’یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا؟‘ پاکستان کو جوابی وائٹ واش

’یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا؟‘ چند روز قبل انگلستان کے خلاف تاریخی ’گرین واش‘ کا جشن منانے والا پاکستان ایک روزہ سیریز میں خود گوروں کے ہاتھوں ’اصلی تے وڈے‘ وائٹ واش کا شکار ہو گیا۔ انگلستان نے اچانک ہی فارم میں واپس آ جانے والے کیون پیٹرسن کی مسلسل دوسری سنچری کی بدولت 4 وکٹوں سے فتح سمیٹ کر پاکستان کے خلاف سیریز 4-0 سے جیت لی اور کسی حدتک ٹیسٹ سیریز میں ہونے والے کلین سویپ کا ازالہ کر دیا ہے۔

ٹیسٹ سیریز میں چاروں شانے چت ہو جانے کے بعد انگلش شائقین کے لیے ایک حوصلہ افزاء منظر، ٹیم جیتی گئی ٹرافی کے ہمراہ (تصویر: Getty Images)

ٹیسٹ سیریز میں چاروں شانے چت ہو جانے کے بعد انگلش شائقین کے لیے ایک حوصلہ افزاء منظر، ٹیم جیتی گئی ٹرافی کے ہمراہ (تصویر: Getty Images)

پاکستان ، جسے دنیا تیز گیند بازوں کا گہوارہ سمجھتی ہے، صرف ایک تیز باؤلر جنید خان کے ساتھ میدان میں اترا۔ درحقیقت یہ ایک کربناک منظر تھا خصوصاً پاکستان کے ان شائقین کے لیے جو ہمیشہ تیز باؤلرزکو دیکھنا پسند کرتے ہیں اور کنڈيشنز بھی ایسی نہ تھیں کہ پاکستان پانچ اسپنرز کے ساتھ میدان میں اترتا۔ شاید یہی فیصلہ پاکستان کے خلاف گیا اور بالآخر انگلستان نے دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والا آخری ون ڈے بھی جیت کر سیریز اپنے نام کر ڈالی۔

یوں 2010ء کے اواخر میں شروع ہونے والا کامیابیوں کا سفر بالآخر اپنے اختتام کو پہنچا اور نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، زمبابوے، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے خلاف مسلسل سیریز فتوحات کے بعد پاکستان کو شکست کا کڑوا گھونٹ لینا پڑا ہے اور اس کی کئی وجوہات تو بالکل سامنے ہیں۔ بلے باز کسی مقابلے میں نہیں چلے، وہ اسپنرز جن کے بل بوتے پر پاکستان نے ٹیسٹ سیریز میں انگلش لائن اپ کے پرخچے اڑائے، ایک روزہ سیریز میں بجھے بجھے نظر آئے۔ حکمت عملی اور غلبہ پانے کی تحریک کا مکمل فقدان نظر آیا اور ایسا نظر آتا تھا کہ پاکستانی ٹیم شدید دباؤ میں آ گئی ہے جو ایک پراسرار امر ہے کیونکہ ایک ٹیم کے خلاف کلین سویپ کے بعد تو اعتماد کی سطح بلند ہونی چاہیے بجائے اس کے کہ ٹیم دباؤمیں کھیلے۔

بہرحال، تو آخری ایک روزہ میں پاکستان کو ٹاس جیت کر ایک مرتبہ پھر پہلے بلے بازی کا موقع ملا لیکن ایک اچھا ابتدائی پلیٹ فارم ملنے کے باوجود آنے والے بلے بازوں نے اسے ضایع کر دیا اور نتیجہ ایک اور شکست کی صورت میں نکلا۔ دوسرے ہی اوور میں وکٹ گنوانے کے باوجود پاکستان نے نوجوان اظہر علی اور اسد شفیق کی نصف سنچریوں کی بدولت 112 رنز تک مزید کوئی وکٹ نہ گرنے دی لیکن اسد شفیق کے بولڈ ہونے کے ساتھ ہی اننگز بجائے آگے بڑھنے کے پیچھے کی طرف چل پڑی۔

محدود طرز کی کرکٹ میں میچ پر گرفت ہی اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب آپ کی رنز بنانے کی رفتار مستقلاً آگے بڑھے لیکن پاکستان جسے ابتدائی 23 اوورز تک تقریباً 5 کا اوسط حاصل تھا آخر تک اسے آگے بڑھانے میں کامیاب نہ ہو سکا بلکہ جب آخری اوور کی آخری گیند پر پوری ٹیم آؤٹ ہوئی تو پاکستان کا اوسط 4.74 ہو گیا۔ اس لیے اصل ذمہ داری تو مڈل آرڈر کی ناقص کارکردگی پر عائد ہوتی ہے جو مضبوط بنیاد کو مستحکم نہ کر پایا۔ اظہر علی کے 58 اور اسد شفیق کے 65 رنز کے بعد گویا رنز کا کال پڑ گیا۔ نہ پاکستان نے آخری پاور پلے کا بھرپور استعمال کیا اور نہ ہی آخری پانچ اوورز میں کوئی خاص رنز بنا پایا بلکہ وکٹیں ہی گرتی رہیں۔ شعیب ملک نے 23 اور مصباح الحق نے 46 رنز کی اننگز کھیلیں اور پانچویں وکٹ پر 58 رنز جوڑے اور تمام تر امیدیں شاہد آفریدی سے وابستہ رکھیں کہ وہ آ کر اسکور میں کچھ تیزی سے اضافہ کریں گے لیکن وہ 10 گیندوں پر 9 رنز بنا کر چلتے بنے۔ پاکستان کی اننگز 50 اوورز میں 237 رنز پر تمام ہوئی یوں ایک لمحے جہاں پاکستان 275 سے زائد رنز حاصل کرتا دکھائی دیتا تھا، ایک معمولی سے اسکور پر آؤٹ ہوگیا۔

انگلستان کی جانب سے جیڈ ڈرنباخ نے 4 جبکہ اسٹیون فن اور ڈینی برگس نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔ ایک وکٹ ٹم بریسنن کو بھی ملی۔

کیون پیٹرسن کی کیریئر بیسٹ اننگز پاکستان کو زیر کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئی (تصویر: Getty Images)

کیون پیٹرسن کی کیریئر بیسٹ اننگز پاکستان کو زیر کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئی (تصویر: Getty Images)

پاکستان نے واحد تیز گیند باز کی حیثیت سے جنید خان کو کھلایا جنہوں نے حریف ٹیم کے سب سے بہترین فارم کے حامل بلے باز ایلسٹر کک کو دوسری ہی گیند پر میدان بدر کر کے سنسنی پھیلا دی اور توقعات سے کم اسکور کرنے کے باوجود پاکستان کی امیدوں کے چراغ روشن کر دیے لیکن درحقیقت پاکستان میچ میں اس وقت واپس آیا جب یکے بعد دیگرے پاکستان نے جوناتھن ٹراٹ، ایون مورگن اور جوس بٹلر کی وکٹیں حاصل کیں۔ جوناتھن ٹراٹ کیون پیٹرسن کے ساتھ 46 رنز کی شراکت قائم کرنے کے بعد عبد الرحمن کی ایک گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے اور کچھ ہی دیر بعد سعید اجمل نے ایک ہی اوور میں مورگن اور بٹلر کی وکٹیں سمیٹ کر پاکستان کو اچھی پوزیشن پر پہنچا دیا۔

یہاں پاکستان کو کریگ کیزویٹر کو اہمیت نہ دینا پاکستان کے لیے مہنگا پڑ گیا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کے پاس ایسا گیند باز نہیں تھا جو اس صورتحال کو سنبھالتا جب بلے باز با آسانی اسپنرز کو کھیل رہے تھے۔ کیزویٹر نے پیٹرسن کے ساتھ مل کر پانچویں وکٹ پر 109 رنز کی فتح گر شراکت داری قائم کی اور یہیں سے انگلستان میچ لے اُڑا۔

کیزویٹر 62 گیندوں پر 43 رنز بنائے اور اپنی غلطی اور اظہر علی کی پھرتی کے باعث رن آؤٹ ہو گئے لیکن میچ انگلستان کے پلڑے میں جھک چکا تھا جسے 61 گیندوں پر اتنے ہی رنز درکار تھے اور کیون پیٹرسن جیسی اہم وکٹ کریز پر موجود تھے اور آگے بھی دو آل راؤنڈرز یعنی سمیت پٹیل اور ٹم بریسنن آنے والے تھے اس لیے پاکستان کے جیتنے کا اس کے علاوہ کوئی امکان نہ تھا کہ وہ وکٹیں حاصل کرے، جس میں وہ ناکام ثابت ہوا۔

کیون پیٹرسن نے اپنے کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی جس میں انہوں نے 153 گیندوں پر 12 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 130 رنز بنائے۔ وہ اوپنر کی حیثیت سے کھیلنے آئے اور اس وقت میدان سے باہر آئے جب انگلستان منزل سے صرف 2 رنز کے فاصلے پر تھا۔

پاکستان کی جانب سے سعید اجمل نے 3 اور جنید خان اور عبد الرحمن نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

کیون پیٹرسن کو مسلسل دوسرے مقابلے میں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ اولین دونوں میچز میں سنچریاں بنانے والے انگلش کپتان ایلسٹر کک سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

میچ کے ساتھ پوری سیریز میں ایک شعبہ جس نے انگلستان کو پاکستان کو مکمل طور پر برتری دلائی وہ تیز گیند بازی کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ بھی تھا۔ انگلش فیلڈرز نے نہ صرف یہ کہ ہر میچ میں 20 سے 30 رنز روکے بلکہ کئی ناقابل یقین کیچ لے کر میچ کا پانسہ اپنے حق میں پلٹا۔ آخری ایک روزہ میں بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی جہاں اظہر علی اور شاہد آفریدی کے بہترین کیچ لے کر پاکستان کی رنز بنانے کی رفتار کو مزید دھیما کیا گیا۔

ٹیسٹ سیریز میں تاریخی فتح کے بعد یہ حیرتناک شکست پاکستان کے لیے بہت بڑا سبق ہے اور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس سے پاکستان کرکٹ میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی خصوصاً ٹیسٹ و ایک روزہ طرز کی کرکٹ کے لیے الگ الگ دستوں اور قائد کا انتخاب عمل میں آ سکتا ہے۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ طویل المیعاد بنیادوں پر پاکستان کرکٹ کے لیے بہت اچھا قدم ہوگا۔

ویسے پاکستان کا ایک اور امتحان ابھی باقی ہے کیونکہ اس نے تین ٹی ٹوئنٹی مقابلے بھی کھیلنے ہیں جن کا پہلا معرکہ 23 فروری کو دبئی میں ہوگا۔

پاکستان بمقابلہ انگلستان

چوتھا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

21 فروری 2012ء

بمقام: دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی، متحدہ عرب امارات

نتیجہ: انگلستان 4 وکٹوں سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: کیون پیٹرسن

سیریز کے بہترین کھلاڑی: ایلسٹر کک

پاکستان رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ ک کیزویٹر ب ڈرنباخ 1 3 0 0
اظہر علی ک مورگن ب ڈرنباخ 58 89 5 0
اسد شفیق ب بریسنن 65 78 6 0
عمر اکمل ک ڈرنباخ ب برگس 12 21 1 0
شعیب ملک ایل بی ڈبلیو ب برگس 23 33 0 0
مصباح الحق ک ٹراٹ ب ڈرنباخ 46 52 1 1
شاہد آفریدی ک بریسنن ب فن 9 10 1 0
عدنان اکمل رن آؤٹ 2 2 0 0
عبد الرحمن ک ٹراٹ ب فن 12 7 2 0
سعید اجمل ب ڈرنباخ 1 5 0 0
جنید خان ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ب 1، ل ب 4، و 3 8
مجموعہ 50 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 237

 

انگلستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
اسٹیون فن 10 0 42 2
جیڈ ڈرنباخ 10 0 45 4
ٹم بریسنن 9 0 47 1
ڈینی برگس 10 0 39 2
کیون پیٹرسن 1 0 4 0
سمیت پٹیل 10 0 55 0

 

انگلستانہدف: 238 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
ایلسٹر کک ایل بی ڈبلیو ب جنید 4 2 1 0
کیون پیٹرسن ک عبد الرحمن ب سعید اجمل 130 153 12 2
جوناتھن ٹراٹ ک حفیظ ب عبد الرحمن 15 32 2 0
ایون مورگن ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 15 16 1 0
جوس بٹلر ک اظہر ب سعید اجمل 0 2 0 0
کریگ کیزویٹر رن آؤٹ 43 62 4 0
سمیت پٹیل ناٹ آؤٹ 17 28 0 0
ٹم بریسنن ناٹ آؤٹ 4 1 1 0
فاضل رنز ل ب 3، و 10 4
مجموعہ 49.2 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 241

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
جنید خان 9.2 0 53 1
عبد الرحمن 10 0 31 1
سعید اجمل 10 0 62 3
شاہد آفریدی 10 0 54 0
محمد حفیظ 10 0 38 0

Facebook Comments