زمبابوے اسپن جال میں پھنس گیا، پہلے ٹیسٹ میں ناکامی

پہلی اننگز میں 211 رنز بنانے کے بعد ویسٹ انڈیز کو 151 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ پر محدود کرنے کے باوجود زمبابوے شکست سے نہ بچ سکا کیونکہ ڈیرن سیمی کی 73 رنز کی برق رفتار اننگز اور دنیش رام دین کے 62 رنز ویسٹ انڈیز کو مقابلے میں واپس لے آئے اور پھر بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آنے والے شین شلنگ فرڈ کی دوسری اننگز میں زمبابوے کے چھ بلے بازوں کی وکٹیں گویا تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئیں اور ویسٹ انڈیز با آسانی 9 وکٹوں سے پہلا ٹیسٹ جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔

شین شلنگ فرڈ، بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے ساتھ ہی 9 وکٹیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز (تصویر: WICB)

شین شلنگ فرڈ، بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے ساتھ ہی 9 وکٹیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز (تصویر: WICB)

برج ٹاؤن، بارباڈوس کے خوبصورت میدان میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ کا خاتمہ محض تین دن میں ہی ہو گیا۔ گو کہ اس کا آغاز ایسا یکطرفہ نہ تھا۔ جب زمبابوے نے پہلے روز نسبتاً اچھے آغاز کے بعد مارلون سیموئلز کے سامنے اپنی وکٹیں دے کر اننگز کا 211 رنز کا پر خاتمہ کر ڈالا اور جاتے جاتے محض 18 رنز پر ویسٹ انڈیز کے بھی دو بلے بازوں کو پویلین لوٹا دیا اور یوں پہلا دن تقریباً برابری کی بنیاد پر ختم ہوا۔ لیکن یہ دوسرے روز کا پہلا سیشن تھا جس میں زمبابوے کے باؤلرز کی سوئنگ ہوتی گیندوں نے 144 رنز تک ویسٹ انڈیز کے پانچ کھلاڑی ٹھکانے لگا کر مقابلے میں سنسنی پھیلا دی۔

اس موقع پر ویسٹ انڈیز کے کپتان کی شعلہ فشاں اننگز نے میچ کی کایاپلٹی۔ انہوں نے دنیش رام دین کے ساتھ اس وقت اننگز کو سنبھالا دیا جب 151 رنز پر ویسٹ انڈیز اپنے تجربہ کار بلے باز شیونرائن چندرپال سے بھی محروم ہو چکا تھا، یعنی چھ وکٹیں گر چکی تھیں، لیکن سیمی نے 'بہترین دفاعی حکمت عملی یہی ہے کہ حملہ کیا جائے' کا اصول اپنا کر تمام ہی زمبابوین باؤلرز کو خوب آڑے ہاتھوں لیا ۔ محض 69 گیندوں پر 4 چھکوں اور 8 چوکوں سے مزین 73 رنز کی ان کی اننگز نے نہ صرف ویسٹ انڈیز کو برتری دلائی بلکہ زمبابوے کے میچ پر حاوی ہونے کے خواب کو بھی چکناچور کر دیا۔ سیمی نے ساتویں وکٹ پر رام دین کے ساتھ 106 قیمتی رنز کا اضافہ کیا اور آخر میں ٹینو بیسٹ کے 24 رنز کی بدولت ویسٹ انڈیز 300 رنز کی نفسیاتی حد بھی عبور کر گیا اور اننگز کا خاتمہ 307 رنز پر تمام کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے ساتھ ہوا۔ رام دین 130 گیندوں پر 62 رنز بنا کر دوسرے نمایاں ترین بلے باز رہے جبکہ مارلون سیموئلز نے 51 اور کرس گیل نے 40 رنز بنائے۔

96 رنز کے خسارے کے ساتھ دوسرے روز کے آخری سیشن میں جب زمبابوے نے اپنی اننگز کا دوبارہ آغاز کیا تو ابتداء ہی سے اسے سخت مرحلے سے دوچار ہونا پڑا۔ ٹینو ماوویو، ہملٹن ماساکازا اور ووسی سبانڈا کی قیمتی وکٹیں تو زمبابوے کو دیتے ہی بنی اور یوں تیسرے و فیصلہ کن دن سے قبل ہی اسے فیصلہ کن دھچکا پہنچ چکا تھا۔ 41 رنز تین کھلاڑی آؤٹ کے ساتھ جب زمبابوے نے تیسرے دن کا آغاز کیا تو کسی کو توقع نہ تھی کہ اننگز یکدم ایسی ڈھیر ہوگی۔ شلنگ فرڈ جو گزشتہ روز دو وکٹیں حاصل کر چکے تھے، مزید فیصلہ کن ضربیں لگانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے کپتان برینڈن ٹیلر کو دن کا پہلا شکار بنایا جبکہ دوسرے اینڈ سے نائٹ واچ مین رے پرائس کیمار روچ کے ہاتھوں بولڈ ہو گئے۔ پھر زمبابوے کی اسپن باؤلنگ کے خلاف نااہلی کھل کر سامنے آ گئی اور میلکم والر، ریگس چاکابوا اور گریم کریمر شلنگ فرڈ کی اگلی وکٹ بن گئے۔ تہرے ہندسے میں پہنچنے سے قبل ہی زمبابوے کی 8 وکٹیں گر چکی تھیں۔ شینن گیبریل نے آخری دو وکٹوں پر ہاتھ صاف کر کے زمبابوے کی اننگز کا خاتمہ محض 107 رنز پر کر دیا۔

شلنگ فرڈ نے محض 49 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں جبکہ گیبریل کو تین اور کیمار روچ کو ایک وکٹ ملی۔ شلنگ فرڈ کو مجموعی طور پر 9 وکٹیں لینے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

ویسٹ انڈیز فتح کے لیے رکار محض 12 رنز کا ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر پورا کر لیا اور دو مقابلوں کی سیریز میں ایک-صفر کی ناقابل شکست برتری حاصل کر لی۔

اب دونوں ٹیمیں 20 مارچ سے دوسرا و آخری ٹیسٹ روسیو میں کھیلیں گی۔ جس کے ساتھ ہی زمبابوے کے ناکام دورۂ ویسٹ انڈیز کا خاتمہ ہو جائے گا۔

Facebook Comments