آسٹریلیا اسپن جال میں پھنس گیا، پاکستان سیمی فائنل کی راہ پر

پاکستان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء میں اب تک ناقابل شکست رہنے والے آسٹریلیا کے خلاف اہم ترین مقابلے میں 32 رنز کی بھاری فتح سمیٹ کر سیمی فائنل کھیلنے کے امکانات روشن کر لیے ہیں۔ اس مقابلے میں پاکستان کے اسپن گیند بازوں نے شاندار کارکردگی دکھائی اور ابتدائی 17 اوورز تک تیز باؤلرز کی باری تک نہ آنے دی اور آسٹریلیا کی ابتدائی وکٹیں صرف 19 رنز پر حاصل کر کے اس کے لیے فتح تو کجا سیمی فائنل کوالیفائی کرنا تک مشکل بنا دیا۔ لیکن مائیکل ہسی، جو مرد بحران کے طور پر جانے جاتے ہیں، کی نصف سنچری نے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کی نشست کو یقینی بنایا۔ اب پاکستان بھارت-جنوبی افریقہ مقابلے کے نتیجے کا انتظار کرے گا جہاں بھارت کی بڑے مارجن سے فتح پاکستان کی جیت کا نشہ ہرن کرنے کے لیے کافی ہوگی لیکن اگر جنوبی افریقہ جیت گیا یا معمولی فرق سے ہارا تو پاکستان کی سیمی فائنل میں پوزیشن یقینی ہوگی۔ بہرحال، اس مقابلے سے دو باتیں تو طے ہو گئیں، ایک آسٹریلیا سیمی فائنل کھیلے گا اور دوسری جنوبی افریقہ کے لیے اب کوئی امید نہیں بچی اور بھارت کے خلاف مقابلے میں جیت صرف اس کی عزت ہی بچائے گی۔

پاکستان نے جس شاندار انداز میں ٹورنامنٹ میں واپسی کی، اس نے ثابت کیا ہے کہ یہ بہت باصلاحیت ٹیم ہے (تصویر: ICC)

پاکستان نے جس شاندار انداز میں ٹورنامنٹ میں واپسی کی، اس نے ثابت کیا ہے کہ یہ بہت باصلاحیت ٹیم ہے (تصویر: ICC)

کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں ہونے والے انتہائی اہم مقابلے میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت پاکستان کو بلے بازی کی دعوت دی اور اوپنرز کی ناکامی کے باوجود پاکستان نے ناصر جمشید کی نصف سنچری کی بدولت اسکور بورڈ پر 149 رنز کا اچھا مجموعہ اکٹھا کیا۔ ناصر اک ایسے موقع پر میدان میں اترے تھے جب پاکستان کو محمد حفیظ کی صورت میں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا، ان سے ایک ذمہ دارانہ اننگز کی ضرورت تھی لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے اور حریف باؤلر مچل اسٹارک کی میچ میں پھینکی گئی پہلی ہی گیند پر وکٹوں کے سامنے دھر لیے گئے۔ مچل کی اندر آتی ایک بہت خوبصورت گیند ان کی 4 رنز کی اننگز تمام کر گئی۔ محض 5 رنز پر کپتان کے لوٹنے کے بعد عمران نذیر بھی ایک مرتبہ پھر ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد واپس لوٹے۔ انہوں نے 14 گیندوں پر 14 رنز بنائے۔ اس صورتحال میں ناصر جمشید اور کامران اکمل کے درمیان تیسری وکٹ کی رفاقت نے پاکستان کو وہ بنیاد مہیا کی جس پر بعد ازاں اننگز کا ڈھانچہ کھڑا ہوا۔ خصوصا ناصر جمشید نے بہت عمدہ بلے بازی کی جس میں دو خوبصورت چھکے بھی شامل تھے۔

ناصر، جو آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی حالیہ سیریز میں شاندار بلے بازی کے باعث کئی ماہرین کرکٹ کی آنکھوں کا تارہ بن گئے ہیں، اس اہم ٹورنامنٹ میں کچھ ملی جلی کارکردگی کے بعد اہم ترین مقابلے میں اپنی اہمیت ثابت کر گئے۔ 41 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد وہ 46 گیندوں پر 55 رنز بنا کر پویلین سدھارے۔

بدقسمتی سے پاکستان کو ناصر کے فورا بعد کامران اکمل کی وکٹ کا بھی نقصان اٹھانا پڑا جو اس وقت تک خاصے سیٹ ہو چکے تھے۔ 26 گیندوں پر 32 رنز بنانے کے بعد وہ اسٹارک کی دوسری وکٹ بنے۔

اس صورتحال میں عبد الرزاق کو عمر اکمل کا ساتھ دینے کے لیے اوپر بھیجا گیا۔ رزاق ٹورنامنٹ میں پہلی بار ایکشن میں دکھائی دیے، اس سے پہلے تمام مقابلوں میں پاکستان نے یاسر عرفات پر انحصار کیا تھا لیکن پہلے ہی مقابلے میں رزاق نے اپنی اہمیت دکھلا دی۔ انہوں نے ایک چھکے اور دو چوکوں کی مدد سے 17 گیندوں پر 22 رنز بنائے۔

آسٹریلیا کی جانب سے نوجوان مچل اسٹارک نے ایک مرتبہ پھر بہت متاثر کیا اور اپنے 4 اوورز میں صرف 20 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں اور ثابت کیا کہ وہ آسٹریلیا کی تیز گیند بازی کا مستقبل ہیں۔ وہ حال ہی میں پاک-آسٹریلیا سیریز میں بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے تھے۔ ان کے علاوہ زاویئر ڈوہرٹی، شین واٹسن اور پیٹ کمنز نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 149 رنز بنا کر آسٹریلیا کو 150 رنز کا مشکل ہدف دیا جو اس وقت اور بھی مشکل ہو گیا جب پاکستان نے آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن اپ کو اسپن جال میں پھنسا لیا۔ تمام ہی اسپن گیند بازوں خصوصا رضا حسن، سعید اجمل اور محمد حفیظ نے شاندار باؤلنگ کی۔ رضا حسن نے شین واٹسن کی صورت میںٹورنامنٹ کی سب سے قیمتی وکٹ حاصل کی۔ اپنے دوسرے اوور کی آخری گیند پر انہوں نے واٹسن کو وکٹوں کے سامنے جا لیا اور اس سے بھی بڑا دھچکا آسٹریلیا کومحمد حفیظ نے کچھ ہی دیر بعد آسٹریلیا کے دوسرے "ڈبلیو" یعنی وارنر کو ٹھکانے لگا دیا۔ وہ 8 رنز بنانے کے بعد وکٹوں کے سامنے دھر لیے گئے۔ ٹورنامنٹ کی خطرناک ترین اوپننگ جوڑی کو ٹھکانے لگانے کے بعد پاکستان کو صرف ایک ہی اینڈ سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جہاں مائیکل ہسی چٹان کی طرح آخری لمحات تک ڈٹے رہے اور انہوں نے اپنی ناقابل شکست نصف سنچری کے ذریعے آسٹریلیا کی سیمی فائنل تک رسائی کو ممکن بنایا۔ آسٹریلیا کو سیمی فائنل کی نشست پکی کرنے کے لیے 112 رنز بنانا ضروری تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے کے بعد آسٹریلیا کی توجہ اسی ہندسے پر مرکوز رہی اور اس نے ہدف تک پہنچنے کا خیال دل سے نکال دیا۔ آسٹریلوی کپتان جارج صرف 15 رنز بنانے کے بعد سعید اجمل کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوئے جبکہ محمد حفیظ نے ایک چھکا کھانے کے بعد کیمرون وائٹ کے خطرے کا خاتمہ کر دیا۔ انہوں نے 12 رنز بنائے۔ اس موقع پر نوجوان رضا حسن نے اپنی دوسری وکٹ حاصل کی اور آل راؤنڈ گلین میکس ویل کو آؤٹ کر کے پاکستان کو مزید محفوظ مقام تک پہنچایا۔

65 رنز پر پانچ کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد آسٹریلیا نے ہدف کا تعاقب تو چھوڑ دیا اور 112 کے ہندسے کو اپنا مطمع نظر بنا لیا۔ ہسی نے وکٹ کیپر میتھیو ویڈ کے ساتھ مل کر ذمہ داری کے ساتھ اس ہندسے تک پہنچنے کی ٹھانی اور جب اس کے قریب پہنچے تو 19 ویں اوور میں سعید اجمل نے دو مسلسل گیندوں پر ویڈ اور کمنز کو آؤٹ کر کے آسٹریلیا کو مزید دو وکٹوں کے خسارے سے دوچار کر دیا۔ اس سے قبل عمر گل نے اننگز کا 18 واں اوور بہت خوبصورت انداز میں کرایا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سے قبل تمام 17 اوورز اسپنرز نے پھینکے تھے اور عمر گل کو 18 واں اور آخری اوور دیا گیا اور انہوں نے اک ایسے مقابلے میں جہاں اسپنرز کو غلبہ حاصل تھا بہت عمدگی سے اپنی اہمیت کا احساس دلایا۔

آسٹریلیا کی اننگز 20 اوورز میں 117 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ پر مکمل ہوئی اور پاکستان نے مقابلہ 32 رنز سے جیت لیا۔ اب قومی ٹیم روایتی حریف بھارت کو جنوبی افریقہ کے مدمقابل دیکھے گی اور اس کا نتیجہ پاکستان کی پیشرفت کو طے کرے گا۔

پاکستان کی جانب سے سعید اجمل نے 17 رنز دے کر سب سے زيادہ یعنی 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ نوجوان رضا حسن نے صرف 14 رنز دے کر 2 اور حفیظ نے 22 رنز دے کر 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

20 سالہ رضا حسن کو شاندار باؤلنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء، سپر 8 مرحلہ، گیارہواں مقابلہ

2 اکتوبر 2012ء

بمقام: پریماداسا اسٹیڈیم، کولمبو، سری لنکا

نتیجہ: پاکستان 32 رنز سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: رضا حسن (پاکستان)

پاکستان رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ ایل بی ڈبلیو ب اسٹارک 4 5 0 0
عمران نذیر ک بیلے ب واٹسن 14 13 2 0
ناصر جمشید ک وارنر ب ڈوہرٹی 55 46 4 2
کامران اکمل ک وائٹ ب اسٹارک 32 26 1 1
عمر اکمل ناٹ آؤٹ 9 8 1 0
عبد الرزاق ک واٹسن ب کمنز 22 17 2 1
شاہد آفریدی ب اسٹارک 4 2 1 0
شعیب ملک ناٹ آؤٹ 4 3 0 0
فاضل رنز ل ب 2، و 3 5
مجموعہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 149

 

آسٹریلیا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
زاویئر ڈوہرٹی 4 0 27 1
مچل اسٹارک 4 0 20 3
شین واٹسن 4 0 23 1
پیٹ کمنز 4 0 42 1
گلین میکس ویل 1 0 6 0
بریڈ ہوگ 3 0 29 0

 

آسٹریلیاہدف: 150 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
شین واٹسن ایل بی ڈبلیو ب رضا حسن 8 14 1 0
ڈیوڈ وارنر ایل بی ڈبلیو ب حفیظ 8 13 1 0
مائیکل ہسی ناٹ آؤٹ 54 47 4 1
جارج بیلے ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 15 12 1 1
کیمرون وائٹ ک عمران نذیر ب حفیظ 12 11 0 1
گلین میکس ویل ک حفیظ ب رضا حسن 4 5 0 0
میتھیو ویڈ ب سعید اجمل 13 14 1 0
پیٹ کمنز ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 0 1 0 0
مچل اسٹارک ناٹ آؤٹ 1 3 0 0
فاضل رنز ب 1، و 1 2
مجموعہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 117

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
محمد حفیظ 4 0 22 2
رضا حسن 4 0 14 2
سعید اجمل 4 0 17 3
شاہد آفریدی 4 0 33 0
شعیب ملک 2 0 19 0
عمر گل 2 0 11 0

Facebook Comments