی جاسکتی ہے ؟کیا پاکستانی کھلاڑیوں کی جان اتنی ارزاں ہے کہمحض پاکستان میں پی ایس ایل کا فائنل منعقد کروانے کی’’ضد‘‘ میں ان کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی جائیں ؟

کھیل سے محبت کرنے والے ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر انٹرنیشنل کرکٹ کے مقابلے منعقد ہوں تاکہ نہ صرف انہیں اپنے میدانوں پر غیر ملکی کھلاڑیوں کو دیکھنے کا موقع ملے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کی نشونما کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع ہو جو 2009ء میں رُک گیا تھا مگر اس کیلئے سب سے زیادہ ضروری امن ہے کیونکہ جب تک پاکستان میں مکمل طور پر امن نہیں ہوگا ،صرف چند ایک شہر نہیں بلکہ پورا پاکستان محفوظ قرار نہیں دیا جائے گا اس وقت تک پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔اس لیے جو لوگ سانحہ مال روڈ پر سیاست کررہے ہیں یا پھر خون کی اس ہولی سے اپنے مقاصد رنگین کرنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں صرف اتنی سی بات سمجھ لینی چاہیے کہ مٹن قورمے کی ایک پلیٹ کیلئے پورا بکرا ’’ذبح‘‘کرنا بے وقوفی نہیں بلکہ جہالت بھی ہے!

Facebook Comments