دورۂ سری لنکا کٹھن ہوگا، ڈیو واٹمور

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم سال میں اپنے دوسرے بڑے امتحان یعنی دورۂ سری لنکا کی تیاریوں کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔ ٹیم کا تربیتی لاہور میں سخت گرمی میں جاری ہے اور کھلاڑی مشقوں میں جتے ہوئے ہیں۔ ٹیم انتظامیہ کو مکمل اندازہ ہے کہ سری لنکا دورہ کس قدر کٹھن ہوگا اور کوچ ڈیو واٹمور کا کہنا ہے کہ بحر ہند کے جزیرے میں قومی ٹیم کا کڑا امتحان ہوگا۔

ڈیو واٹمور سمجھتے ہیں کہ گرم موسم میں مشقیں سری لنکا کے موسم سے آشنائی میں مددگار ثابت ہوگی (تصویر: AFP)

ڈیو واٹمور سمجھتے ہیں کہ گرم موسم میں مشقیں سری لنکا کے موسم سے آشنائی میں مددگار ثابت ہوگی (تصویر: AFP)

سری لنکا کے دورے کا باضابطہ آغاز یکم جون کو ہمبنٹوٹا میں پہلے ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلے سے ہوگا جس کے بعد دونوں ٹیمیں مزید ایک ٹی ٹوئنٹی، 5 ایک روزہ اور تین ٹیسٹ مقابلے کھیلیں گی۔

لاہور کا درجۂ حرارت آجکل 50 درجے ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو رہا ہے اور اس سخت موسم میں کھلاڑیوں کی بھرپور مشقیں ان کی فٹنس کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واٹمور نے امید ظاہر کی کہ کھلاڑیوں کو سری لنکا کی آب و ہوا سے مانوس ہونے میں کچھ زیادہ دقت پیش نہیں آئے گی کیونکہ مہمان ٹیم کو سر لنکا میں تقریباً ایسے ہی ماحول سے سابقہ پڑے گا۔ واٹمور کا کہنا تھا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں یہاں گرمی میں پریکٹس کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ سری لنکا کا موسم بھی گرم ہو گا اور کھلاڑیوں کو وہاں کے ماحول سے مناسبت پیدا کرنے میں کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئے گی۔ کچھ کھلاڑی دورے کے لئے اپنی تیاری کو یقینی بنانے کے لئے گرمی میں خوب محنت کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگاکیونکہ ہم ایک بہت مضبوط ٹیم سے دو دو ہاتھ کرنے جا رہے ہیں۔

گو کہ سری لنکا کی حالیہ ٹیسٹ معرکوں میں کارکردگی قابل ذکر نہیں رہی لیکن پھر بھی محدود اوورز کے مرحلے میں وہ آسٹریلیا میں ہونے والے سہ فریقی ٹورنامنٹ میں ایک سخت ثابت ہوا اس لیے پاکستان کو بہت جان لڑانا ہوگی۔ قومی سلیکشن کمیٹی نے دورۂ سری لنکا میں تینوں طرز کی کرکٹ کے لئے علیحدہ دستوں کا اعلان کیا تھا، جس کے حوالے سے واٹمور کا کہنا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے عمل سے مطمئن ہیں اور ہر کھلاڑیوں کو مختلف فارمیٹ میں اس کی مناسبت کے لحاظ سے منتخب کیا گیا ہے۔ آسٹریلین نژاد کوچ نے کہا کہ جہاں تک ٹیم کی قیادت کا تعلق ہے تو یہ میرا معاملہ نہیں، پی سی بی جو بھی فیصلہ کرے گا میں اس کی تائید کروں گا۔ انہوں نے دورے کے لئے کچھ نا تجربہ کار کھلاڑیوں کے انتخاب کی بھی حمایت کی اور کہا کہ موجودہ اسکواڈ میں کچھ نئے چہرے شامل ہیں جو یہ ایک مثبت پہلو ہے۔

واٹمور، جو ماضی میں کوچ کی حیثیت سے طویل عرصے تک سری لنکا میں خدمات انجام دے چکے ہیں، نے امید ظاہر کی کہ سری لنکا کی وکٹیں بلے بازی کے لیے مددگار ثابت ہوں گی۔

Facebook Comments