[آج کا دن] پاکستان کا پہلا ڈبل سنچورین

پچاس کی دہائی میں جب پاکستان کی کرکٹ نے بین الاقوامی منظرنامے پر جنم لیا تو ابتداء میں جو کھلاڑی اسے میسر آئے وہ آج کے برعکس انتہائی پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے تھے، جنہوں نے نہ صرف کھیل کے میدان میں فتوحات کے جھنڈے گاڑے بلکہ پاکستان کا بہترین تعارف بھی دنیا کے سامنے پیش کیا۔ انہی ابتدائی ناموں میں سے ایک وکٹ کیپر امتیاز احمد کا بھی تھا، جنہوں نے 1955ء میں آج ہی کے روز، یعنی 30 اکتوبر کو، نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں ڈبل سنچری کا کارنامہ انجام دیا جو کسی بھی وکٹ کیپر کی جانب سے تاریخ کی پہلی ڈبل سنچری تھی۔

آپ پاکستان کے اولین ٹیسٹ سے لے کر 1962ء تک وکٹوں کے پیچھے فرائض انجام دیتے رہے اور اس دوران صرف دستانوں ہی سے نہیں بلکہ اپنے بلے کے ذریعے بھی چند قیمتی اننگز کھیلیں جن میں بلاشبہ 30 اکتوبر 1955ء نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور میں کھیلی جانے والی اننگز سب سے نمایاں ہے۔ 380 منٹ محیط 209 رنز کی یہ باری آج بھی دو تاریخی ریکارڈز کی حامل ہے، تاریخ میں کسی بھی وکٹ کیپر کی جانب سے بنائی گئی پہلی ڈبل سنچری اور پاکستان کی جانب سے بنائی گئی پہلی ڈبل سنچری۔ اس کے علاوہ یہ اپنے وقت میں کسی بھی نمبر آٹھ بلے باز کی سب سے طویل اننگز بھی شمار ہوئی اور وقار حسن کے ساتھ کسی بھی وکٹ پر طویل ترین رفاقت کا قومی ریکارڈ بھی، جس میں دونوں بلے بازوں نے 308 رنز جوڑے تھے۔

نیوزی لینڈ کے دورۂ پاکستان کے دوران کراچی میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ میں پاکستان کی فتح کے ساتھ اختتام کو پہنچا اور میزبان پاکستان چاہتا تھا کہ لاہور ہی میں سیریز کا فیصلہ کر دے، لیکن نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی اور 348 رنز کا مجموعہ اکٹھا کرنے کے بعد صرف 111 رنز پر پاکستان کا 6 وکٹیں گرا دینا پاکستان کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔ اس صورتحال میں امتیاز احمد ساتویں وکٹ پر وقار حسن کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں اترے۔

دونوں بلے بازوں نے ساتویں وکٹ پر ریکارڈ 308رنز کی شراکت داری قائم کرتے ہوئے مقابلے کو نیوزی لینڈ کی گرفت سے نکال لیا۔ یہ اپنے زمانے میں کسی بھی وکٹ کے لیے پاکستانی بلے بازوں کی طویل ترین رفاقت تھی۔ جس کے دوران بدقسمتی سے وقار حسن اپنی ڈبل سنچری مکمل نہ کر سکے اور 189 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ اگر وہ مزید 11 رنز بنا لیتے تو پاکستان کی جانب سے پہلی ڈبل سنچری کا اعزاز آج امتیاز احمد کے بجائے وقار حسن کے نام ہوتا۔ اس موقع پر امتیاز احمد نے موقع کو ضایع نہ ہونے دیا اور بالآخر 380 منٹ کے صبر آزما مرحلے کے بعد ڈبل سنچری بنانے والے بلے بازوں میں ایک پاکستانی کھلاڑی کا اضافہ کر دیا۔ یہ اننگز 28 چوکوں سے مزین تھی۔

آخری بلے بازوں کی قیمتی اننگز کی بدولت پاکستان نیوزی لینڈ پر 213 رنز کی برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اور دوسری باری میں ایڑی چوٹی کا زور بھی نیوزی لینڈ کو شکست سے نہ بچا سکاکیونکہ وہ صرف 115 رنز کی برتری حاصل کر سکا اور پاکستان نے اننگز لڑکھڑانے کے باوجود 6 وکٹوں کے نقصان پر ہدف کو جا لیا اور سیریز 2-0 سےجیت لی۔

41 ٹیسٹ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے امتیاز احمد قومی کرکٹ ٹیم کے پہلے باضابطہ وکٹ کیپر تھے۔ گو کہ ابتدائی ایام میں آنکھ پر چوٹ لگنے کے بعد آپ نے وکٹ کیپنگ چھوڑ دی تھی اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اولین مقابلوں میں حنیف محمد یہ فریضہ انجام دیتے تھے، لیکن وکٹ کیپنگ کے ناکافی تجربے کے باعث یہ ذمہ داری بالآخر امتیاز احمد ہی کو نبھانی پڑی۔ 72 اننگز میں 11 نصف سنچریوں اور 3 سنچریوں کی مدد اور 29.28 کے اوسط سے 2079 رنز بنانے کے علاوہ آپ نے وکٹوں کے پیچھے 93 شکار بھی کیے۔

ٹیسٹ کیریئر میں آپ کی تینوں سنچریاں اس لحاظ سے یادگار تھیں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈبل سنچری کے علاوہ آپ کی دونوں سنچریاں حریف ممالک کے خلاف انہی کے میدانوں میں بنیں۔ فروری 1958ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن، جمیکا میں 122 رنز کے علاوہ آپ نے جنوری 1961 ء میں بھارت کے خلاف مدراس ٹیسٹ میں بھی 135 رنز کی اننگز کھیلی۔

آپ اگست 1962ءمیں انگلستان کے خلاف اپنے کیریئر کے آخری ٹیسٹ میں صرف دو رنز کے فرق سے سنچری سے محروم رہ گئے۔ اوول میں کھیلے گئے سیریز کے پانچویں و آخری ٹیسٹ میں فالو آن کا سامنا کرنے کے بعد آپ نے 98 رنز کی انفرادی اننگز کھیلی لیکن ٹیم شکست سے نہ بچ سکی اور انگلستان نے سیریز 4-0 سے جیت لی۔ اک باہر جاتی گیند کو کھیلنے کی کوشش میں سلپ پر کیچ دے بیٹھنے سے آپ انفرادی طور پر بھی اپنی آخری باری کو یادگار نہ بنا سکے۔

آپ 1952ء میں لکھنؤ میں پاکستان کی پہلی ٹیسٹ فتح، اگست 1954ء میں انگلستان میں اوول کی تاریخی جیت اور اور 1958ء کے یادگار برج ٹاؤن ٹیسٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کے حصہ رہے۔ موخر الذکر ٹیسٹ مقابلے میں فالو آن کا شکار ہونے کے بعد آپ نے حنیف محمد کے ساتھ 150 رنز کی ابتدائی رفاقت قائم کی، جس نے پاکستان کی مقابلے میں واپسی کی بنیاد رکھی اور بعد ازاں حنیف محمد کی تاریخی اننگز نے پاکستان کو واضح شکست سے بچا لیا۔

امتیاز احمد نے 2005ء سے 2008ء تک پاکستان کی قومی خواتین ٹیم کی کوچنگ بھی کی اور ان کی ابتدائی قومی فتوحات میں کلیدی کردار ادا کیا۔

امتیاز احمد کا کیریئر

مقابلے اننگز رنز بہترین اسکور اوسط سنچریاں نصف سنچریاں کیچز اسٹمپس
ٹیسٹ مقابلے 41 72 2079 209 29.28 3 11 77 16
فرسٹ کلاس 180 310 10391 300* 37.37 22 45 322 82

Facebook Comments