میٹھا ہپ ہپ، کڑوا تھو تھو؛ مظہر مجید کے بیان پر آسٹریلیا تلملا اٹھا

پاکستان کے زیر عتاب کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف دھوکہ دہی و بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت لندن میں جاری ہے جس نے سوموار کو ایک ڈرامائی موڑ لیا اور سٹے باز مظہر مجید کے بیانات کی آڈیو ٹیپس نے اک تہلکہ مچا دیا ہے۔ خصوصاً آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کو سب سے بڑا میچ فکسر قرار دینے کا بیان معاملے کو نیا رخ دے سکتا ہے۔

یہ وہی آسٹریلیا ہے جس نے پاکستان کے کھلاڑیوں کے اسپاٹ فکسنگ تنازع میں ملوث ہونے کے بعد سے بھرپور مہم چلائی کہ ان پر تاحیات پابندی لگائی جائے۔ رکی پونٹنگ سمیت آسٹریلیا کے متعدد کھلاڑیوں نے پاکستان کرکٹ کے خلاف بیانات جاری کیے۔ جب فروری میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر کم از کم 5،5 سال کی پابندی عائد کی تو آسٹریلیا اور چند ممالک نے سب سے زیادہ شور مچایا کہ ان کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی لگانی چاہیے تھی، اور یہ پابندی بہت کم ہے۔ یعنی اس وقت آسٹریلیا مظہر مجید کے بیانات پر آمنا و صدقنا کر رہا تھا آج جب اس نے صرف دو آسٹریلوی کھلاڑیوں کے نام لیے ہیں اور آسٹریلین کھلاڑیوں کو سب سے بڑا میچ فکسر قرار دیا ہے تو اس کے تمام بیانات بے بنیاد نظر آ رہے ہیں۔

مظہر مجید نے آڈیو ٹیپ میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے تیز گیند باز ناتھن بریکن کے مینیجر رہ چکے ہیں

مظہر مجید نے آڈیو ٹیپ میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے تیز گیند باز ناتھن بریکن کے مینیجر رہ چکے ہیں

مظہر مجید نے کاروباری شخصیت کے روپ میں ملنے والے 'نیوز آف دی ورلڈ' کے صحافی مظہر محمود کو بتایا تھا کہ آسٹریلیا کے کھلاڑی مخصوص اوورز میں طے شدہ کام (بریکٹ) کرتے ہیں، جیسا کہ کتنے رنز بنیں گے وغیرہ۔ عدالت میں پیش کردہ آڈیو ٹیپ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کے کھلاڑی سب سے بڑے سٹے باز ہیں، وہ ایک کھیل میں 10 بریکٹ بھی لگا جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ مظہر مجید نے بتایا کہ وہ آسٹریلیا کے تیز گیند باز ناتھن بریکن کے مینیجر رہ چکے ہیں اور بریٹ لی اور رکی پونٹنگ تک رسائی بھی رکھتے ہیں۔

آڈیو بیان منظر عام پر آنے کے بعد وہی کرکٹ آسٹریلیا، جو پاکستان کے خلاف بیانات آنے تک ان پر تہہ دل سے یقین کر رہا تھا، اب یکدم بھڑک اٹھا ہے۔ منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ جیمز سدرلینڈ نے کہا ہے کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ آسٹریلیا کا کوئی کھلاڑی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے۔

سدرلینڈ کے علاوہ آسٹریلین کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو پال مارش بھی میدان میں کود پڑے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کی ساکھ پر اک ایسا شخص انگلی اٹھا رہا ہے جس کی اپنی ساکھ بہت زیادہ مشکوک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مت بھولیے کہ ہمارے تمام میچز آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کی نطروں میں ہوتے ہیں اور اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ آسٹریلیا کا کوئی کھلاڑی کسی بھی قسم کی میچ فکسنگ میں ملوث رہا ہو۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ کسی بامعنی و معتبر معلومات کے سامنے آنے کے بعد ہم تحقیقات کا خیرمقدم کریں گے بصورت دیگر ان الزامات کو بے بنیاد ہی جانیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آسٹریلیا کے کھلاڑی انتہائی پڑھے لکھے ہیں اور میچ اور اسپاٹ فکسنگ کے خطرات اور نتائج سے اچھی طرح آگاہ ہیں، اس کے علاوہ ہم کسی بھی مشتبہ شخص کی جانب سے رابطہ کرنے کے معاملے کو آئی سی سی کے سامنے لانے کی طویل تاریخ بھی رکھتے ہیں، اس لیے ان الزامات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

بہرحال، ان تمام تردیدی بیانات کے باوجود مظہر مجید کے بیانات تہلکہ مچا چکے ہیں، اگر پاکستان کے کھلاڑیوں کے خلاف ان کے بیانات کو سنجیدہ لے کر کارروائی کی گئی ہے، تو یہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل اور برطانیہ کی عدالت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس تحقیقات کو مزید آگے بڑھائے اور کرکٹ کو سٹے بازی کی لعنت سے پاک کرے۔ اگر آئی سی سی اس پر مزید کوئی قدم نہیں اٹھاتا تو یہ اس کی دوغلی پالیسی کا اظہار ہوگا۔

Facebook Comments