انگلستان نے سیریز جیت لی، آسٹریلیا کو ایک اور کراری شکست

محض ڈیڑھ سال قبل وہ آسٹریلیا جس نے انگلستان کو 7 ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں 6-1 کی ذلت سے دوچار کیا تھا، آج اس قدر قابل رحم ہو چکا ہے کہ اسی ٹیم کے خلاف سیریز 3-0 کے مارجن سے بری طرح ہارا ہے۔ اگر درمیان میں ایک مقابلہ بارش کی نذر نہ ہوتا تو عین ممکن تھا کہ انگلستان کی برتری اس وقت 4-0 کی ہوتی کیونکہ جس طرح کی کارکردگی انہوں نے تمام میچز میں دکھائی ہے اس سے نہیں لگتا کہ آسٹریلیا اولڈٹریفرڈ میں ہونے والے پانچویں و آخری معرکے میں بھی اسے زیر کر پائے گا۔

آسٹریلیا شکست کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑے نقصان سے دوچار ہوا، بریٹ لی میچ کے دوران زخمی ہو کر سیریز سے باہر ہو گئے (تصویر: Getty Images)

آسٹریلیا شکست کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑے نقصان سے دوچار ہوا، بریٹ لی میچ کے دوران زخمی ہو کر سیریز سے باہر ہو گئے (تصویر: Getty Images)

چیسٹر لی اسٹریٹ میں کھیلے گئے چوتھے ایک روزہ میں فتح کے ذریعے انگلستان کی مکمل ہونے والے ایک روزہ مقابلوں فتوحات کا تسلسل 9 میچز تک چلا گیا ہے جو اس کا نیا ریکارڈ ہے۔ گو کہ ناقدین اس کو ہوم گراؤنڈ کی برتری کہہ سکتے ہیں لیکن ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اسی ٹیم نے پاکستان کے خلاف 3-0 سے ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد 4-0 سے ایک روزہ سیریز جیتی تھی اور وہ بھی متحدہ عرب امارات کی اجنبی کنڈیشنز میں۔

بہرحال، چوتھے ایک روزہ میں 8 وکٹوں کی آسان فتح کے مرکزی کردار اسٹیون فن، این بیل اور جوناتھن ٹراٹ رہے جنہوں نے باؤلنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھائی اور ابتدا ہی سے آسٹریلیا کی فتح کے امکانات کا خاتمہ کر دیا۔ باؤلرز کے لیے مددگار کنڈیشنز میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ بہت ہی زبردست ثابت ہوا خصوصاً فن نے صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور مسلسل دو گیندوں پر ڈیوڈ وارنر اور پیٹر فورسٹ کو ایل بی ڈبلیو کر کے انگلش فتح کی بنیاد رکھ دی۔

آسٹریلیا کی رنز کی رفتار دھیمی سے دھیمی ہوتی چلی گئی۔ جب یہ دونوں وکٹیں گریں، اس وقت بھی آسٹریلیا کے چھٹے اوورز میں محض 6 رنز تھے اور جب ٹم بریسنن نے اننگز کے 19 ویں اوور میں شین واٹسن کو بولڈ کر کے کاری ضرب لگائی تب بھی اسکور بورڈ پر محض 57 رنز جمع تھے۔ گو کہ کپتان مائیکل کلارک نے 43 رنز کی اننگز کھیل کر میچ بچانے کی پوری کوشش کی لیکن معاملہ ان کے بس سے باہر ہو چکا تھا یہاں تک کہ وہ اسٹیون فن کی تیسری وکٹ بن کر ٹیم کو سخت مشکلات سے دوچار کر گئے۔ فن نے اگلی ہی گیند پر میتھیو ویڈ کو وکٹوں کے پیچھے کیچ کرا کر آسٹریلین امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔

100 رنز کے مجموعے تک پہنچنے سے پہلے ہی آسٹریلیا اپنی 6 وکٹیں گنوا چکا تھا جب مرد بحران ڈیوڈ ہسی نے بریٹ لی کے ساتھ 'عزت بچانے' کے سفر کا آغاز کیا۔ دونوں بلے بازوں نے ساتویں وکٹ پر 70 رنز کا اضافہ کیا اور آسٹریلیا کو 200 کی نفسیاتی حد تک پہنچنے میں مدد فراہم کی۔ بریٹ لی 41 گیندوں پر 27 رنز بنانے کے بعد رنز کی رفتار کو بڑھانے کی کوشش میں باؤنڈری لائن پر کیچ دے بیٹھے جبکہ ڈیوڈ ہسی 73 گیندوں پر 70 رنزکی شاندار اننگز کے بعد آخری اوور میں آؤٹ ہوئے۔ مقررہ 50 اوورز میں آسٹریلیا 9 وکٹوں پر 200 رنز ہی بنا پایا اور یوں انگلستان کو 201 رنز کا ایک آسان ہدف ملا۔

اسٹیون فن کی چار وکٹوں کے علاوہ دو، دو وکٹیں ٹم بریسنن اور جیمز اینڈرسن نے حاصل کیں جبکہ ایک وکٹ روی بوپارا کو ملی۔

ایک آسان ہدف کے باعث انگلش بیٹنگ لائن اپ پر سرے سے کوئی دباؤ ہی نہ تھا، اور انہوں نے باؤلرز کی بہترین کارکردگی کے باعث بغیر کسی مشکل کے ہدف کی جانب پیشقدمی جاری رکھی۔ صرف اوپنرز کپتان ایلسٹر کک اور این بیل نے ہی اسے 70 رنز کا آغاز فراہم کر دیا۔ کپتان 29 رنز بنانے کے بعد گرنے والی پہلی وکٹ بنے جس کے بعد این بیل نے جوناتھن ٹراٹ کے ساتھ مل کر اسکور میں مزید 66 رنز بڑھائے۔ بیل، جو اوپنر کی حیثیت سے نئے کردار کا خوب لطف اٹھا رہے ہیں اور رنز کے انبار لگا رہے ہیں، نے 69 رنز کی ٹاپ اسکورنگ اننگز کھیلی اور میک کے کی دوسری وکٹ بنے۔

اس کے بعد جوناتھن ٹراٹ اور روی بوپارا نے منزل تک پہنچ کر ہی دم لیا اور ان دونوں کے درمیان 65 رنز کی ناقابل شکست رفاقت قائم ہوئی جس کی بدولت انگلستان نے 48 ویں اوور میں ہی ہدف کو جا لیا۔ ٹراٹ 64 اور بوپارا 33 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔

آسٹریلیا نے سیریز میں ہارنے کے امکانات کا خاتمہ کرنے کے لیے 8 گیندباز آزمائے لیکن سوائے میک کے کے کوئی کامیابی نہ سمیٹ سکا۔ میک کے نے بہت ہی عمدہ گیند بازی کا مظاہرہ کیا اور اپنے 10 اوورز میں صرف 29 رنز دے کر 2 بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔ باقی تمام باؤلرز نامراد ہی لوٹے۔

اسٹیون فن کو تباہ کن باؤلنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

باؤلنگ کے دوران آسٹریلیا کا بہت بڑا نقصان بریٹ لی کا زخمی ہونا تھا، جو اپنے تیسرے اوورز کے دوران پنڈلی میں تکلیف کے باعث مزید باؤلنگ نہ کروا سکے جبکہ یہی مسئلہ شین واٹسن کے ساتھ بھی ہوا۔ عین ممکن تھا کہ آسٹریلیا ان دونوں گیند بازوں کی موجودگی میں میچ کا نتیجہ اپنے حق میں کر لیتا لیکن بلے بازوں کی گھٹیا کارکردگی کے بعد باؤلرز سے اتنی عمدہ کارکردگی کی توقع رکھنا عبث تھا۔

Facebook Comments