پھٹیچر!!

پاکستانی سیاست دانوں کی جانب سے ایسے ایسے بیانات آتے ہیں جن پر بیک وقت ہنسی بھی آتی ہے اور آنکھیں نم بھی ہوتی ہیں ۔کیا سیاست اسی کا نام ہے کہ رقابت میں ہر حد سے تجاوز کردیا جائے۔ اعتدال کا راستہ اپنانا کب سے جرم ہوگیا ہے؟کس نے کہا کہ کسی کے اچھے کام کو سراہنے سے آپ کی شان میں کمی واقع ہوجاتی ہے ؟کیا دوسروں پر کیچڑ اُچھالنا سیاست ہے؟ ہرگز بھی نہیں...تو پھر کیوں محض سیاسی مقاصد کیلئے اُن معاملات پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے جن کا تعلق براہ راست کسی سیاسی جماعت یا فرد کیساتھ نہیں بلکہ پاکستان کیساتھ ہے۔کیا ذاتی مقاصد کیلئے پاکستان پر اُنگلی اُٹھانا کیا جرم نہیں ہے؟؟

گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان سے متعلق سب سے بڑی خبر لاہور میں ہونے والا پاکستان سپر لیگ کا فائنل تھا۔ فائنل سے پہلے ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات نے فائنل کے انعقاد کو مشکوک بنا دیا تھا اور یہی خیال کیا جارہا تھا کہ اگر لاہور میں فائنل منعقد ہوتا بھی ہے تو اس میں غیر ملکی کھلاڑی شرکت نہیں کریں گے۔ میں خود ان تحفظا ت کا شکار تھا کیونکہ موجودہ ملکی حالات میں پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کروانا بہت بڑا خطرہ محسوس ہورہا تھا اور فائنل کے دوران کوئی ناخوشگوار واقع رونما ہوجاتا تو مسائل نے کئی گنا بڑھ جاناتھا۔مگر پاکستان کرکٹ بورڈ، پی ایس ایل کی انتظامیہ، حکومت اور سیکورٹی اداروں نے پر امن انداز میں فائنل کا انعقاد کرواکر دنیا بھر میں یہ پیغام دے دیا کہ پاکستان پر امن ملک ہے، یہاں کے لوگ امن و آشتی سے رہنا چاہتے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کی زد میں آنے کے باوجود ان لوگوں کے حوصلے بلند ہیں اور آج بھی پاکستانی گرے نہیں بلکہ پوری مضبوطی کیساتھ کھڑے ہیں۔

میرے کالم کا نام ’’باؤنسرز‘‘ ہے کیونکہ لگی لپٹی رکھے بغیر مسائل کو اُجاگر کرنے میں مجھے کوئی عار نہیں اور اس ’’بہادری‘‘ کے سبب کئی مرتبہ نقصان بھی اُٹھانا پڑا ہے مگر بقول حبیب جالب ’’ہم نے سیکھا نہیں پیارے بااجازت لکھنا‘‘اس لیے پاکستان کرکٹ میں اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو اس کی نشاندہی کرنا لازمی ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح اچھے کاموں کا سراہنا اور اُن پر لکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کروانا ہر لحاظ سے ایک کامیابی ہے جس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ۔چاہے حکومت اس فائنل کے انعقاد کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتی تھی یا پھر اس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت رخ پیش کرنا تھا مگر لاہور میں پی ایس ایل فائنل کی کامیابی کو جھٹلایا نہیں جاسکتا اور اس فائنل نے گلگت سے گوادر تک پاکستانیوں کو یکجا کردیا ہے ۔

اس فائنل میں کتنے غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آئے اور ان کھلاڑیوں کی صلاحیت کا پیمانہ کیا تھا ۔یہ بالکل علیحدہ بحث ہے کیونکہ فائنل کے دوران یہ واضح ہوگیا کہ جس ٹیم کا کمبی نیشن خراب ہوا اور جس ٹیم کو ٹاپ انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی خدمات حاصل نہیں تھیں وہ ٹائٹل سے بھی اتنی ہی دور رہی جتنا لندن میں بیٹھا ہوا کیون پیٹرسن لاہور سے دور ہے۔کھلاڑیوں کی اہلیت کا معیار میدان کے اندر پرکھا گیا اور فائنل کی آخری گیند کیساتھ یہ بحث ختم ہوجانی چاہیے تھی کہ کون سی ٹیم تگڑی تھی اور کس کو اہم غیر ملکی کھلاڑیوں سے محرومی کا دُکھ برداشت کرنا پڑا مگر بدقسمتی سے اس پر بھی سیاست کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  کرس گیل آ گیا میدان میں، ہو جمالو!

ورلڈ کپ جیتنے والے سابق کپتان اور حالیہ سیاستدان عمران خان نے غیر ملکی کھلاڑیوں کو آف دی ریکارڈ بات چیت میں ’’پھٹیچر‘‘ کہا تو یہ خطاب سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا ۔اُن لوگوں نے بھی عمران خان کے لتے لیے جنہیں یہ بھی پتہ نہ ہو کہ کرکٹ کے کھیل میں فالو آن کس ’’چڑیا‘‘ کا نام ہے ۔عمران خان کے مداح اور مخالفین میں خوب لفظی گولہ باری چل رہی ہے جس نے بہت سے لوگوں کا کردار واضح کردیا ہے ۔ کیا عمران خان کو اپنے ساتھ کھیلے ہوئے ویوین رچرڈز کی عظمت کا اندازہ نہیں ہے یا کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ ڈیرن سیمی دو مرتبہ ورلڈ کپ جیت چکا ہے؟ لیکن مخالفت در مخالفت نے اس وقت ہر جگہ طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوا ہے۔کوئی عمران خان کو پھٹیچر کھلاڑی اور سیاست دان کہہ رہا ہے ، کو سابق کپتان کو ملک دشمن قرار دے رہا ہے جبکہ دوسری طرف نجم سیٹھی پر بھی تنقید کی گولہ باری کی جارہی ہے جنہوں نے کیون پیٹرسن کے لاہور نہ آنے کو بھی عمران خان کے بیان سے منسوب کیا تھا جبکہ فائنل میں قذافی اسٹیڈیم میں وزیر اعظم مخالفت کے نعرے بھی کوئی اچھا تاثر نہیں دے رہے تھے۔

ممکن ہے کہ عمران خان نے یہ نہ سوچا ہو کہ اُن کی زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ اُن کیلئے تنقید کا کوہ ہمالیہ ثابت ہوگا مگر اس لفظ کا مطلب کچھ بھی ہو یہ لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کھیلنے والے کسی بھی غیر ملکی کھلاڑی کیلئے نہیں کہا جاسکتا ۔دوسری جانب جو لوگ اس بیان کے بعد عمران خان کی ذات پر کیچڑ اُچھال رہے ہیں انہیں بھی اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہیے کیونکہ اِس وقت سوشل میڈیا پر جو ’’ٹرینڈ‘‘ چل رہے ہیں وہ کسی بھی طرح پاکستان کے مفاد میں نہیں ہیں ۔ٹی وی پر سیاستدانوں کی ایک دوسرے پر گولہ باری اور ٹویٹر پر عوام کے ’’جذبات‘‘ کسی کو درست یا غلط ثابت کریں یا نہ کریں لیکن یہ ضرور ثابت کررہے ہیں کہ ہم سب کتنے ’’پھٹیچر‘‘ ہوچکے ہیں!!

viv-sarfraz

Facebook Comments