کھودا پہاڑ، نکلا جنوبی افریقہ؛ انگلستان فائنل میں

چیمپئنز ٹرافی 2013ء کا پہلا سیمی فائنل توقعات کے بوجھ تلے ہی دب گیا، اورہوا وہی جو ہمیشہ ہوتاآیا ہے، یعنی کہ عالمی ٹورنامنٹ میں ناک آؤٹ مقابلے میں جنوبی افریقہ کی بدترین شکست۔ اب تو شاید ہم بھی کہانی دہرا دہرا کر تھک گئے ہیں کہ اچھا بھلا کھیلتے کھیلتے جنوبی افریقہ ہمیشہ ناک آؤٹ مرحلے میں باہر کیوں ہو جاتا ہے؟ 1992ء، 1996ء، 1999ء، 2003ء، 2007ء اور 2011ء کے عالمی کپ مقابلے اور اب 2013ء کی چیمپئنز ٹرافی جنوبی افریقہ کی 'مستقل مزاجی' کی گواہ ہیں۔ سوائے 1992ء کے، جہاں بارش نے اسے ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا، جنوبی افریقہ ہر ٹورنامنٹ میں ناک آؤٹ مقابلے میں پہنچتے ہی بری طرح شکست سے دوچار ہوا۔ اوول میں بھی یہی ہوا، انگلستان کے خلاف سیمی فائنل، جس کے بارے میں بہت توقعات تھیں کہ سخت مقابلہ ہوگا، ایک انتہائی یکطرفہ معاملہ رہا اور انگلستان نے باآسانی 7 وکٹوں سے فتح حاصل کر کے فائنل میں جگہ بنالی۔

انگلش باؤلرز نے جنوبی افریقہ کے بلے بازوں کے لیے کوئی 'جائے قرار' نہ چھوڑی (تصویر: Getty Images)

انگلش باؤلرز نے جنوبی افریقہ کے بلے بازوں کے لیے کوئی 'جائے قرار' نہ چھوڑی (تصویر: Getty Images)

حقیقت یہ تھی کہ جنوبی افریقہ اور انگلستان دونوں زخمی شیروں کی طرح سیمی فائنل میں پہنچے تھے، جنوبی افریقہ کو گروپ مرحلے میں بھارت کے ہاتھوں شکست کھانا پڑی جبکہ انگلستان کو سری لنکا کے خلاف زبردست ہار سہنا پڑی۔ ان دونوں کے مقابلے کا مطلب تھا کہ ایک شاندار معرکہ آرائی لیکن مقابلے کے ابتدائی لمحات سے میچ مکمل طور پریکطرفہ ثابت ہوا۔ انگلش باؤلرز نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کے فیصلے کو درست ثابت کر دکھایا۔

پروٹیز پر ابتدائی وار جمی اینڈرسن نے لگایا ، جنہوں نے انگرام کے وکٹوں کے سامنے دھر لیا اور اگلے اوور میں اسٹیون فن کی گیند پہنچنے سے قبل گومگو کی کیفیت نے 'مردِ درویش' کی اننگز کا بھی خاتمہ کر دیا۔ صرف 4 رنز پر دو وکٹیں گرجانے کے بعد جنوبی افریقہ کو ضرورت تھی استحکام کی، اور یہ اسی صورت میں مل سکتا تھا جب ٹیم کا بہترین بلے باز میدان میں آئے۔ دنیا کے نمبر ایک ون ڈے بیٹسمین ابراہم ڈی ولیئرز نے بجائے خود آنے کے بعد پہلے رابن پیٹرسن کو ون ڈاؤن بھیجا اور ہاشم آملہ کے آؤٹ ہونے کے بعد بھی اپنے بجائے فف دو پلیسی کو بھیجنے کافیصلہ کیا۔ اور شاید یہیں سے معاملہ بگڑ گیا۔

جب رابن پیٹرسن اینڈرسن کی ایک اور خوبصورت گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے تو کچھ ہی دیر میں ڈی ولیئرز اور جے پی ڈومنی، فف دو پلیسی، راین میک لارن اور کرس مورس بھی منہ لٹکائے ان کے ساتھ پویلین میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ڈی ولیئرز خود انتہائی ناقص شاٹ کھیل کر وکٹوں کے پیچھے کیچ دے گئے جبکہ دومنی دو مرتبہ زندگی ملنے کے باوجود جیمز ٹریڈویل کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ انہیں ایک مرتبہ امپائر نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ قرار دیا تھا، لیکن وہ ریویو لے کر بچ گئے، جبکہ دوسری بار ان کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی زوردار اپیل ہوئی اور امپائر نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دیا۔ قسمت دیکھئے کہ واضح آؤٹ ہونے کے باوجود انگلستان نے ریویو نہ لینے کا فیصلہ کیا، ورنہ دومنی کئی گیندیں قبل ہی میدان بدر ہو چکے ہوتے۔ بہرحال، دو پلیسی، جو دومنی کی طرح مرد بحران سمجھے جاتے ہیں، ٹریڈویل کی ایک گیند کو کٹ کرنے کی کوشش میں وکٹ کیپر جوس بٹلر کا شکار بن گئے۔

دن کا سب سے دلچسپ آؤٹ راین میک لارن کا تھا۔ ٹریڈویل کی گیند کو آگے بڑھ کر روکنے کی کوشش میں وہ گیند کی سمت کھو بیٹھے۔ گیند ان کے بلے کے بجائے پیڈ سے لگتے ہوئے سیدھا سلپ میں گئی، جہاں جست لگاتے جوناتھن ٹراٹ نے اسے تھاما، اور باؤلر اور کیپر کی اپیل کے دوران مکمل حاضر دماغی کا ثبوت دیتے ہوئے وکٹوں کو نشانہ لگایا، کیونکہ میک لارن کریز سے باہر تھے۔ یہ سب پلک جھپکتے میں ہوا اور خود انگلستان کے کھلاڑیوں کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ ٹراٹ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ کہنے کو تو یہ رن آؤٹ تھا لیکن درحقیقت یہ پہلی سلپ کی جانب سے کیا گیا اسٹمپ تھا۔

قوی ہیکل جنوبی افریقہ، جس کی ٹیم کو کاغذ پر دیکھا جائے تو اس سے مضبوط ٹیم اس ٹورنامنٹ میں نہیں ہے، 80 رنز پر 8 کھلاڑی آؤٹ کے ساتھ لڑکھڑا رہا تھا۔ نویں وکٹ پر ڈیوڈ ملر نے روری کلائن ویلٹ کے ساتھ مل کر عزت بچانے کوشش کی۔ دونوں نے ریکارڈ 95 رنز کی شراکت داری قائم کی، یہاں تک یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ جنوبی افریقہ باآسانی 200 رنز کا ہندسہ عبور کرے گا اور اگر ایسا ہو جاتا تو ممکن تھا میچ دلچسپ مرحلے میں داخل ہوجاتا لیکن کرس براڈ نے ایک ہی اوور میں پے در پے گیندوں پر کلائن ویلٹ اور لونوابو سوٹسوبے کے آؤٹ کر کے ڈیوڈ ملر کے ارادوں پر اوس ڈال دی۔ وہ دوسرے اینڈ پر 56 رنز بنا کر دیکھتے ہی رہ گئے۔ کلائن ویلٹ 43 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ پوری جنوبی افریقہ ٹیم 39 ویں اوور میں 175 رنز پر ڈھیر ہوئی اور انگلستان کو صرف 176 رنز کا ہدف ملا۔

انگلستان کی جانب سے اسٹورٹ براڈ اور جیمز ٹریڈویل نے 3،3، جیمز اینڈرسن نے 2 اور اسٹیون فن نے ایک وکٹ حاصل کی۔

جوناتھن ٹراٹ کے 82 رنز کی بدولت انگلستان نے باآسانی 3 وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کر لیا (تصویر: Getty Images)

جوناتھن ٹراٹ کے 82 رنز کی بدولت انگلستان نے باآسانی 3 وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کر لیا (تصویر: Getty Images)

انگلش بیٹنگ لائن اپ کو دیکھا جائے تو یہ ہدف ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا، اس لیے کہ جنوبی افریقہ اپنے دو مرکزی گیندبازوں ڈیل اسٹین اور مورنے مورکل سے محروم تھا۔ ان کی غیر موجودگی میں کوئی گیندباز موثر نہ دکھائی دیا۔ 41 رنز کے مجموعے تک ایلسٹر کک اور این بیل کی وکٹیں ضرور حاصل کر لی گئیں لیکن غالب پوزیشن پوری اننگز میں انگلستان ہی کو حاصل رہی۔ تیسری وکٹ پر جوناتھن ٹراٹ اور جو روٹ کے درمیان 105 رنز کی شراکت داری نے جنوبی افریقہ کی موہوم سی امیدوں کا بھی خاتمہ کر دیا۔

جو روٹ نصف سنچری نے محض دو رنز قبل دومنی کی ایک گیند کو سوئپ کرنے کی کوشش میں لیگ اسٹمپ گنوا بیٹھے۔ بہرحال، انگلستان نے 38 ویں اوور میں ٹراٹ کے چوکے کی بدولت ہدف کو جا لیا۔ ٹراٹ 82 رنز پر ناقابل شکست رہے۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے کرس مورس، دومنی اور کلائن ویلٹ نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

ٹریڈویل کو شاندار باؤلنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب انگلستان کا مقابلہ کل یعنی جمعرات کو بھارت-سری لنکا سیمی فائنل کے فاتح سے 23 جون کو ہوگا۔ امید ہے کہ دوسرا سیمی فائنل اس مقابلے سے زیادہ دلچسپ ہوگا۔

انگلستان بمقابلہ جنوبی افریقہ

چیمپئنز ٹرافی 2013ء، پہلا سیمی فائنل

19 جون 2013ء

بمقام: اوول، لندن

نتیجہ: انگلستان 7 وکٹوں سے کامیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: جیمز ٹریڈویل

جنوبی افریقہ رنز گیندیں چوکے چھکے
کولن انگرام ایل بی ڈبلیو ب اینڈرسن 0 5 0 0
ہاشم آملہ ک بٹلر ب فن 1 3 0 0
رابن پیٹرسن ایل بی ڈبلیو ب اینڈرسن 30 41 4 0
فف دو پلیسی ک بٹلر ب ٹریڈویل 26 39 3 0
ابراہم ڈی ولیئرز ک بٹلر ب براڈ 0 9 0 0
ژاں-پال دومنی ب ٹریڈویل 3 11 0 0
ڈیوڈ ملر ناٹ آؤٹ 56 51 5 2
راین میک لارن رن آؤٹ 1 5 0 0
کرس مورس ک بٹلر ب ٹریڈویل 3 6 0 0
روری کلائن ویلٹ ک بٹلر ب براڈ 43 61 4 1
لونوابو سوٹسوبے ک بٹلر ب براڈ 0 1 0 0
فاضل رنز ل ب 6، و 6 12
مجموعہ 38.4 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 175

 

انگلستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
جیمز اینڈرسن 8 1 14 2
اسٹیون فن 8 1 45 1
اسٹورٹ براڈ 8.4 0 50 3
جیمز ٹریڈویل 7 1 19 3
جو روٹ 3 0 22 0
روی بوپارا 4 0 19 0

 

انگلستانہدف: 176 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
ایلسٹر کک ک ڈی ولیئرز ب مورس 6 21 0 0
این بیل ک ڈی ولیئرز ب کلائن ویلٹ 20 30 2 0
جوناتھن ٹراٹ ناٹ آؤٹ 82 84 11 0
جو روٹ ب دومنی 48 71 7 0
ایون مورگن ناٹ آؤٹ 15 19 2 0
فاضل رنز ل ب 4، و 4 8
مجموعہ 37.3 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 179

 

جنوبی افریقہ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
کرس مورس 8 1 38 1
رابن پیٹرسن 9.3 1 49 0
ژاں پال دومنی 5 0 27 1
لونوابو سوٹسوبے 5 0 26 0
روری کلائن ویلٹ 4 0 10 1
راین میک لارن 6 0 25 0

Facebook Comments