نیدرلینڈز کو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں 215 رنز کی شرمناک شکست

کیمار روچ کی شاندار باؤلنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز نے عالمی کپ 2011ء کے گروپ 'بی' کے ایک میچ میں نیدرلینڈز کو ریکارڈ 215 رنز کی بدترین شکست دے دی۔ کیمار روچ عالمی کپ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے چھٹے باؤلر بن گئے ہیں جنہوں نے مسلسل تین گیندوں پر تین ڈچ کھلاڑیوں کو پویلین کا راستہ دکھاتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو فتح سے ہمکنار کیا۔

ہیٹ ٹرک کرنے والے ویسٹ انڈیز باؤلرز کیمار روچ کا ایک فاتحانہ انداز (اے ایف پی)

یہ ویسٹ انڈیز کی کسی بھی ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں سب سے بڑے مارجن سے حاصل کردہ فتح ہے۔ ویسٹ انڈیز جس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 330 رنز بنائے جو عالمی کپ میں ویسٹ انڈیز کادوسرا سب سے بڑا اسکور ہے۔

نیدرلینڈز نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا ناقص فیصلہ کیا جس کا خمیازہ انہیں ابتداء ہی سے بھگتنا پڑا۔ ویسٹ انڈیزکے اوپنرز نے سنچری شراکت قائم کی جس میں ڈیرن اسمتھ کے 53 رنز شامل تھے جبکہ جنوبی افریقہ کے خلاف ناکام ہو جانے والے کرس گیل نے شاندار 80 رنز بنائے۔ ڈیرن براوو نے کرس گیل کے ساتھ مل کر 68 رنز کی شراکت قائم کی اور 30 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ 196 کے مجموعی اسکور پر کرس گیل آؤٹ ہوئے جن کی اننگ میں 2 چھکے اور 7 چوکے شامل تھے۔ اس کے بعد رام نریش سروان اور اور کیرون پولارڈ نے زبردست شراکت داری قائم کی جس کی خاص بات کیرون پولارڈ کی شعلہ فشاں اننگ تھی جنہوں نے 23 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی ۔ مجموعی طور پر پولارڈ کی اننگ 27 گیندوں پر 60 رنز پر مشتمل رہی جس میں 4 بلند و بالا چھکے اور 5 چوکے شامل تھے۔ رام نریش روان بدقسمتی سے اپنی نصف سنچری مکمل نہ کر سکے اور 49 نرز پر ویسٹڈیک کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ ویسٹ انڈیز نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 330 رنز بنائے۔

نیدرلینڈز کی جانب سے پیٹر سیلار نے 45 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ مدثر بخاری کو دو وکٹیں ملیں۔ ویسٹڈیک، ٹین ڈیسکاٹے اور پیٹر لوٹس کو ایک، ایک وکٹ حاصل ہوئی۔

331 رنز کے ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں نیدرلینڈز ابتداء ہی سے دباؤ میں نظر آیا اور کسی بھی لمحے ویسٹ انڈیز کے خلاف کسی قسم کی مزاحمت کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آیا۔ 56 رنز تک پہنچتے پہنچتے اس کے 6 کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔ اس موقع پر ٹام کوپر کے 55 ناقابل شکست رنز اور مدثر بخاری کے 24 رنز نے ان کی کچھ لاج رکھ لی۔ نیدرلینڈز کی پوری ٹیم 32 ویں اوور میں 115 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

نیدرلینڈز کی اننگ کا اختتام ویسٹ انڈین فاسٹ باؤلر کیمار روچ کی ہیٹ ٹرک کے ساتھ ہوا جنہوں نے 32 ویں اوور کی ابتدائی تین گیندوں پر پیٹر سیلار، پیٹر لوٹس اور ویسٹڈیک کو نشانہ بنا کر عالمی کپ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے پہلے ویسٹ انڈین باؤلر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ مجموعی طور پر یہ ایک روزہ کرکٹ کی 28 ویں اور عالمی کپ کی چھٹی ہیٹ ٹرک تھی۔

ان سے قبل عالمی کپ میں بھارت کے چیتن شرما، پاکستان کے ثقلین مشتاق، سری لنکا کے چمندا واس، آسٹریلیا کے بریٹ لی اور سری لنکا کے لاستھ مالنگا نے عالمی کپ میں ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

کیمار روچ نے محض 27 رنز دے کر کیریئر بیسٹ 6 وکٹیں حاصل کیں جبکہ تین وکٹیں سلیمان بین کو ملیں۔ کپتان ڈیرن سیمی بھی ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

کیمار روچ کو شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

ویسٹ انڈیز جسے عالمی کپ میں اپنے پہلے گروپ میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف شکست ہو گئی تھی، کے لیے یہ میچ جیتنا انتہائی ضروری تھا اور اس میچ میں شاندار فتح کے ذریعے اس نے اپنے اگلے حریف بنگلہ دیش کو پیغام دیا ہے کہ 'کالی آندھی' اب زوروں پر ہے۔ اگر 4 مارچ کو شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز بنگلہ دیش کو زیر کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کے کوارٹر فائنل میں پہنچنے کے امکانات بہت زیادہ روشن ہو جائیں گے۔

دوسری جانب نیدرلینڈز کے لیے اب عالمی کپ تقریبا ختم ہو چکا ہے۔ پہلے میچ میں انگلستان کے خلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں اس شرمناک شکست نے ان کے حوصلوں کو ضرور پست کیا ہوگا۔ بہرحال وہ 3 مارچ کو موہالی، چندی گڑھ میں ہاٹ فیورٹ جنوبی افریقہ کے مدمقابل ہوں گے۔

Facebook Comments