شعیب اختر قومی باؤلنگ کوچ بننے کے خواہاں، انتخاب عالم نالاں

اپنے پورے کیریئر میں تنازعات میں گھرے رہنے اور افسوسناک انداز میں اختتام کو پہنچنے والے شعیب اختر نجانے کس ترنگ میں ہیں کہ انہوں نے پاکستان کے باؤلنگ کوچ کے خالی عہدے کے لیے اپنی خدمات پیش کر دی ہیں۔ پاکستان کرکٹ کا باؤلنگ کوچ کا عہدہ رواں سال کے اوائل میں عاقب جاوید کے استعفے کے بعد سے خالی ہے اور اب تک اس کے لیے کوئی مضبوط امیدوار سامنے نہیں آ سکا شاید یہی وجہ ہو کہ شعیب نے اپنی خواہش کا اظہار سر عام کر دیا۔

شعیب اختر کی خواہش اپنی جگہ لیکن اس کا گلا گھونٹنے والے بھی تیار بیٹھے ہیں (تصویر: AFP)

شعیب اختر کی خواہش اپنی جگہ لیکن اس کا گلا گھونٹنے والے بھی تیار بیٹھے ہیں (تصویر: AFP)

بہرحال، کرکٹ تاریخ کے تیز ترین گیند باز رہنے والے شعیب نے لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیاجائے تو وہ باؤلنگ کوچ کے عہدے کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہیں۔ ملک کے لیے خدمت انجام دینا میرے لیے اعزاز ہوگا اور میں نئے آنے والے باؤلرز کی مدد کر پاؤں گا۔ اس کے علاوہ مجھے ملک نے جتنا کچھ دیا اس کو کسی حد تک لوٹانے کا موقع بھی ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ گو کہ قومی ٹیم کے موجودہ گیند باز اچھے ہیں، لیکن ویسے نہیں جیسی کہ ہماری تاریخی روایت رہی ہے۔ ہمیشہ سننے میں آیا ہے کہ ہم باصلاحیت کھلاڑیوں کے حامل ہیں لیکن زیادہ اہم امر یہ ہے کہ ان باصلاحیت نوجوانوں کو تلاش کیا جائے۔ بدقسمتی گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے ہم تیز باؤلنگ کے شعبے میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس لیے شعیب اختر نے تجویز دی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ماضی کے عظیم گیند بازوں کی خدمات حاصل کرے اور اس حوالے سے انہوں نے خصوصاً عمران خان کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ عقابی آنکھ رکھتے ہیں، جو باصلاحیت باؤلر کو اک نظر میں پہچان لیتی ہے۔

عالمی کپ 2011ء میں دنیائے کرکٹ کو خیرباد کہنے والے شعیب اختر نے تنازعات و انجریز سے بھرپور 14 سالہ کیریئر میں 178 ٹیسٹ اور 247 ایک روزہ وکٹیں حاصل کيں ۔

ادھر شعیب اختر نے یہ بیان جاری کیا وہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوچ تلاش کمیٹی نے انہیں سرخ جھنڈی دکھا دی ہے۔ معروف پاکستانی روزنامے 'ایکسپریس ٹریبیون' کے مطابق کمیٹی کے ایک رکن نے کہا ہے کہ شعیب اختر 'پیشہ ور کوچ' کی اہلیت نہ رکھنے کے باعث معیار پر پورے نہیں اترتے۔

گو کہ اخبار نے اس رکن کا نام نہیں لکھا لیکن ہمارے خیال میں یہ یقیناً انتخاب عالم ہوں گے جن کے اپنے زمانے میں شعیب اختر سے سخت اختلافات رہے ہیں، یہاں تک کہ شعیب نے خود ان کے بارے میں اپنی کتاب "Controversially Yours" میں بہت سخت الفاظ استعمال کیے ۔

اب ایسا کیونکر ممکن ہے کہ انتخاب عالم ایسے کھلاڑی کو ایک مرتبہ پھر اس نظام کا حصہ بنائیں، جس سے بالآخر وہ ڈیڑھ سال قبل چھٹکارہ پا چکے ہیں؟ اور اب نام ظاہر نہ کر کے انہوں نے یہ کہا ہے کہ ہمیں ایک پیشہ ور کوچ کی ضرورت ہے جس کے لیے ہم نے کوچنگ کے کم از کم پانچ سال کے تجربے کا مطالبہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں امیدوار کا لیول-3 کوچ ہونا لازمی ہے۔ اور یہ اہلیت رکھنے والے ہی اس آسامی کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور شعیب اختر ان دونوں پر معیارات پر پورا نہیں اترتے۔ بلاشبہ وہ اپنے ایام میں بہترین باؤلر رہے ہیں لیکن یہ ایک اچھے کوچنگ کیریئر کی ضمانت نہیں۔

گو کہ کمیٹی کے اس رکن نے شعیب اختر کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیداران کے ساتھ جھگڑوں اور ڈوپ ٹیسٹ کے معاملات کو وجہ نہیں قرار دیا تاہم جیسا فوری ردعمل کمیٹی کے اس "خفیہ" رکن کی جانب سے آیا ہے اس سے لگتا ہے کہ اس کاشعیب سے اللہ واسطے کا بیر رہا ہے 🙂

Facebook Comments