شارجہ ٹیسٹ بے نتیجہ، سیریز میں پاکستان کی تاریخی و یادگار فتح

ملک میں امن و امان کی ناقص صورتحال کے باعث میزبانی سے محرومی، کرکٹ بورڈ کی نااہل انتظامیہ، کپڑوں کی طرح کپتانوں اور انتظامی عہدوں کی تبدیلی، چہار جانب سے پاکستان پر اٹھنے والی انگلیوں اور پابندیاں عائد کرنے کے اشاروں اور حال ہی میں اسپاٹ فکسنگ تنازع میں ملوث ہونے اور ٹیم کے تین بہترین کھلاڑیوں کو برطانیہ میں قید کی سزائیں ہونے کے باوجود پاکستان کرکٹ اب بھی زندہ ہے اور مصباح الیون نے متحدہ عرب امارات میں ثابت کر دیا کہ قومی کرکٹ ٹیم دنیا کی کسی بھی ٹیم کے خلاف کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ خصوصا گزشتہ سال دورۂ انگلستان میں کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے تنازع اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے منظرعام پر آنے اور تین کھلاڑیوں پر پابندی لگنے کے بعد سے پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی کا تسلسل برقرار ہے۔ شارجہ کے صحراؤں میں کرکٹ کی واپسی پاکستان کے لیے طویل عرصے کے بعد کسی بہتر ٹیم کے خلاف فتح کا مژدہ لائی، جہاں میچ تو بے نتیجہ ثابت رہا لیکن سیریز 1-0 سے پاکستان کے نام رہی۔ پاکستان نے آخری مرتبہ 2005-06ء میں بھارت کے خلاف ہوم سیریز جیتی تھی، جو درجہ بندی میں اس سے بہتر ٹیم تھی، اور اب 6 سال بعد پہلی مرتبہ کسی بہتر ٹیم کو زیر کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

میچ کے دوران برطانیہ میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں کو قید کی سزائیں سنائی گئیں، جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھی اپنے شائقین کو مایوس نہیں کیا (تصویر: AFP)

میچ کے دوران برطانیہ میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں کو قید کی سزائیں سنائی گئیں، جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھی اپنے شائقین کو مایوس نہیں کیا (تصویر: AFP)

گزشتہ ایک سال کے عرصے میں پاکستان کی ٹیسٹ میں عمدہ کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس دوران اس نے جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف سیریز برابر کھیلی۔ پھر نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کو انہی کے میدانوں میں شکست سے دوچار کیا اور اب سری لنکا جیسے مضبوط حریف کو زیر کر کے اپنی اہلیت کو ثابت کر دیا۔ گو کہ پاکستان سیریز میں 2-0 کے مارجن سے کامیابی حاصل نہ کرنے کے باعث عالمی درجہ بندی میں اپنا مقام بلند نہ کر سکا لیکن اب دونوں مقابل ٹیموں کے درمیان فاصلہ صرف 1 پوائنٹ کا رہ گیا ہے جو پاکستان بنگلہ دیش کو ہرا کر حاصل کر سکتا ہے اور پانچویں پوزیشن حاصل کر سکتا ہے۔ یوں مصباح کی زیر قیادت پاکستان کے ناقابل شکست رہنے کا تسلسل جاری رہا تو دوسری جانب مرلی دھرن کے بغیر 'بے دانت کا شیر' ثابت ہونے والا سری لنکا بھی بدستور فتح سے محروم رہا۔ مرلی کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے اب تک کھیلے گئے 14 ٹیسٹ مقابلوں میں سری لنکا ایک مرتبہ بھی نہیں جیت پایا۔

شارجہ کے تاریخی میدان میں، جو سب سے زیادہ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کا شرف رکھتا ہے، 2003ء کے بعد پہلی بار کوئی ٹیسٹ مقابلہ کھیلا گیا۔ ٹیسٹ میں پاکستان کی یہاں سے کچھ اچھی یادیں بھی وابستہ نہیں کیونکہ یہاں کھیلے گئے آخری دونوں ٹیسٹ مقابلوں میں پاکستان آسٹریلیا سے اننگز کی دو بدترین شکستیں کھا چکا ہے جن میں سے ایک مقابلے کی دو اننگز میں وہ 59 اور 53 رنز کے اسکور پر آل آؤٹ ہوا تھا اس لیے پاکستان کو اس مرتبہ کچھ سنبھل کر کھیلنے کی ضرورت تھی۔

سوائے کمار سنگاکارا کے بلے بازی کے حوالے سے پوری سیریز میں جدوجہد کرنے والے سری لنکا نے خوش قسمتی سے ٹاس جیتا اور ایک ہموار وکٹ پر عمدہ بلے بازی کا مظاہرہ کر کے سیریز میں پہلی بار پاکستان کے گیند بازوں کو مشکلات سے دوچار کیا۔

کمار سنگاکارا کی عمدہ کارکردگی کا تسلسل جاری رہا، جنہوں نے ایک اور سنچری داغی اور سیریز میں 86 کے اوسط سے 516 رنز بنائے (تصویر: AFP)

کمار سنگاکارا کی عمدہ کارکردگی کا تسلسل جاری رہا، جنہوں نے ایک اور سنچری داغی اور سیریز میں 86 کے اوسط سے 516 رنز بنائے (تصویر: AFP)

سری لنکا کے ان فارم کمار سنگاکارا کی عمدہ کارکردگی کا تسلسل جاری رہا جبکہ کپتان تلکارتنے دلشان نے سیریز میں پہلی بار ایک عمدہ اننگز کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ دونوں کھلاڑیوں نے پہلی اننگز میں دوسری وکٹ پر 173 رنز کی عمدہ شراکت داری قائم کی۔ دلشان نے 168 گیندوں پر 92 رنز بنائے اور بدقسمتی سے اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے جبکہ کمار سنگاکارا 344 گیندوں پر 144 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے۔ ان کے علاوہ دیگر بلے بازوں میں مہیلا جے وردھنے اور کوشال سلوا نے 39،39 رنز بنائے جبکہ آخر میں رنگانا ہیراتھ کے ناقابل شکست 34 رنز کی بدولت سری لنکا نے 400 کا مجموعہ عبور کیا اور پہلی اننگز کا اختتام 413 رنز پر ہوا۔

پاکستان کی جانب سے سعید اجمل 4 وکٹوں کے ساتھ کامیاب ترین گیند باز رہے جبکہ عمر گل نے 3، جنید خان نے 2اور عبد الرحمن نے ایک وکٹ حاصل کی۔

جواب میں پاکستان کا آغاز انتہائی ناقص تھا۔ایک بہت بڑےاسکور کے جواب میں 35 پر اس کے دونوں اوپنرز میدان بدر ہو چکے تھے۔ محمد حفیظ نے محض 6اور توفیق عمر نے صرف 19 رنزبنائے۔اس موقع پر نوجوان ان فارم بلے باز اظہر علی نے یونس خان کے ساتھ مل کر پاکستان کو ایک اچھے جواب کی بنیاد فراہم کی۔ دونوں نے تیسری وکٹ پر 98 رنز کی شراکت داری قائم کی۔ اظہر علی نے کیریئر کے 16 ویں ٹیسٹ میں اپنی 11 نصف سنچری بنائی جبکہ دوسرے اینڈ سے تجربہ کار یونس خان نے انتہائی ذمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیریئر کی 18 ویں سنچری بنائی۔ انہوں نے چوتھی وکٹ پر کپتان مصباح الحق کے ساتھ مل کر 100 رنز کی ایک اور میچ بچاؤ شراکت داری قائم کی اور یوں پاکستان جو محض پر 35 اپنے دونوں اوپنرز سے محروم ہو چکا تھا صرف ایک مزید وکٹ گنوا کر اسکور کو 233 تک لے گیا تاہم یونس کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستانی بیٹنگ لائن اپ ایک اینڈ سے غیر محفوظ ہو گئی۔ کپتان مصباح الحق دوسرے اینڈ وکٹیں گرتے دیکھتے رہے۔ آخری کھلاڑیوں میں اسد شفیق کے 16 اور سعید اجمل کے 12 رنز کے علاوہ کوئی بلے باز دہرے ہندسے میں بھی داخل نہ ہو سکا اور پاکستان کی پہلی اننگز 340 رنز پر تمام ہوئی اور یوں اسے پہلی اننگز میں 73 رنز کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔

یونس خان نے کیریئر کی 18 ویں سنچری 188 گیندوں پر بنائی (تصویر: AFP)

یونس خان نے کیریئر کی 18 ویں سنچری 188 گیندوں پر بنائی (تصویر: AFP)

چوتھے روز یونس اور مصباح کی اس عمدہ بلے بازی نے میچ کو پاکستان کے ہاتھوں سے پھسلنے سے بچا لیا لیکن درحقیقت میچ کو ڈرا کی جانب دھکیلنے میں اہم کردار پانچویں روز شارجہ میں ہونے والی بارش نے ادا کیا۔ صحرائے عرب کے مشرقی کنارے پر موجود اس علاقے میں شاذ و نادر ہی بارش ہوا کرتی ہے لیکن کرکٹ یہاں بھی اپنے ساتھ بارش لے آئی۔ پانچویں روز کا کھیل ڈھائی گھنٹے تاخیر سے شروع ہو سکا لیکن 237 رنز کی برتری حاصل ہونے کے باوجود سری لنکا میں فتح کے لیے اعتماد کی کمی دکھائی دی اور انہوں نے بجائے اننگز ڈکلیئر کرنے کے اپنی بلے بازی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور شاید 4 اوورز کے بعد ہی انہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ پتھر بھاری ہے اس لیے اسے پاکستان پر لاد دیا جائےاور 181 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈکلیئر کر نے کا اعلان کر دیا۔ یوں پاکستان کو آخری دن کے بقیہ 61 اوورز میں 255 رنز کا قابل عبور ہدف ملا۔

پاکستان کو 4 سے کچھ زیادہ کی اوسط سے رنز درکار تھے اور پانچویں روز کی بلے بازی کے لیے مشکل وکٹ پر یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ابتدا میں کچھ تیز رفتاری کی ضرورت تھی اور اس کا تمام تر انحصار محمد حفیظ کی کارکردگی پر تھا، جن کی بدولت ابتدائی 5 اوورز میں 20 رنز بنا کر پاکستان نے کسی حد تک اپنے ارادوں کو ظاہر کر دیا لیکن بدقسمتی سے اسی اوور میں محمد حفیظ (13 رنز) کا رن آؤٹ پاکستان کو مہنگا پڑ گیااور پھر پاکستان نے ہدف کا تعاقب چھوڑ دیا۔ بقیہ پورے دن ایک مرتبہ بھی پاکستانی بلے بازوں نے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ فتح کے لیے کھیل رہے ہیں بلکہ ان کی تمام تر توجہ سیریز بچانے پر مرکوز تھی جو پہلے ہی 1-0 سے پاکستان کے حق میں تھی۔ پاکستانی بلے بازوں کی سست رفتاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے چوتھی اننگز میں محض 87 رنز بنانے کے لیے 57 اوورز کھیلے۔ سری لنکن اسپنرز سورج رندیو اور رنگانا ہیراتھ نے دونوں اینڈز سے رنز کے سامنے بند باندھ دیا۔ اظہر علی نے7 اور یونس خان نے 11 رنز بنائے اور پویلین لوٹے۔ جبکہ دوسرے اینڈ سے توفیق عمر روایتی سست رفتار انداز میں کھیلتے رہے اور 121 گیندوں پر 39 رنز بنانے کے بعد سورج رندیو کا نشانہ بنے۔ مصباح الحق 9 اور اسد شفیق 7 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ اس طرح شارجہ ٹیسٹ بے نتیجہ ختم ہوا اور سیریز 1-0 سے پاکستان کے نام رہی۔

کمار سنگاکارا کو دونوں اننگز میں عمدہ بلے بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ وہ سری لنکا کی جانب سے سیریز کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے جس میں انہوں نے تین ٹیسٹ میچز میں 86 کے اوسط سے 516 رنز بنائے۔ پاکستان کے سعید اجمل، جنہوں نے آخری ٹیسٹ میں بھی 7 وکٹیں حاصل کیں، کو سیریز میں سب سے زیادہ یعنی 18 وکٹیں حاصل کرنے پر پاکستان کی جانب سے سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

پاکستان بمقابلہ سری لنکا، تیسرا ٹیسٹ

3 تا 7 نومبر 2011ء

شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم، شارجہ، متحدہ عرب امارات

نتیجہ: بے نتیجہ

میچ کے بہترین کھلاڑی: کمار سنگاکارا (سری لنکا)

سیریز کے بہترین کھلاڑی: کمار سنگاکارا (سری لنکا) اور سعید اجمل (پاکستان)

سری لنکا پہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
تھارنگا پرناوتنا ک یونس خان ب عمر گل 4 5 1 0
تلکارتنے دلشان ک یونس خان ب سعید اجمل 92 168 12 1
کمار سنگاکارا ک یونس خان ب سعید اجمل 144 344 13 2
مہیلا جے وردھنے ایل بی ڈبلیو ب جنید خان 39 108 2 0
اینجلو میتھیوز ک عدنان اکمل ب عبد الرحمن 17 70 1 0
کوشال سلوا ک اظہر علی ب سعید اجمل 39 124 2 0
کوسالا کولاسیکرا ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 15 28 2 0
سورج رندیو ایل بی ڈبلیو ب عمر گل 1 6 0 0
دھمیکا پرساد ک عدنان اکمل ب جنید خان 17 36 3 0
رنگانا ہیراتھ ناٹ آؤٹ 34 35 4 1
چناکا ویلیگیدرا ب عمر گل 0 3 0 0
فاضل رنز ل ب 5، ن ب 6 11
مجموعہ 153.3 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 413

 

پاکستان (گیند بازی) اوور میڈن رنز وکٹیں
عمر گل 29.3 10 76 3
جنید خان 27 4 94 2
سعید اجمل 51 4 132 4
عبد الرحمن 45 14 103 1
محمد حفیظ 1 0 3 0

 

Pakistan پہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ ک جے وردھنے ب ویلیگیدرا 6 19 0 0
توفیق عمر اسٹمپ سلوا ب ہیراتھ 19 40 2 0
اظہر علی ب کولاسیکرا 53 164 6 0
یونس خان ب ویلیگیدرا 122 211 12 2
مصباح الحق ک دلشان ب رندیو 89 261 7 1
اسد شفیق ک سلوا ب ویلیگیدرا 16 39 1 0
عدنان اکمل ایل بی ڈبلیو ب ہیراتھ 7 19 1 0
عبد الرحمن ک پرناوتنا ب ویلیگیدرا 3 13 0 0
عمر گل ک میتھیوز ب ہیراتھ 5 22 0 0
سعید اجمل ناٹ آؤٹ 12 39 1 0
جنید خان ب ویلیگیدرا 0 6 0 0
فاضل رنز ل ب 2، و 3، ن ب 3 8
مجموعہ 138.2 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 340

 

سری لنکا (گیند بازی) اوور میڈن رنز وکٹیں
چناکا ویلیگیدرا 35.2 10 87 5
دھمیکا پرساد 4 0 9 0
کوسالا کولاسیکرا 25 7 65 1
رنگانا ہیراتھ 42 14 85 3
سورج رندیو 25 5 74 1
تلکارتنے دلشان 7 1 18 0

 

سری لنکا دوسری اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
تھارنگا پرناوتنا ناٹ آؤٹ 76 168 5 1
تلکارتنے دلشان ک محمد حفیظ ب عمر گل 4 3 1 0
کمار سنگاکارا ک اسد شفیق ب محمد حفیظ 51 91 2 2
مہیلا جے وردھنے ایل بی ڈبلیو ب عمر گل 20 30 2 0
اینجلو میتھیوز ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 13 27 2 0
کوشال سلوا ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 0 4 0 0
کوسالا کولاسیکرا ب سعید اجمل 7 22 0 0
رنگانا ہیراتھ ناٹ آؤٹ 1 5 0 0
فاضل رنز ل ب 6، و 1، ن ب 2 9
مجموعہ 58 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر؛ ڈکلیئر 181

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
عمر گل 15 1 44 2
جنید خان 5 3 9 0
عبد الرحمن 12 1 38 0
محمد حفیظ 10 1 34 1
سعید اجمل 16 2 50 3

 

Pakistan دوسری اننگز (ہدف: 255 رنز) رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ رن آؤٹ 13 20 2 0
توفیق عمر ک سنگاکارا ب رندیو 39 121 4 0
اظہر علی ایل بی ڈبلیو ب ہیراتھ 7 25 1 0
یونس خان ک متبادل کھلاڑی (لاہیرو تھریمانے) ب ویلیگیدرا 11 35 0 0
مصباح الحق ناٹ آؤٹ 9 86 1 0
اسد شفیق ناٹ آؤٹ 7 55 0 0
فاضل رنز ل ب 1 1
مجموعہ 57 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 87

 

سری لنکا(گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
چناکا ویلیگیدرا 9 3 19 1
کوسالا کولاسیکرا 3 0 15 0
رنگانا ہیراتھ 22 14 19 1
سورج رندیو 19 9 21 1
تلکارتنے دلشان 4 0 12 0

Facebook Comments