عدم انتخاب پر افسوس ضرور لیکن مستقبل سے مایوس نہیں: یاسر حمید

بہت سےپاکستانی شائقین کرکٹ کی نظر میں دورۂ سری لنکا کے لئے جن دستوں کا اعلان کیا گیا ہے، وہ اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ نئی ٹیم انتظامیہ مثبت انداز میں سوچ رہی ہے۔ تینوں طرز کی کرکٹ کے لئے مختلف ٹیموں کا چناؤ اور ٹی ٹوئنٹی کے علیحدہ کپتان کا انتخاب (جو کچھ لوگوں کی نظر میں بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا) کر کے سلیکٹرز نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ محض لکیر کے فقیر نہیں ہیں اور ان میں جراتمندانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے۔

تین الگ دستوں کا انتخاب دیکھ کر خوشی ہوئی۔زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کو قومی ٹیم کی نمائندگی کا موقع ملے گا: یاسر حمید (تصویر: Getty Images)

تین الگ دستوں کا انتخاب دیکھ کر خوشی ہوئی۔زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کو قومی ٹیم کی نمائندگی کا موقع ملے گا: یاسر حمید (تصویر: Getty Images)

دستے میں شامل کھلاڑیوں میں جہاں ایک طرف کچھ ایسے مشہور نام شامل ہیں جو بہت عرصے سے انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی واپسی کے لئے کوشاں تھے، جیسا کہ محمد سمیع اور فیصل اقبال، وہیں کچھ کھلاڑی ایسے بھی ہیں جن کی قسمت کا تارہ گردش میں ہے اور ملک کی نمائندگی کے لیے ایک بار پھر ان پر نظر کرم نہیں ڈالی گئی۔

ایسے ہی ایک کھلاڑی یاسر حمید ہیں، جو آخری بار 2010 ء میں انگلستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں بین الاقوامی سطح پر ایکشن میں نظر آئے تھے، جبکہ اپنا آخری ایک روزہ میچ انہوں نے 2007ء میں بھارت کے خلاف کھیلا تھا۔ شاٹس کی کچھ ناقص سلیکشن کے باعث ان کی کارکردگی کو کافی دھچکا پہنچا حالانکہ وہ بلے بازی میں خداداد صلاحیت کے حامل تھے۔ کچھ کلہاڑیاں انہوں نے اپنے پیروں پر خود چلائیں، جیسا کہ برطانوی جریدے ’نیوز آف دی ورلڈ‘ کو دیا گیا انٹرویو۔یہی وجہ ہے کہ یاسر کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ میں یاسر کی واپسی کے امکانات اس وقت روشن ہوتے دکھائی دیے جب نئی ٹیم انتظامیہ کی جانب سے بارہا اس امر کی یقین دہانی کروائی گئی کہ اب کھلاڑیوں کا انتخاب اُن کے ماضی سے قطع نظر حالیہ کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ سلیکشن کمیٹی نے ممکنہ حد تک اپنے عہد کو نبھایا لیکن اسے یاسر حمید کی بد قسمتی کہیے یا کچھ اور کہ وہ دورۂ سری لنکا کے لئے کسی بھی دستے میں شامل نہ ہو سکے۔

اس حوالے سے معروف ویب سائٹ پاک پیشن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے یاسر نے ٹیم میں اپنی عدم شمولیت افسوس کا اظہار کیا تو وہیں سلیکٹرز کے فیصلوں سے اتفاق بھی کیا۔

یاسر نے کہا کہ میں نے پنٹاگولر ٹرافی اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، جن کی بنیاد پر میں پر امید تھا کہ حالیہ دورے میں میرا نام بھی شامل ہوگامگر بدقسمتی سے سلیکٹرزکا فیصلہ میرے خلاف رہا۔

ماضی میں سلیکشن کمیٹیاں کچھ کھلاڑیوں کو شامل کرنے یا نہ کرنے کی بنا پر تنقید کا بنی رہی ہیں مگر اس بار کم و بیش اچھا تاثر پایا جاتا ہے۔ یاسر کی نگاہ میں حالیہ دورے میں ہر فارمیٹ کے لئے علیحدہ اسکواڈ کا بھیجا جانا اور نئے کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنا ایک حوصلہ افزا امر ہے۔

یاسر کا کہنا تھا کہ سلیکٹرز کی جانب سے تین الگ دستوں کا انتخاب دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کو قومی ٹیم کی نمائندگی کا موقع ملے۔ آفاق رحیم، حارث سہیل اور ایوب ڈوگر جیسے کم عمر اور ناتجربہ کار افراد کو ٹیم میں دیکھ کر یقیناً مجھے بہت خوشی ہو گی۔ خاص طور پر حارث سہیل کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوںاور مجھے امید ہے کہ وہ بہترین کارکردگی کامظاہرہ کرے گا۔

بہر حال دورۂ سری لنکا کے لیے عدم انتخاب کی تلخ یادوں کو قصہ پارینہ سمجھتے ہوئے 34 سالہ یاسر اب بھی اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں انہیں ٹیم کی نمائندگی کرنے کا موقع ضرور ملے گا۔ انہیں یقین ہے کہ خدا کی مدد اور اپنی محنت کے بل بوتے پر وہ ایک بار پھر سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

یاسر کا کہنا ہے کہ میں جو کچھ بھی ہوں پاکستان کی وجہ سے ہوں اور ایک کرکٹر ہونے کی حیثیت سے میں اپنے وطن کے کچھ بھی کر سکا، تو یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہوگی۔ میں نے یقیناً غلطیاں کی ہوں گی مگر اب وہ سب ماضی کا حصہ ہیں۔ میں اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش جاری رکھوں گا۔ میں مستقبل میں ٹیم میں اپنی شمولیت کے حوالے سے مایوس نہیں ہوں اور اللہ سے دعا گو ہوں کہ میں محنت جاری رکھوں اور میرے لئے انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے ایک بار پھر کھل سکیں۔

یہ انٹرویو پاک پیشن نے خصوصی طور پر کرک نامہ کو ارسال کیا ہے اور ان کی اجازت سے اردو میں ترجمہ کر کے یہاں پیش کیا گیا ہے۔ انٹرویو کی فراہمی پر ہم پاک پیشن انتظامیہ کے شکر گزار ہیں۔

Facebook Comments