کام نہ سہی تو نام ہی بہتر کرلیں

کرکٹ کا کھیل پاکستانیوں کا خون گرماتا ہے، سالوں سے بین الاقوامی کرکٹ کے لئے ترسی قوم گاہے بگاہے ہونے والے مقامی ٹورنامنٹ کے انعقاد ہی سے اپنے شوق کی بھوک کسی طور مٹالیتی ہے۔ کرکٹ اگر ٹی ٹوئنٹی ہوتو سماں الگ ہی ہوتا ہے، اور شائقین کھیل سے محظوظ ہوتے ہوئے خوب ہلہ گلہ بھی کرتے ہیں، مختصراً یہ کہ تین گھنٹے میں پیسہ سود سمیت وصول ہوجاتا ہے۔ گذشتہ چند سالوں کی طرح اس سال بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا میلہ لاہور میں سجے گا۔

کراچی میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کا بہانہ، جب ملکی بورڈ ہی کو اعتماد نہیں تو دیگر ممالک پاکستان آنے پر کیوں آمادہ ہوں (تصویر: AFP)

کراچی میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کا بہانہ، جب ملکی بورڈ ہی کو اعتماد نہیں تو دیگر ممالک پاکستان آنے پر کیوں آمادہ ہوں (تصویر: AFP)

ٹورنامنٹ کے باقاعدہ اعلان سے قبل اس کے حتمی مقام کے حوالے سے جو تماشہ برپا ہوا اس کی ایک الگ داستان ہے جس کے ممکنہ اثرات آگے چل کر بیان کروں گا تاہم سر دست میرا نقطہ اظہار ذرا مختلف ہے۔

یہ پہلا موقع ہر گز نہیں، مگر آخر کیوں ان تمام ٹیموں کو جو ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں حصہ لیتی ہیں جانوروں کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس فیصلے کے پیچھے بالآخر کون سی منطق کارفرما ہے؟ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ اس طرز کے نام کسی بھی ٹیم کی کارکردگی پر کسی لحاظ سے اثر انداز نہیں ہوتے مگر پھر بھی کیا جانوروں کے نام ہی بہترین انتخاب ہیں؟ دنیا کے دیگر ممالک میں ہونے والی ڈومیسٹک لیگز پر نظر ڈالیں تو اس قسم کی مثالیں خال خال ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہماری ٹیموں کو ان کے شہروں کے ناموں تک ہی محدود رکھا جاتا اور اگر نام کے ساتھ دم چھلہ اتنا ہی اہم ہے تو تفریح طبع کا اور کوئی سامان ڈھونڈ لیا جاتا۔ خیر یہ معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا لہٰذا اس موضوع کو یہیں ختم کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

ناموں سے نکل کر چند کاموں کی جانب آتے ہیں جو اسی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ سے جڑے ہیں، جو بالآخر پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں ہوگا۔ یہ بات روز اول سے ڈھکی چھپی نہیں تھی کہ مذکورہ ٹورنامنٹ کا انعقاد اس سے قبل کراچی میں ہونا تھا تاہم راتوں رات لاہور منتقلی بھی بظاہر اچھنبے کی بات نہیں تاہم بعد ازاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کا اس بات پر اصرار سمجھ سے بالاتر تھا کہ ٹورنامنٹ کے کراچی میں انعقاد کا سرے سے اعلان ہی نہیں کیا گیا۔ بھلا ہو کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر سراج الاسلام بخاری کا جنہوں نے بورڈ کے فیصلے پر خفگی کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے پی سی بی کی طرف سے بھیجے گئے خطوط بھی میڈیا کے سامنے رکھ دیئے جس پر کرکٹ بورڈ کے میڈیا مینیجر نے یو ٹرن لیتے ہوئے یہ تسلیم تو کیا کہ ٹورنامنٹ کے لیے پہلی ترجیح کراچی ہی تھا مگر دوسرے ہی سانس میں یہ بھی کہہ گئے کہ امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔ ملکی سطح پر اس بیان کی یقیناً کوئی اہمیت نہیں مگر کرکٹ کھیلنے والے دیگر ممالک کے کان ضرور کھڑے ہوئے ہوں گے کہ جہاں پاکستان کا اپنا بورڈ ملک کے کچھ علاقوں میں حالات کو سازگار خیال نہیں کرتا، وہاں بیرونی دنیا کیوں کر پاکستان آنے پر آمادہ ہو؟ آپ کی یاد دہانی کے لئے عرض کروں کہ رواں سال کے اوائل میں بنگلہ دیشی ٹیم کا دورہ پاکستان صرف اس وجہ سے کھٹائی میں پڑا کہ ڈھاکہ کی ہائی کورٹ میں ایک شہری نے پاکستان کے حالات پر سوال اٹھا کر عدالت سے ٹیم کی پاکستان روانگی روکنے کا پروانہ حاصل کرلیا تھا۔ راقم کے رابطہ پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے اپنی پٹیشن میں پاکستان ہی کے اخبار کے کچھ مضامین کا حوالہ دیا ہے، جن کی رو سے پاکستان میں غیر ملکی ٹیموں کے لئے حالات سازگار نہیں۔ ایسے موقع پر جب پاکستان کرکٹ بورڈ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں کے حوالے سے جاری قحط کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے، میڈیا ڈیپارٹمنٹ کا یہ بیان کیا گل کھلا سکتا ہے؟ خود اندازہ کر لیجیے۔

اس طرز عمل سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے شعبوں میں باہمی تال میل کی کمی ہے، جس کی ایک وجہ شاید تمام ہی فیصلوں میں چیئرمین پی سی بی کی مرضی کا عمل دخل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شعبے بشمول ذرائع ابلاغ آزادی سے کام کریں اور ملکی کرکٹ کی ساکھ کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ٹورنامنٹ کو لاہور منتقل کئے جانے کے حوالے سے بورڈ کے سینئر افسر وسیم باری کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کڑے دل سے نہ چاہتے ہوئے کیا گیا۔ چلیں مان لیتے ہیں مگر کڑے دل کے ساتھ وہ فیصلہ ہی کیوں جس میں نتیجہ خاطر خواہ نہ آنے کے قوی امکانات بھی موجود ہیں۔

سال کے آخری مہینے میں ہونے والے ٹورنامنٹ سے قبل ہی لاہور میں بارشوں اور رات کے اوقات میں اوس کے باعث تمام میچز کے رات میں انعقاد سے اجتناب برتا گیا ہے۔ میچ کے اوقات کے باعث تماشائیوں کی بڑی تعداد کس طرح اپنے کام کاج چھوڑ کر میدانوں کا رخ کرپائے گی، یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کیوں کہ بہرحال یہ پاکستان کا سب سے بڑا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ ہے۔

ٹیموں کے ناموں سے شروع کیا جانےوالا یہ مضمون کرکٹ بورڈ کے کاموں پر اختتام پذیر ہوگیا تاہم فیصلہ بورڈ کرے کہ اس کے لیے کیا ممکن ہے۔ موجودہ حالات میں کاموں میں بہتری یکسر ممکن نہیں تو چلیں پھر ناموں کی تبدیلی ہی سے کام چلا لیں۔

لکھاری کا تعارف: محمد آصف خان معروف چینل نیوز ون میں شعبہ کھیل کے سربراہ ہیں اور انگریزی روزنامے دی نیوز کے لیے بھی لکھتے ہیں۔ آپ اپنے خیالات کا اظہار ٹوئٹر پر بھی کرتے ہیں۔

Facebook Comments