ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تک ٹیم میں شمولیت میرا ہدف ہے: عمران نذیر

پاکستان نے سرزمینِ لنکا پر آخری مرتبہ 2009ء میں میزبان ٹیم کے خلاف واحد ٹی ٹوئنٹی مقابلہ 52 رنز سے جیتا تھا۔ اس میچ میں ’مار دھاڑ‘ کے حوالے سے شہرت رکھنے والے پاکستانی اوپنر عمران نذیر نے محض 28 گیندوں پر 40 رنز کی اننگز تراشی تھی جس میں 5 چوکے اور ایک چھکا بھی شامل تھا۔ عمران نذیر جو بدقسمتی سے اس مرتبہ بھی قومی ٹیم میں جگہ حاصل نہیں کرسکے، پاکستانی ٹیم کے لیے دعاگو ہیں کہ وہ اس مرتبہ بھی سری لنکا کو محدود اوورز کی سیریز میں دبوچنے میں کامیاب رہے گی۔ عمران نذیر نے ان خیالات کا اظہار کرک نامہ کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔

عمران نذیر پاکستان کے آخری دورۂ سری لنکا میں قومی ٹیم کا حصہ تھے (تصویر AFP)

عمران نذیر پاکستان کے آخری دورۂ سری لنکا میں قومی ٹیم کا حصہ تھے (تصویر AFP)

عمران نذیر، جنہیں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے موزوں ترین کھلاڑی سمجھا جاتا ہے، حال ہی میں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں اپنی بلےبازی کے جوہر دکھا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں طویل عرصے سے ناکام ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال سے بھی مایوس نہیں ہیں، ہمیشہ سخت محنت کے ذریعے دوبارہ گرین شرٹ پہنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ میرا ہدف ہے کہ رواں سال سری لنکا میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء میں پاکستانی اسکواڈ میں شامل ہوجاؤں۔

عمران نذیر کا کہنا تھا کہ میں جانتا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ’فوری کارروائی‘ کا کھیل ہے اس لیے کامران اکمل کے جلد آؤٹ ہوجانے کے بعد خود پریشر لینے کے بجائے اپنے جارحانہ کھیل سے سری لنکن ٹیم کو دباؤ میں لینے کی حکمت عملی ترتیب دی اور میں اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہا۔ میرے 40 اور بعد ازاں شاہد آفریدی کے شاندار 50 رنز کی بدولت پاکستان نے اس میچ میں 172 رنز بنائے۔ جس کے بعد رانا نوید الحسن اور سعید اجمل کی تباہ کن باؤلنگ کے باعث ہم وہ میچ بآسانی 52 رنز سے جیتنے میں کامیاب رہے۔

عمران نذیر، جو سری لنکا میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں اور سری لنکن وکٹوں سے واقفیت بھی رکھتے ہیں، کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا کا موسم ایک جیسا ہے تاہم وہاں ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہے، جس وجہ سے کھلاڑیوں کو زیادہ جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ کیونکہ پاکستان و سری لنکا کی وکٹوں میں بھی کافی یکسانیت ہے اس لیے وہاں کی وکٹیں پاکستانی بلے بازوں کو زیادہ پریشان نہیں کریں گی اور جیسا کہ میں ہمیشہ سے مانتا آیا ہوں کہ ٹی ٹوئنٹی صورتحال کا فوری اندازہ لگانے اور اسی وقت جوابی کارروائی کرنے کا کھیل ہے، اس لیے یقیناً پاکستانی ٹیم حریف سائیڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترے گی اور فتح کے لیے یہی سب سے موثر فارمولا ہے۔ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ سے معلوم ہو رہا ہے کہ قومی ٹیم ڈیو واٹمور کی زیر تربیت سخت محنت کررہی ہے اور پریکٹس میچز بھی کھلاڑیوں کو حریف سے نمٹنے کے لیے تیاری میں کافی مدد دیں گے۔

محدود اوورز کی کرکٹ کے ابتدائی معرکے میں کون سی ٹیم فیورٹ ہوگی؟ اس حوالے سے عمران نذیر نے کوئی نتیجہ اخذ کرنے کو قبل از وقت قرار دیا تاہم اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ٹیمیں نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں، اس لیے ٹی ٹوئنٹی سیریز کی پیش گوئی کرنا تو فی الحال مشکل ہے تاہم یہ بات یقینی نظر آتی ہے کہ مقابلہ کانٹے کا ہوگا اور بطور پاکستانی کھلاڑی میری نیک خواہشات قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہوں گی۔عمران نذیر کا کہنا تھا سعید اجمل ہمیشہ کی طرح پاکستان کے لیے ’ترپ کا پتہ‘ ثابت ہوں گے جو سری لنکن بیٹسمینوں کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں۔

پاکستانی بلے بازوں کے حوالے سے بھی عمران نذیر نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ ہمارے بلے باز نوجوان ہیں اور ڈومیسٹک میں ان کی کارکردگی بھی سب کے سامنےہے، اب بین الاقوامی مقابلوں میں وہ یقینی طور پر اپنی فارم کو برقرار رکھیں گے۔

پاکستان کے دورۂ سری لنکا کا باضابطہ آغاز یکم جون کو ہمبنٹوٹا میں پہلے ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلے سے ہوگا جس کے بعد دونوں ٹیمیں 5 ایک روزہ اور 3 ٹیسٹ میچز کھیلیں گی۔

Facebook Comments