مستقبل کے لیے نوجوان کپتان؟ پھر کس کی شامت آئی ہے

تحریر: ظہیرالدین
مدیر: Cricket Controversies

شاہد آفریدی کو قومی کرکٹ ٹیم سے باہر کا راستہ دکھانے کے بعد اب پاکستان نئے قائد کی تلاش میں ہے کیونکہ موجودہ کپتان 37 سالہ مصباح الحق طویل عرصے تک ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتے۔

شاہد کے بعد "کوچے سے بے آبرو ہو کر" نکلنے کے لیے تیار کیا جانے والا نیا فرد کون ہوگا؟

شاہد کے بعد "کوچے سے بے آبرو ہو کر" نکلنے کے لیے تیار کیا جانے والا نیا فرد کون ہوگا؟

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس نے حال ہی میں کہا تھا کہ مستقبل کے منصوبہ بندی کیلئے کسی نوجوان کھلاڑی کو بطور کپتان تیار کرنا چاہیے کیونکہ مصباح 37 سال کے ہیں اور مستقبل قریب میں انہیں ریٹائرڈ ہونا ہے۔ وقار یونس کی یہ بات سن کر کم از کم مجھے تو تشویش ہونی لگی ہے کہ پھر کس کھلاڑی کی شامت آئی ہے کیونکہ گزشتہ ایک عشرے میں جس کو بھی کپتان بنایا گیا اُس بیجارے کی شامت ہی آئی ہے۔

شروع کرتے ہیں ہم یونس خان سے۔ مستقبل کی منصوبہ بندی کے تحت یونس خان کو انضمام الحق کا نائب بنایا گیا تھا۔ کرکٹ ماہرین بشمول مشہور لابی عبدالقادر اور سرفراز نواز نے بھی اس اقدام کی بھرپور حمایت کی تھی۔ بین الاقوامی سطح تک پر ماہرین نے اس اقدام کو سراہا۔ یونس خان نے بھی شائقین کرکٹ کو مایوس نہیں کیا اور بھارت میں بطور نائب کپتان زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ آخر وہ دن بھی آگیا جب انضمام الحق نےریٹائرمنٹ لے لی اور یو ں یونس خان کپتان بن گئے۔ لیکن اُن کے کپتان بنتے ہی سازشوں نے بھی جنم لینا شروع کردیا۔

دراصل انضمام الحق نے ٹیم میں ایک گروپ بنایا ہوا تھا اور اس گروپ میں شامل کھلاڑیوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں ان میں سے کسی کو بھی ٹیم سے باہر نہیں کیا جائے گا۔ ثبوت کے طور پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جب اوپنرز کے بار بار فیل ہونے کی وجہ سے نئے کھلاڑیوں کو شامل کرنے پر عوام نے زور دیا تو شاہد یوسف کو منتخب کیا گیا۔ لیکن پھر پوری سیریز ختم ہوئی لیکن شاہد یوسف کو کسی بھی میچ میں چانس نہیں دیا گیا اور اس سیریز کے بعد شاہد یوسف بغیر کوئی موقع دیے ناقص کھلاڑی قرار پائے اور ہمیشہ کے لیے ٹیم کے دروازے ان پر بند ہوگئے۔

کامران اکمل کا متبادل بھی دراصل انضمام الحق کے دور میں ہی آنا چاہیے تھا لیکن چونکہ وہ انضمام گروپ کا پکا ممبر تھا اس لئے وہ کھیلتا ہی چلا گیا۔ انضمام الحق کے جانے کے بعد اس گروپ کو یونس خان کچھ پسند نہ آیا۔ دراصل یونس خان نے کرکٹ کے بہتری کیلئے خود سوچنا شروع کردیا تھا۔ لہٰذا کچھ نیا ٹیلنٹ لانے کا پلان اور کچھ پرانے کھلاڑیوں کو کارکردگی میں بہتری لانے کی ہدایات ٹیم مینجمنٹ اور انضمام گروپ کو پسند نہ آئیں۔ لہٰذا یہ گروپ اس حد تک چلا گیا کہ قسم اُٹھالی کہ جب تک یونس خان کپتان ہے، پرفارم نہیں کرینگے۔ یوں یونس خان کو نہ صرف کپتانی سے ہاتھ دھونے پڑیں بلکہ ٹیم سے بھی کافی عرصہ باہر رہنا پڑا اور اب جب واپس ٹیم میں آئے ہیں تو طرح طرح کی خدشات کی وجہ سے اعتماد میں کمی ہے اور پرفارم نہیں کر پا رہے۔

یونس خان کے بعد محمد یوسف کو کپتان بنایا گیا اور اس کے ساتھ ہی اس گروپ کے اندر بھی اختلافات نے جنم لیا اور پھر ہم سب نے میڈیا میں کھلے عام محمد یوسف اور شعیب ملک کو ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیتے ہوئے سنا۔

پھر شاہد آفریدی کی باری آئی۔ کافی عرصہ تک مینجمنٹ کو ساتھ لیکر چلے۔ ٹیم کو بھی بہتری کی طرف گامزن کیا۔ اس دوران حالانکہ مینجمنٹ نے انہیں غصہ دلانے کی پوری کوشش کی۔ سب سے بڑا مذاق جو اُن کے ساتھ کیا گیا وہ یہ تھا کہ انہیں صرف ایک سیریز کے لیے کپتان مقرر کیا جاتا تھا وہ بھی اُس وقت جب ٹیم منتخب ہوچکی ہوتی تھی۔ لیکن آفریدی نے کمال صبر کا مظاہرہ کیا اور کسی جذباتی اقدام سے گریز کیا ۔ لیکن یہ سب کچھ کب تک چلتا؟ عالمی کپ کے دوران شاہد آفریدی نے رحمان ملک کے ایک بیان پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اُسی دن سے شاہد کی چُھٹی کا پکا فیصلہ ہوگیا۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عالمی کپ میں سیمی فائنل تک پہنچنے کے بعد شاہد آفریدی کی ٹیم مینجمنٹ اور کرکٹ بورڈ نے بھرپور تعریف کی اور ٹیم کو سیمی فائنل ہارنے کے باوجود انعامات سے نوازا ۔ لیکن پھراگلے ہی سیریز میں ٹیم انتظامیہ یعنی کوچ اور مینیجر کو شاہد آفریدی میں "ٹیمپرامنٹ" کی کمی نظر آئی لہٰذا ایک رپورٹ میں وہ ساری خامیاں جو کسی انسان میں ہوسکتی ہیں، شاہد آفریدی کی شخصیت کا خاصہ قرار دی گئیں اور انہیں قیادت سے ہٹا دیا گیا اور وہ بھی اس تذلیل کے ساتھ کہ شاہد خود ہی ٹیم سے بھی باہر بیٹھنے پر مجبور ہوئے۔

شاہد آفریدی اور یونس خان کے علاوہ اس دوران شعیب ملک اور سلمان بٹ نے بھی کپتانی کا مز ا چکھا اوران دونوں کے پاس کرکٹ بورڈ کو خوش رکھنے کا گُر بھی تھا لیکن سلمان بٹ تو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور شعیب اپنے پاس موجود رقم کے بارے میں انٹیگرٹی کمیٹی کو مطمئن نہ کرسکے لہٰذا دونوں اب ٹیم سے باہر بیٹھے ہیں۔

یوں اگر دیکھا جائے تو وہ تمام لوگ جنہوں نے گزشتہ ایک عشرے میں پاکستان کی کپتانی کی، ٹیم سے باہر بیٹھے ہیں اور بطور کھلاڑی بھی کیریئر جاری نہ رکھ سکے۔ لہذا وقار یونس کے اس بیان، کہ ہمیں مستقبل کیلئے نوجوان کپتان ڈھونڈنا چاہیے، پر میرے خدشات حق بجا ہیں کہ "پھر کس کی شامت آئی ہے"۔

Facebook Comments