وقار یونس آسٹریلیا کے باؤلنگ کوچ بننے کے خواہاں، انٹرویو دے دیا

پاکستان کے سابق تیز گیند باز اور حال ہی میں قومی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ سے استعفیٰ دینے والے وقار یونس آسٹریلیا کا باؤلنگ کوچ بننے کے لیے تیار ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے کرکٹ آسٹریلیا کو انٹرویو بھی دے دیا ہے۔

وقار یونس نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر گزشتہ سال پاکستان کے کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا (تصویر: Getty Images)

وقار یونس نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر گزشتہ سال پاکستان کے کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا (تصویر: Getty Images)

آسٹریلیا کے باؤلنگ کوچ کا عہدہ حالیہ دورۂ ویسٹ انڈیز کے اختتام پر کریگ میکڈرمٹ کے چھوڑ جانے کے بعد سے خالی ہے اور اس عہدے کے حصول کے لیے سڈنی میں مقیم وقار یونس نے کرکٹ آسٹریلیا کے ٹیم پرفارمنس مینیجر پیٹ ہاورڈ کو انٹرویو دیا ہے۔ میکڈرمٹ کو گزشتہ سال مئی میں آسٹریلیا کا باؤلنگ کوچ بنایا گیا تھا لیکن دورۂ ویسٹ انڈیز کے بعد انہوں نے فوری طور پر عہدہ چھوڑ دیا۔

نئے باؤلنگ کوچ کی تلاش اس وقت سخت مشکلات سے دوچار ہے کیونکہ زیادہ تر بہترین امیدوار مصروف ہیں۔ ایلن ڈولڈ، ڈیوڈ ساکر، جو ڈیوس اور ڈیمین رائٹ بین الاقوامی سطح پر مختلف ٹیموں کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ اینڈی بکل اور ڈیمین فلیمنگ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس آسامی میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ایک اور ممکنہ امیدوار سابق آسٹریلوی گیند باز جیسن گلسپی انگلش کاؤنٹی یارکشائر کے کوچ کی حیثیت سے پہلا سیزن گزار رہے ہیں۔

البتہ وقار یونس جو گزشتہ سال اگست میں پاکستان کی کوچنگ چھوڑ گئے تھے، 10 ماہ کے آرام کے بعد اب ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی منظرنامے پر واپسی کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے صحت کے مسائل اور ذاتی وجوہات کو وجہ قرار دیتے ہوئے استعفیٰ دیا تھا لیکن آسٹریلیا کی کوچنگ میں دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو ان کے مسائل حل ہو چکے ہیں یا پھر انہوں نے بہانہ تراش کے قومی کرکٹ ٹیم کی ذمہ داری چھوڑی۔

اگر وقار یونس آسٹریلیا کے باؤلنگ کوچ بن جاتے ہیں تو بلاشبہ وہ اپنے وسیع تجربے اور مہارت کی وجہ سے باؤلرز کے لیے بڑا اثاثہ ثابت ہوں گے خصوصاً ریورس سوئنگ، جو ان کی خاص پہچان تھی، میں وہ آسٹریلوی گیند بازوں کو ماہر بنا سکتے ہیں۔

گزشتہ ایشیز سیریز میں شکست کے بعد اب آئندہ سال ہونے والے اس عظیم مقابلے کے لیے تیز گیند بازوں کی نئی کھیپ کی تیاری کے لیے وقار یونس بلاشبہ ایک اچھے کوچ ثابت ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا اس سلسلے میں کیا قدم اٹھاتا ہے اور قرعہ فال کس کے نام نکلتاہے۔

Facebook Comments