کیا پاک-بھارت تیسرا ون ڈے فکس تھا؟

میچ و اسپاٹ فکسنگ دنیا کے خوبصورت ترین کھیل کرکٹ کا وہ گھناؤنا روپ ہے، جو گزشتہ چند سالوں میں متعدد بار اس کھیل کے داغدار چہرے کو نمایاں کر چکا ہے۔ نتیجتاً جہاں چند کھلاڑیوں نے عبرتناک سزائیں بھی پائیں تو وہیں کئی شائقین کرکٹ کا دل کھیل سے اُچاٹ ہو گیا۔ 2010ء اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر لگنے والی طویل پابندیاں اور پھر قید کی سزائیں دراصل مثال تھیں کہ ایسی قبیح حرکت میں ملوث ہونے پر کھلاڑی کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے؟ لیکن اس کے باوجود مختلف مقابلوں کے فکس ہونے کے دعوے سامنے آتے رہتے ہیں جیسا کہ حالیہ پاک-بھارت کرکٹ سیریز کے تیسرے ون ڈے کے بارے میں کہا جا رہا ہے۔

پاکستانی بلے بازوں نے اس وقت پے در پے وکٹیں گنوائیں جب مقابلہ گرفت میں تھا (تصویر: BCCI)

پاکستانی بلے بازوں نے اس وقت پے در پے وکٹیں گنوائیں جب مقابلہ گرفت میں تھا (تصویر: BCCI)

پانچ سال کے طویل عرصے کے بعد دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات کی بحالی ایک تاریخی لمحہ تھا اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے برابر ہونے کے بعد پاکستان نے ناقابل یقین طور پر ایک روزہ مرحلے کے اولین دونوں مقابلے جیت کر سیریز اپنے نام کر لی اور پھر دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں تیسرا و آخری ایک روزہ مقابلہ ہوا جہاں پاکستان نے گیند بازی میں اپنی برتری کو ثابت کرتے ہوئے بھارت کو محض 167 رنز پر ڈھیر کیا۔ ہدف کے تعاقب میں پاکستان بہت جلد مقابلے پر اپنی گرفت مضبوط کر گیا اور اس مقام پر پہنچ گیا کہ اسے 16 اوورز میں صرف 55 رنز درکار تھے اور اس کی 7 وکٹیں باقی تھیں لیکن اس کے باوجود پاکستان مقابلہ ہار گیا کیونکہ پوری ٹیم 49 ویں اوور میں 157 پر آل آؤٹ ہو گئی تھی۔

اسی مقابلے کے دوران سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انگلستان کے سابق وکٹ کیپر پال نکسن نے علی الاعلان کہا کہ پاک-بھارت تیسرا ون ڈے فکس ہے اور پاکستان نے معاملہ طے کر لیا تھا کہ وہ بھارت کو جیتنے دے گا۔

اپنے ٹوئٹس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مقابلےکے اپنے ہاتھوں سے خود گنوا رہا ہے۔ نکسن نے یہ ٹوئٹ اس موقع پر کیا جب پاکستان حیران کن طور پر پے در پے وکٹیں کھو کر تاریخی کلین سویپ سے محروم ہو رہا تھا۔

ایک ٹوئٹ کے جواب میں 42 سالہ پال نکسن نے کہا کہ یہ میچ ایک مذاق ہے، اگر آپ حفیظ کو دیکھیں کہ لیگ سلپ کی موجودگی میں وہ لیپ سویپ کھیل کر حریف کھلاڑی کے ہاتھوں میں کیچ دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بک میکر ضرور بھارتی ٹیم کا بارہواں کھلاڑی ہوگا!

نکسن نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے سیریز جیتنے کے بعد آخری مقابلے میں بھارت کو جیتنے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔ 2-0 کی برتری کافی ہے اور اس کے بعد ہارنا اس کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ۔

نکسن نے 19 ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں انگلستان کی نمائندگی کی جن میں 2007ء میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا عالمی کپ بھی شامل تھا۔

آپ کا کیا خیال ہے، کیا دہلی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر یہ کہاجا سکتا ہے کہ یہ مقابلہ فکس تھا؟ اگر ایسا کوئی معاملہ ہے تو کیا بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ کوئی سرگرمی دکھائے گا؟

Facebook Comments