چیئرمین پی سی بی کی تقرری کے خلاف عدالت میں مقدمہ درج

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین ذکا اشرف کی تقرری کو لاہور کی عدالت عالیہ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی تقرری بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے قوانین کے مطابق ہونی چاہیے۔

ذکا اشرف اب تک اپنے عہدے کا چارج نہیں سنبھال سکے

ذکا اشرف اب تک اپنے عہدے کا چارج نہیں سنبھال سکے

طارق اسد ایڈوکیٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی چیئرمین کی تقرری کے طریق کار کے خلاف درخواست جمع کروائی ہے۔ طارق اسد نے 1962ء آرڈیننس کی شق 3 اور 4 کو بنیاد بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نےحال ہی میں اپنے آئین میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں اور تمام رکن ممالک اس کے پابند ہیں۔ نئی تبدیلیوں کے مطابق تمام کرکٹ بورڈز کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہیے بصورت دیگر آئی سی سی رکنیت معطل کر دے گی۔ اگر آئی سی سی رکنیت معطل کر دے تو ملک کی قومی ٹیم کسی بھی بین الاقوامی مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتی۔

طارق اسد نے کہا کہ یہ ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ آئین کی شق 5 صدر پاکستان کو چیئرمین پی سی بی کا تقرر کرنے کا اختیار دیتی ہے اور یہ آئی سی سی کے نئے آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اس حوالے سے تشویش لاحق ہے اس لیے میں نے تقرری کے اس عمل کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔ میں چیف جسٹس عدالت عالیہ لاہور جناب جسٹس چودھری اعجاز سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پی سی بی کے آئین میں ترمیم کے احکامات جاری کریں اور مستقبل میں کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین کا تقرر لازماً بذریعہ انتخاب کیا جائے۔ اب پاکستان کرکٹ بورڈ اور وفاقی سیکرٹری کو تین ہفتوں کے اندر اس درخواست کا جواب دینا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے کہا ہے کہ ہمیں اس مقدمے کے بارے میں علم نہیں اور عدالت کی جانب سے کوئی نوٹس ملنے کے بعدہی اس پر کوئی تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے، جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن اِن چیف بھی ہیں، نے رواں ماہ اعجاز بٹ کی جگہ زرعی ترقیاتی بینک کے سربراہ ذکا اشرف کو پی سی بی کا نیا چیئرمین مقرر کیا ہے تاہم وہ موجودہ ادارے میں اپنی ذمہ داریوں کو منتقل کرنے اور دیگر وجوہات کی بنا پر ابھی تک اپنے عہدے کا چارج نہیں سنبھال سکے۔

Article Tags

Facebook Comments