بھارت کی دھمکیوں پر سری لنکا کو بورڈ سربراہ ہٹانا پڑ گیا تھا؛ انکشافات

کرکٹ کے لیے دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے بھارت کا اثر و رسوخ روز افزوں بڑھتا جا رہا ہے اور اب یہ ناجائز حدود تک میں داخل ہونے لگا ہے۔ اس کی ایک اور بڑی مثال گزشتہ سال بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا امپائرز کے فیصلوں پر نظر ثانی کے نظام (ڈی آر ایس) کو لازمی قرار دیے جانے کے بعد بھارتی دباؤ پر واپس لینا تھا اور اب بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے قریبی ممالک کے بورڈ پر اثرات کی ایک اور واضح مثال سامنے آئی ہے جس کے مطابق سری لنکا کرکٹ کے سابق سربراہ و سابق کپتان ارجن راناتنگا کو بھارتی پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی مخالفت پر اپنے عہدے سے محروم ہونا پڑا تھا۔

عالمی کپ فاتح کپتان کچھ عرصہ ہی بورڈ میں سربراہ کی حیثیت سے رہے (تصویر: AFP)

عالمی کپ فاتح کپتان کچھ عرصہ ہی بورڈ میں سربراہ کی حیثیت سے رہے (تصویر: AFP)

سری لنکا کے معروف اخبار ’دی آئی لینڈ‘ نے سری لنکا کرکٹ کی ایک دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے سری لنکن حکومت پر سخت دباؤ ڈالا تھا کہ وہ راناتنگا کو عہدے سے برطرف کرے، جس پر بورڈ نے سابق کپتان کو سربراہی سے نکالا۔ اخبار کے مطابق جب راناتنگا کرکٹ بورڈ کے سربراہ تھے تو انگلستان کی جانب سے سری لنکا کو ایک سیریز کی پیشکش کی گئی تھی،جس کی تاریخیں آئی پی ایل 2009ء سے متصادم تھیں۔

اس موقع پر راناتنگا کی جانب سے کھلاڑیوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سیریز کھیلنے کے لیے آ ئی پی ایل سے جلد واپس آئیں جس کی کھلاڑیوں کی جانب سے تو مزاحمت کی ہی گئی لیکن درون خانہ بی سی سی آئی نے بہت برہمی کا اظہار کیا۔ راناتنگا کی جانب سے موقف میں نرمی نہ ہونے پر بی سی سی آئی نے سری لنکا کرکٹ کے ایک وفد کو ملاقات کے لیے بنکاک طلب کیا۔ اکتوبر 2008ء میں ہونے والے اس اجلاس میں بی سی سی آئی کی نمائندگی اُس وقت کے آئی پی ایل کمشنر للت مودی، موجودہ صدر انی شری نواسن اور نرنجن شاہ نے کی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران سری لنکن وفد کو بی سی سی آئی کا حکم نہ ماننے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق اجلاس تقریباً دو گھنٹے جاری رہا ہے جس میں بی سی سی آئی وفد نے انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کیا۔

اس اجلاس کے بعد چند ہی ہفتوں میں سری لنکا کی وزارت کھیل کی جانب سے ارجن راناتنگا کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

راناتنگا، جو اس وقت برسر اقتدار جماعت کے رکن پارلیمان تھے، اس کے بعد حزب مخالف میں چلے گئے اور اب بھی آئی پی ایل پر کڑی تنقید کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Facebook Comments