سی ایل ٹی 20: شین واٹسن کو جلد وطن واپسی کا حکم

1 494

مستقبل قریب میں طویل طرز کی کرکٹ میں درپیش چیلنجز کے باعث آسٹریلیا جنوبی افریقہ میں جاری چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی سے ہر گز خوش نہیں دکھائی دیتا اور اس حوالے سے قومی سلیکٹر جان انویریئرٹی کے بیان کے بعد اب کرکٹ آسٹریلیا نے شین واٹسن کو واضح ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ سی ایل ٹی ٹوئنٹی میں سڈنی سکسرز کی پیشرفت سے قطع نظر آئندہ دو مقابلے کھیلنے کے بعد وطن واپسی کی راہ پکڑیں تاکہ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ہونے والی اہم ترین ٹیسٹ سیریز کے لیے تیاری کر سکیں۔

شین واٹسن اس وقت چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں سڈنی سکسرز کی نمائندگی کر رہے ہیں (تصویر: AP)
شین واٹسن اس وقت چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں سڈنی سکسرز کی نمائندگی کر رہے ہیں (تصویر: AP)

سی ایل ٹی ٹوئنٹی 2012ء میں سڈنی کی پیشرفت کے امکانات اس لیے کافی دکھائی دیتے ہیں کیونکہ گزشتہ روز اس نے پہلے ہی گروپ میچ میں بھارت کی متعدد بار کی چیمپئن ٹیم چنئی سپر کنگز کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ اب سڈنی یارکشائر اور ہائی ویلڈلائنز کے خلاف اپنے دیگر گروپ میچز کھیلے گا جس کے بعد واٹسن وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔ یعنی وہ ممبئی انڈینز کے خلاف آخری گروپ مقابلہ نہیں کھیل پائیں گے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو جیمز سدرلینڈ نے کہا ہے کہ ہم شین واٹسن کے بارے میں فکر مند ہیں اور ماضی میں ان کے زخمی ہونے کا ریکارڈبتاتا ہے کہ ہمیں انہیں بہت سنبھال کر استعمال کرنا ہوگا اور ہم ایسا کر بھی رہے ہیں۔ واٹسن کو واپس بلوانے کا مقصد انہیں آرام کا موقع فراہم کرنا ہے اور ساتھ ساتھ طویل طرز کی کرکٹ سے کچھ مانوسیت پیدا کرنا بھی۔

اس وقت شین واٹسن کے علاوہ ڈیوڈ وارنر، مائیکل ہسی، بین ہلفناس، مچل اسٹارک، پیٹ کمنز اور بریڈ ہیڈن جیسے اہم کھلاڑی سی ایل ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کے لیے جنوبی افریقہ میں موجود ہیں، جہاں وہ مختلف ٹیموں کی نمائندگی کر رہے ہیں، جن میں آسٹریلیا کی دو ٹیمیں پرتھ اسکارچرز اور سڈنی سکسرز بھی شامل ہیں۔

آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز 9 نومبر سے گابا، برسبین میں شروع ہو رہی ہے جبکہ اس کے بعد آسٹریلیا نے دسمبر اور جنوری میں سری لنکا کے خلاف بھی تین ٹیسٹ میچز کھیلنے ہیں۔ اس لیے مختصر ترین طرز کی کرکٹ سے یکدم طویل طرز کی کرکٹ میں منتقلی اور جنوبی افریقہ اور سری لنکا جیسی ورلڈ کلاس ٹیموں کا سامنا ہونے کی وجہ سے آسٹریلیا ایک جامع حکمت عملی مرتب کر رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اہم کھلاڑیوں کے حوالے سے اس کی یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوگی؟