پی ایس ایل...کرکٹ سے بڑھ کر بہت کچھ!

حالات یقیناً بہتر نہیں ہیں کیونکہ ہر چند دن بعد ملک کے کسی نہ کسی حصے میں ہونے والے بم دھماکے،خود کش حملے معصوم لوگوں کو اُن کی زندگیوں سے محروم کررہے ہیں ا س لیے ان حالات میں فوری طور پر پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ممکن نہیں ہے بلکہ فی الوقت لاہور میں پاکستان سپر لیگ کے فائنل کا انعقاد بھی یقینی دکھائی نہیں رہا۔ یقینا یہ حالات ہمیشہ کیلئے نہیں ہے اور بہت جلد ایک ایسی صبح بھی نمودار ہوگی جو اَمن اور آشتی کا پیغام لے کے آئے گی۔اُس روشن صبح کے طلوع کیلئے سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا مگر فی الوقت ملک میں جو نااُمیدی کی فضا ہے اُس میں سب سے مثبت پہلو پاکستان سپر لیگ ہے جو مایوسی کے تاثر کو زائل کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔

یہ بات درست ہے کہ پی ایس ایل کے میچز پاکستان کی بجائے دیار غیر میں منعقد ہورہے ہیں جس کی وجہ سے بہت کم پاکستانیوں کو اسٹیڈیم میں بیٹھ کر اپنے اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے کھیل سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل رہا ہے ۔جبکہ دوسری طرف پاکستان کے میدان بھی سُونے پڑے ہوئے ہیں جہاں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی جارہی ۔اگر پاکستان سپر لیگ کا انعقاد پاکستان میں ہوتا ہے تو یقینی طور پر اس کا بہت بڑا فائدہ پاکستان کرکٹ اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو ہوگا مگر فی الوقت یہ لیگ دنیا بھر میں پاکستان کے ’’سوفٹ امیج‘‘ کو بہتر بنا رہی ہے۔

پاکستان سپر لیگ کی وجہ سے پاکستان کے چھوٹے علاقوں خاص طور پر کوئٹہ کو بین الاقوامی سطح پر شناخت مل رہی ہے کیونکہ یہ لیگ لاہور،کراچی اور اسلام آباد کے علاوہ دیگر پاکستانی شہروں کو بھی دنیا میں متعارف کروارہی ہے۔ جو غیر ملکی کھلاڑی اور کوچز اس لیگ کا حصہ ہیں وہ بھی اپنی اپنی ٹیموں اور شہروں کے بارے میں جان رہے ہیں۔ انہیں بھی کوئٹہ، پشاور،لاہور کی ثقافت کا پتہ چل رہا ہے جبکہ ان شہروں کے روایتی کھانے اور لباس بھی عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا رہا ہے ۔ پشاور اور لاہور کیلئے مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کرنے والے کھلاڑی روایتی ٹوپی اور پگڑی میں بہت بھلے معلوم دکھائی دیتے ہیں۔ مقامی ثقافت میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی اچھی خاصی پشتو سیکھ چکے ہیں جبکہ کمنٹری ٹیم میں شامل ایلن ولکنسن اردو زبان پر کافی عبور حاصل کرچکے ہیں۔ یہ پی ایس ایل کے وہ مثبت پہلو ہیں جو اس سے قبل دیکھنے کو نہیں ملے تھے۔ان باتوں سے انٹرنیشنل کرکٹ توپاکستان میں بحال نہیں ہوسکتی لیکن دنیا بھر میں پاکستان اور پاکستانیوں کا امیج ضرور بہتر ہورہا ہے۔

اس کے علاوہ دبئی اور شارجہ کے میدانوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شائقین بھی ایک ساتھ دیکھنے کو ملے ۔ خاص طور پر جس دن دو میچز تھے اُن دنوں میں پہلے میچ میں ایک ٹیم کو سپورٹ کرنے والے شائقین دوسرے میچ میں بھی کسی ایک ٹیم کوسپورٹ کرتے ہوئے دکھائی دیے اور وہاں انہوں نے اس ٹیم کے علاقے سے تعلق رکھنے والے شائقین کا بھرپور انداز میں ساتھ دیا۔پی ایس ایل میں پاکستانی شائقین کا ایک دوسرے کیساتھ گھل مل جانا یقینا ایسا منظر ہے جو نہ صرف دیکھنے میں اچھا لگتا ہے بلکہ قومی یکجہتی کا بہت بڑا ثبوت بھی ہے۔ ایسے وقت میں جب فرقہ واریت کا جن بھی قابو میں نہیں آرہا اور لسانی و علاقائی بنیاد پر پاکستانیوں میں تفریق کی جارہی ہے تو پی ایس ایل میں ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے شائقین کا آپس میں اتفاق پاکستان کی مضبوطی کی نشاندہی کرتا ہے۔

پی ایس ایل کے دوران جہاں پاکستانی شائقین ایک دوسرے سے محبت کی مثال بنے ہوئے ہیں وہاں غیر ملکی شائقین بھی نہ صرف پاکستان سپر لیگ کے مقابلوں میں دلچسپی لے رہے ہیں بلکہ پاکستانی شائقین کیساتھ بیٹھ کر وہ پاکستان کی ثقافت اور اس کے لوگوں کے متعلق بھی آشنائی حاصل کررہے ہیں ۔سوئی سدرن گیس کے انگلش ٹرینر رچرڈ اسٹونر نے فیس بُک پر میری ایک پوسٹ کے جواب میں لکھا ہے کہ ’’پاکستان ایک شاندار ملک ہے جس کے لوگ نہایت مہمان نواز اور ملنسار ہیں جو اتنی آؤ بھگت کرتے ہیں کہ آپ خود کو پاکستان میں محفوظ اور خود کو ان کے خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں‘‘اسی طرح میرا ایک آسٹرین دوست تین دن بعد محض اس لیے لاہور آرہا ہے کہ وہ ایک مرتبہ اس شہر میں آنے کے بعد اس شہر اور یہاں کے لوگوں کا گرویدہ ہوگیا ہے ۔ یہ تاثر پاکستان کے کسی ایک شہر یا صوبے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ گلگت سے گوادر تک پورا پاکستان مہمان نوازی کی مثال ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان سپر لیگ بھی دنیا میں پاکستان اور پاکستانیوں کا بہتر امیج دکھانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ اگر اگلے برس پاکستان سپر لیگ کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں منعقد کیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف ایونٹ میں شریک پانچ شہروں بلکہ دیگر علاقوں کے بارے میں بھی غیر ملکیوں کو جاننے کا موقع ملے گا اور پاکستان کے مختلف علاقوں کی تہذیب و تمدن بھی کرکٹ کے ذریعے دنیا بھر میں شناخت حاصل کرے گا۔ اس لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی چاہیے کہ محض فائنل کے لاہور میں انعقاد کیلئے سر پیٹنے کی بجائے منظم انداز سے اگلے برس پی ایس ایل کے زیادہ تر میچز کا انعقاد پاکستان کے مختلف شہروں میں کروائے تاکہ یہ لیگ صحیح معنوں میں پاکستانیوں کی لیگ بن سکے اور غیر ملکی بھی اپنی آنکھوں سے اصل پاکستان کو دیکھ سکیں جو ہر لحاظ سے نہایت خوبصورت ہے!

Younis-Khan-Darren-Sammy

Facebook Comments