فیصل بینک سپر ایٹ کے ہیرو رمیز راجہ کا کرک نامہ کو خصوصی انٹرویو

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں سال قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے فارمیٹ اور مقام کو بھی تبدیل کیا، ٹیموں کی تعداد کم کر کے محض 8 کر دی گئی اور اس مرتبہ ٹورنامنٹ بجائے لاہور یا کراچی کے فیصل آباد میں منعقد کیا گیا اور یہ تمام اقدامات بہت سود مند ثابت ہوئے۔ گو کہ کئی اہم پاکستانی کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے باعث ٹورنامنٹ گہنا جانے کا خطرہ تھا لیکن نئے اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں نے اپنے شاندار کھیل کے ذریعے دل جیت لیا۔ انہی کھلاڑیوں میں کراچی کے رمیز راجہ بھی شامل تھے جنہیں زبردست بلے بازی پر ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

سیمی فائنل میں رمیز راجہ کی اننگز کی بدولت کراچی ڈولفنز سیالکوٹ اسٹالینز کی مضبوط ٹیم کو زیر کرنے میں کامیاب ہوا

رمیز راجہ نے پانچ مقابلوں میں 159.73 کے زبردست اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 238 رنز بنائے جس میں دو نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔ وہ قائد اعظم ٹرافی ڈویژن ون مین بھی بہترین بلے باز رہے ہیں جہاں انہوں نے دو سنچریوں اور پانچ نصف سنچریوں کی مدد سے 11 مقابلوں میں 801 رنز بنائے تھے۔ وہ 2006ء میں بھارت کے خلاف انڈر 19 عالمی کپ جیتنے والے پاکستانی دستے کا بھی حصہ رہے ہیں۔

ون ڈاؤن پوزیشن پر کھیلنے والے رمیز راجہ کے والدین نے گو کہ ان کا نام ماضی کے عظیم پاکستانی بلے باز رمیز راجہ کے نام پر نہیں رکھا تھا لیکن انہوں نے حالیہ کارکردگی کے ذریعے کرکٹ سے وابستہ اس نام کی لاج ضرور رکھ لی ہے۔ وہ اپنے ہم نام پیشرو سے کہیں زیادہ مختلف کھلاڑی دکھائی دیتے ہیں۔ جارحانہ بلے بازی رمیز راجہ سینئر کا کبھی خاصا نہیں رہی لیکن رمیز جونیئر نے فیصل بینک ٹی ٹوئنٹی سپر ایٹ میں اپنی دھاں دار بلے بازی شائقین اور ماہرین کرکٹ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔

کرک نامہ نے رمیز راجہ جونیئر کا ایک خصوصی انٹرویو کیا جس میں 23 سالہ رمیز راجہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کے ذریعے قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

کرک نامہ:السلام علیکم رمیز! حالیہ ٹی ٹوئنٹی سپر ایٹ میں آپ کے لیے یادگار ٹورنامنٹ ثابت ہوا، اس طرح کی کارکردگی پر کیسا محسوس کرتے ہیں؟

رمیزراجہ جونیئر:وعلیکم السلام! میں اپنی کارکردگی پر بہت خوش ہوں۔ درحقیقت ڈویژن ون قائداعظم ٹرافی میں ٹاپ اسکورر رہنے کے بعد میرا یہی ہدف تھا کہ میں محدود اوورز کی کرکٹ میں بھی اپنا لوہا منواؤں۔سپر ایٹ میں شریک کئی بڑی ٹیموں کے خلاف اچھی بلے بازی سے مجھے خوشی کے ساتھ اعتماد بھی حاصل ہوا ہے۔

کرک نامہ:شاندار کارکردگی کے باوجود آپ کی ٹیم فائنل ہار گئی، اس کا کتنا دکھ ہے؟

رمیز جونیئر:کراچی کی ٹیم پورے ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کے بعد فائنل میں پہنچی تھی۔فائنل میں بھی ٹیم کی کارکردگی اچھی تھی لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا۔میرے خیال میں سپر اوور میں خالد لطیف پہلی گیند پر چھکا مارنے کے بعد جس طرح دوسری گیند پر آؤٹ ہوئے وہ بدقسمتی تھی، اگر وہ شاٹ درست طریقے سے لگ جاتا تو نتیجہ یکسر مختلف ہوتا۔

کرک نامہ:آپ کی کارکردگی کا کافی چرچا ہے اور کرکٹ کے حلقوں میں آپ کی قومی ٹیم میں شمولیت کی باتیں بھی کی جارہی ہیں۔اس حوالے سے کتنے پرامید ہیں؟

رمیز جونیئر:ڈویژن ون قائداعظم ٹرافی اور اب سپر ایٹ ٹی ٹوئنٹی میں اچھی کارکردگی کے بعد میرا اعتماد کافی بلند ہوا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ میں اس وقت اپنی بہترین فارم میں ہوں اور اگر سلیکٹرز نے مجھے موقع دیا تو میں اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہوں گا اور کوشش ہوگی کہ اگر ٹیم میں جگہ ملی تو اپنی جگہ پکی کروں۔

کرک نامہ:اپنی کس اننگز کو بہترین قرار دیں گے؟

رمیز جونیئر:پی آئی اے کے خلاف بنائی گئی اپنی پہلی فرسٹ کلاس سنچری کو ایک یادگار اننگز سمجھتا ہوں۔

کرک نامہ:آپ کے خاندان میں آپ سے قبل کسی نے کرکٹ کھیلی ہے؟

رمیزجونیئر:مجھ سے پہلے میرے خاندان میں کسی کی کرکٹ سے وابستگی نہیں رہی۔ لیکن مجھے بچپن سے ہی کرکٹ کا بے پناہ شوق تھا۔جس کے بعد خاندان اور دوستوں کی حوصلہ افزائی سے اعتماد بڑھا اور یوں میں آگے بڑھتا چلا گیا۔

کرک نامہ: کب فیصلہ کیا کہ کرکٹ کو باقاعدہ پیشے کے طور پر اپنانا ہے؟

رمیز جونیئر: انڈر 19 ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا رکن ہونا میرے لیے فخر اور اعزاز کی بات ہے اور اسی کامیابی کے بعد میرا یقین پختہ ہوگیا کہ میں اعلیٰ سطح کی کرکٹ بھی کھیل سکتا ہوں۔

کرک نامہ: کن کلبز اور کوچنگ کیمپس سے استفادہ کیا؟

رمیز جونیئر: پاکستان کرکٹ کلب اور اس کے علاوہ کے سی سی اے کے کوچز اور زون کے کلبز کے ساتھ کھیل کر بہت کچھ سیکھا۔زون 6 کے اعظم خان کا نام ضرور لینا چاہوں گا۔ان سے بہت کچھ سیکھا اور میری کامیابیوں پر وہ بہت خوش بھی ہیں۔

کرک نامہ: کن کھلاڑیوں سے اچھی دوستی ہے؟

رمیز جونیئر: کراچی کی ٹیم میں کھیلتاہوں اس لیے زیادہ تر دوستیاں بھی اسی ٹیم میں ہے۔ گو کہ پاکستان بھر کے کرکٹرز کے ساتھ اچھے تعلقات ہے لیکن اسد شفیق،سرفراز احمد اور انورعلی سے بہت گہری دوستی ہے۔

کرک نامہ: آخر میں یہ بتائیے گا کہ بحیثیت کرکٹر آپ کا ہدف کیا ہے؟

رمیز جونیئر: میرا بنیادی ہدف یقیناً پاکستان کی نمائندگی کرنا ہے۔اس کے بعد پہلا مقصد ہوگا کہ محدود اوورز کی کرکٹ کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اپنا لوہا منواؤں جو کہ اصل کرکٹ ہے۔

کرک نامہ: رمیز ، اپنے مصروف اوقات میں چند لمحے عطا کرنے کا بہت شکریہ۔

Facebook Comments