اعصاب شکن مقابلے کے بعد جنوبی افریقہ فاتح، بھارت کو پہلی شکست

کیا جنوبی افریقہ اپنے ماتھے پر لگا 'چوکرز' کا داغ مٹا چکا ہے؟ کم از کم ناگپور میں تو ایسا ہی دکھائی دیا، جہاں 267 رنز پر محض ایک وکٹ کھونے والے بھارت کو 296 پر ٹھکانے لگانے اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت کو 3 وکٹوں سے شکست دے کر جنوبی افریقہ نے یہی ثابت کیا ہے۔

ژاک کیلس اور ہاشم آملہ کی ذمہ دارانہ بلے بازی، اے بی ڈی ولیئرز کی شعلہ فشانی، ژاں پال ڈومنی اور یوہان بوتھا کی کی برق رفتاری اور آخر میں رابن پیٹرسن کی فیصلہ کن ضربوں نے بھارت کو عالمی کپ میں پہلی شکست سے دوچار کر دیا۔ گروپ 'بی' کا یہ اہم ترین میچ پروٹیز نے 3 وکٹوں سے جیتا۔

رابن پیٹرسن، فاتحانہ شاٹ کھیلنے کے بعد خوشی سے سرشار (ایسوسی ایٹڈ پریس)

آخری اوور ، جس میں جنوبی افریقہ کو فتح کے لیے 13 رنز درکار تھے، کے لیے بھارتی قائد مہندر سنگھ دھونی کے پاس دو آپشن تھے کہ یا تو وہ اسپنر ہربھجن سنگھ کے ہاتھوں میں گیند تھمائیں یا پھر ماضی کے تجربات کو نظر انداز کرتے ہوئے تیز گیند باز اشیش نہرا کو آزمائیں۔ اسپنر کے خلاف بلے بازی کو آسان سمجھتے ہوئےانہوں نے دوسرے آپشن کا انتخاب کیا لیکن رابن پیٹرسن کو پہلی گیند پر خوش قسمتی سے باؤنڈری مل گئی جس میں گیند ان کے بلے کا اندرونی کنارہ لیتی ہوئی فائن لیگ کو پار کر گئی۔ دوسری گیند کو انہوں نے خوبصورت انداز لانگ ان کے اوپر سے چھکے کے لیے اچھال دیا اور کھیل کو مکمل طور پر جنوبی افریقہ کے حق میں کر دیا۔ اگلی گیند پر انہوں نے انتہائی تیزی سے دو رنز لے کر میچ برابر کر دیا اور چوتھی گیند پر کور پر چوکا مارتے ہوئے جنوبی افریقہ کو فتح سے ہمکنار کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت میچ اس وقت ہی میچ میں اپنی برتری کھو بیٹھا تھا جب پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اس کی آخری 9 وکٹیں محض 29 رنز کے اضافے کے ساتھ گر گئیں۔ برق رفتار گیند باز ڈیل اسٹین اور دیگر باؤلرز کی مشترکہ سعی سے جنوبی افریقہ نے بھارت کو محض 296 پر محدود کر دیا حالانکہ 40 ویں اوور میں اس کا 267 رنز پر صرف ایک کھلاڑی آؤٹ تھا اور صاف نظر آ رہا تھا کہ اس کی نظریں کم از کم 350 رنز پر ہیں۔

جنوبی افریقہ کی بلے بازی کے دوران بھی مقابلہ کا توازن بارہا دونوں ٹیموں کی جانب جھکتا رہا۔ 30 ویں اوور میں جنوبی افریقہ کی 114 رنز پر محض2 وکٹیں گری تھیں اور لگتا تھا کہ وہ آسانی سے ہدف تک پہنچ جائے گا لیکن وکٹ کیپر کپتان دھونی کی پھرتی کے باعث کیلس (69) رن آؤٹ ہوئے تو میچ کا توازن ایک مرتبہ پھر برابر ہوگیا۔ اب جنوبی افریقہ کو 14 اوورز میں 124 رنز درکار تھے۔

پھر اے بی ڈی ویلیئرز کی برق رفتار اننگ نے کھیل کو پھر جنوبی افریقہ کے حق میں پلٹا اور انہوں نے پاور پلے کا بخوبی استعمال کیا۔ لیکن پاور پلے کے آخر میں ڈی ولیئرز (52 رنز) ایک سلاگ سوئپ کھیلتے ہوئے مڈ وکٹ پر کیچ دے بیٹھے۔ اب جنوبی افریقہ کی چھ وکٹیں باقی تھیں اور انہیں 57 گیندوں پر 74 رنز درکار تھے۔
اگلے اوور میں ہربھجن سنگھ نے کمال ہوشیاری سے ژاں پال ڈومنی (23 رنز) کو وکٹوں کے پیچھے اسٹمپ آؤٹ کروایا۔ اگلے ہی اوور میں مناف پٹیل نے مورنی وان وائیک (5 رنز) کو ایل بی ڈبلیو کیا تو میچ بھارت کی جانب جھک گیا۔

اب کریز پر یوہان بوتھا وکٹ کیپر دو پلیسس کا ساتھ دینے کے لیے آئے اور 48 ویں اوور میں انہوں نے مناف پٹیل کو ایک چوکا اور ایک چھکا رسید کر کے سنسنی مچا دی لیکن اگلی ہی گیند پر متبادل فیلڈر سریش رائنا نے ان کا ایک خوبصورت کیچ لے کر جنوبی افریقہ کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا۔ 49 ویں اوور میں ظہیر خان نے محض4 رنز دیے اور ذمہ داری اشیش نہرا کے کاندھوں پر آئی کہ وہ تمام باؤلرز کی محنتوں کو رائیگاں نہ جانے دیں۔ لیکن رابن پیٹرسن نے انہیں مسلسل دو باؤنڈریز جڑ کر بھارت کو فتح سے محروم کر دیا۔

قبل ازیں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور ابتدائی بلے بازوں نے جنوبی افریقہ کی باؤلنگ لائن اپ کو کچل کر رکھ دیا۔ ان کے شہرۂ آفاق باؤلرز مکمل طور پر وریندر سہواگ اور ماسٹر بلاسٹر سچن ٹنڈولکر کے رحم و کرم پر نظر آئے۔ دونوں کھلاڑیوں نے محض 18 اوورز میں 142 رنز کا شاندار آغاز فراہم کیا۔ وریندر سہواگ 12 چوکوں کی مدد سے 66 گیندوں پر 73 رنز بنائے۔ لیکن دوسرے اینڈ پر کھڑے سچن ٹنڈولکر آج ماسٹر بلاسٹر کے روپ میں نظر آئے۔ انہوں نے 92 گیندوں پر کیریئر کی 48 ویں سنچری مکمل کی ۔

سچن ٹنڈولکر، جن کی ایک اور سنچری رائیگاں گئی (گیٹی امیجز

بھارت کی اننگ کے 40 ویں اوور میں ٹیم کی پہلی بنیاد گری جس نے زوال کی راہ ہموار کی۔ سچن 101 گیندوں پر 3 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 111 رنز بنانے کے بعد مورنی مورکل کا شکار ہوئے تو گویا بھارتی بلے بازوں کی لائن لگ گئی۔ اگلے اوور میں اسٹین نے گوتم گمبھیر (69 رنز) اور یوسف پٹھان (صفر) کو پویلین کی راہ دکھائی۔پیٹرسن نے ویرات کوہلی (1 رن) کو پویلین کی راہ دکھائی تو دوسرے اینڈ ایک مرتبہ پھر اسٹین سے ہربھجن سنگھ (3 رنز) کو بولڈ کر کے کھلبلی مچا دی۔
اب تمام تر ذمہ داری کپتان مہندر سنگھ کے سر پر تھی کہ وہ آخری اوورز میں زیادہ سے زیادہ خود سامنا کر کےبھارت کوایک اچھے اسکور تک پہنچاتے لیکن انہوں نے اسٹرائیک خود لینے کی کوشش ہی نہیں کی۔ پیٹرسن نے اگلے اوور میں ظہیر خان (صفر) کو آؤٹ کر کے 8 وکٹیں گرا دیں۔ لیکن مہندر اس وقت بھی نہیں سمجھ پائے۔ اسٹین کے اوور میں انہوں نے سنگل لے کر اسٹرائیک اشیش نہرا کو دے دی اور یہی غلطی بھارت کو مہنگی پڑی۔ اسٹین نے دو گیندوں پر نہرا اور مناف پٹیل کو آؤٹ کر کے بھارتی اننگ کی بساط 296 پر لپیٹ دی۔

ڈیل اسٹین نے 50 رنز دے کر 5وکٹیں حاصل کیں جبکہ رابن پیٹرسن نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ مورنی مورکل، ژاک کیلس اور فوف دو پلیسس نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

ڈیل اسٹین کو شاندار باؤلنک پر میچ کابہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
یوں یہ ایک اور معرکہ ثابت ہوا جس میں سچن ٹنڈولکر کی سنچری ٹیم کی فتح میں کوئی کردار ادا نہ کر سکی۔

گو کہ گروپ 'بی' میں بھارت اب بھی 7 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے لیکن اس نے یہ پوائنٹس 5 میچوں میں حاصل کیے ہیں اوراب اس کا صرف ایک مقابلہ ویسٹ انڈیز کے خلاف باقی ہے جو 20 مارچ کو چنئی میں کھیلا جائے گا۔ جبکہ جنوبی افریقہ 4 میچز سے حاصل کرہ 6 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ گو کہ ویسٹ انڈیز کے بھی اتنے ہی میچز میں 6 پوائنٹس ہیں لیکن اسے رن ریٹ کی بنیاد پر پروٹیز پر برتری حاصل ہے۔ لیکن جنوبی افریقہ کو یہ برتری حاصل ہے کہ اس کے بقیہ دونوں میچز بہت آسان ہیں جس میں اس نے آئرلینڈ اور بنگلہ دیش کا سامنا کرنا ہے۔ جبکہ ویسٹ انڈیز انگلستان اور بھارت جیسے مشکل حریفوں سے نمٹے گا۔ اس طرح اندازہ ہوتا ہے کہ اب جنوبی افریقہ کے پاس گروپ میں سرفہرست آنے کا سب سے اچھا موقع ہے۔

میچ کی جھلکیاں

Facebook Comments