بھرپور حکمت عملی کی بدولت جنوبی افریقہ کامیاب

اردو کے عظیم شاعر اسد اللہ خاں غالب کہہ گئے ہیں کہ:

جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ حالات چاہے بلے بازی کے لیے انتہائی سازگار کیوں نہ ہوں اور ہدف بھی 260 رنز جیسا معمولی ہو تب بھی، جب جب میچ جتوانے کی ذمہ داری بلے بازوں کے کاندھوں پر آتی ہے، 'گرین شرٹس' کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔

عمران طاہر نے مصباح، اسد اور عمر اکمل سمیت چار پاکستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا (تصویر: AFP)

عمران طاہر نے مصباح، اسد اور عمر اکمل سمیت چار پاکستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا (تصویر: AFP)

درحقیقت، جنوبی افریقہ نے ابتدائی دونوں مقابلوں میں بیٹنگ کی مکمل ناکامی کے بعد وقفے کے چند ایام میں بھرپور حکمت عملی تیار۔ ہاشم آملہ اور ڈیل اسٹین جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی واپسی سے ٹیم حوصلہ بھی ملا اور گزشتہ مقابلوں کو بھول کے پروٹیز بلے بازوں نے آج بہت ہی ذمہ دارانہ انداز میں بیٹنگ اور باؤلرز نے بہت عمدہ لائن و لینتھ پر باؤلنگ کی۔ نتیجہ اہم مقابلے میں 68 رنز کے واضح مارجن سے فتح کی صورت میں نکلا۔ اب جنوبی افریقہ کو سیریز اپنے نام کرنے کے لیے بقیہ دو میں سے صرف ایک مقابلہ جیتنا ہے جبکہ شکست خوردہ پاکستان کو اب دونوں مقابلوں میں فتح ہی سیریز جتا سکتی ہے۔

جنوبی افریقہ نے سب سے پہلے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کی اور فف دوپلیسی کو ون ڈاؤن بھیجا جنہوں نے 11 مقابلوں کے بعد اپنی پہلی نصف سنچری بنا کر کپتان کے فیصلے کو درست ثابت کر دکھایا۔ گو کہ پاکستان کو سب سے خطرناک بلے باز یعنی ہاشم آملہ کی وکٹ تو ابتداء ہی میں مل گئی تھی لیکن اس کے بعد مواقع سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ نہ صرف باؤلرز ناکام دکھائی دیے بلکہ فیلڈنگ میں بھی پاکستانی کھلاڑی بجھے بجھے تھے۔ محمد حفیظ اور مصباح الحق کے دو اچھے کیچ بھی فیلڈنگ کی خامیوں کو نہ چھپا سکے۔

سیریز میں اب تک ناکامی کا منہ دیکھنے والے جنوبی افریقہ کے دو بلے بازوں فف دو پلیسی اور ژاں پال دومنی دونوں نے آج بہت عمدہ بیٹنگ کی۔ دومنی 88 گیندوں پر 64 رنز بنا کر سب سے نمایاں بلے باز رہے جبکہ دو پلیسی نے 60 گیندوں پر 55 رنز بنائے۔ کپتان ڈی ولیئرز اور ڈیوڈ ملر نے 34، 34 رنز کی کارآمد اننگز کھیلی۔ ان کے علاوہ زخمی گریم اسمتھ کی جگہ اسکواڈ میں شامل ہونے والے کوئنٹن ڈی کوک نے بھی 40 رنز جڑ کر جنوبی افریقہ کو ایک اچھے مجموعے تک پہنچانے میں اپنا کردار اد اکیا۔

باؤلنگ میں دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس حکمت عملی کا فقدان دکھائی دیا۔ مسلسل ناکامیوں کے شکار وہاب ریاض پر ایک مرتبہ پھر اعتماد کیا گیا۔ جنید خان جیسا ابھرتا ہوا سپر اسٹار جس ٹیم کے پاس ہو اور وہ آؤٹ آف فارم وہاب ریاض کو آزماتی رہے، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ وہاب نے اپنے 6 اوورز میں 40 رنز کھائے اور کوئی وکٹ نہیں لی جبکہ محمد حفیظ کو اتنے ہی اوورز میں 45 رنز کی مار سہنا پڑی۔ سہیل تنویر نے 8 اوورز میں 47 رنز دیے تاہم 1 وکٹ ضرور حاصل کی۔ سب سے زیادہ وکٹیں محمد عرفان کو ملیں جنہوں نے 10 اوورز میں 46 رنز دیے اور 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ شاہد آفرید ی نے 41 اور سعید اجمل نے 38 رنز کے عوض دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

260 رنز کا ہدف پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ اور اس کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے 'ہمالیہ' کہلا سکتا ہے، البتہ صرف 8 اوورز میں 50 رنز کا آغاز ملنا ہدف کی سمت ایک اچھا قدم تھا۔ ناصر جمشید کی عدم موجودگی میں محمد حفیظ احمد شہزاد کا ساتھ دینے کے لیے اوپنر کی حیثیت سے میدان میں اترے اور دونوں کھلاڑیوں نے سیریز کی پہلی نصف سںچری اوپننگ شراکت داری بنائی۔ لیکن نویں اوور میں ڈیل اسٹین کے ہاتھوں احمد شہزاد اور اگلے ہی اوور میں مورنے مورکل کی گیند پر محمد حفیظ کے آؤٹ ہونے نے پاکستان کی پیشرفت کو سخت نقصان پہنچایا۔ شہزاد نے 32 جبکہ حفیظ نے 15 رنز بنائے۔

اس موقع پر کپتان مصباح الحق اور دیگر بلے بازوں کا امتحان شروع ہوا کیونکہ ابھی اننگز کے صرف 10 اوورز ہی مکمل ہوئے تھے جبکہ 208 رنز بنانے باقی تھے لیکن پھر ویسی ہی کارکردگی دہرائی گئی۔ مصباح ایک مرتبہ پھر ناکام ہوئے اور عمر امین بھی۔ مسلسل دو اوورز میں ان کی وکٹیں کرنے سے پاکستان کے لیے سنگین مسئلے کھڑے ہوگئے۔ مصباح 19 رنز بنانے کے بعد عمران طاہر کی گیند پرایل بی ڈبلیو قرار پائے۔ انہوں نے امپائر کے فیصلے پر نظرثانی کروانے کا یعنی ریویو لینے کا فیصلہ کیا لیکن اس کے لیے اتنی دیر لگا دی کہ امپائر نے ان کا فیصلہ منظور نہیں کیا اور مصباح کو بوجھل قدموں کے ساتھ میدان سے باہر آنا پڑا۔ اگلے ہی اوور میں عمر امین 13 رنز پر وکٹوں کے پیچھے کیچ دے جانا معاملے کو آخری جوڑی تک لے گیا۔

اسد شفیق نے، جن پر آج کارکردگی دکھانے کے لیے سخت دباؤ تھا، بدستور ناکامی کا منہ دیکھا اور کور پر ایک آسان سا کیچ تھما گئے۔ پھر عمر اکمل عمران طاہر کی گیند کو براہ راست واپس ان کے ہاتھوں میں پہنچا دیا۔ شاہد آفریدی نے ایک مرتبہ پھر حریف باؤلرز کو زیادہ 'زحمت' نہیں دی۔ یوں محض 30 ویں اوور میں پاکستان کا اسکور 116 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ تھا۔

بلے بازوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ وکٹ میں کوئی 'بارودی سرنگیں' نصب ہیں لیکن آٹھویں وکٹ پر وہاب ریاض اور سہیل تنویر کی 61 رنز کی شراکت داری نے ثابت کیا کہ ایسا کچھ نہیں تھا۔ دونوں "آل راؤنڈرز" نے تقریباً 12 اوورز تک جنوبی افریقی گیندبازوں کا مقابلہ کیا اور جیسے ہی یہ شراکت داری ٹوٹی، پاکستان کی باری بھی 191 رنز تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ گئی۔

عمران طاہر نے 10 اوورز میں 53 رنز ضرور کھائے لیکن 4 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے جبکہ دو، دو وکٹیں مورنے مورکل اور راین میک لارن نے حاصل کیں۔ ایک، ایک وکٹ لونوابو سوٹسوبے اور ڈیل اسٹین کو ملی۔

فف دو پلیسی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

5 ایک روزہ مقابلوں کی سیریز اب 2-1 سے جنوبی افریقہ کے حق میں ہے اور اب پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ 8 نومبر کو ابوظہبی ہی میں ہونے والے چوتھے ون ڈے میں کامیابی حاصل کرے، بصورت دیگر جنوبی افریقہ آخری مقابلے تک پہنچنے سے پہلے ہی سیریز اپنے نام کرلے گا۔

پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ

تیسرا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

6 نومبر 2013ء

بمقام: شیخ زاید اسٹیڈیم، ابو ظہبی

نتیجہ: جنوبی افریقہ 68 رنز سے کامیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: فف دو پلیسی

جنوبی افریقہ رنز گیندیں چوکے چھکے
 ہاشم آملہ  ب محمد عرفان  10  10  1  0
 کوئنٹن ڈی کوک  اسٹمپ عمر اکمل ب شاہد آفریدی  40  57  5  0
فف دو پلیسی  اسٹمپ عمر اکمل ب شاہد آفریدی  55  60  8  0
 جے پی دومنی  ک مصباح الحق ب سہیل تنویر  64  88  3  0
 ابراہم ڈی ولیئرز  ک محمد حفیظ ب سعید اجمل  34  40  2  0
 ڈیوڈ ملر  ب سعید اجمل  34  33  4  0
 راین میک لارن  ایل بی ڈبلیو ب محمد عرفان  13  7  1  1
 ڈیل اسٹین  ک احمد شہزاد محمد عرفان  2  4  0  0
 مورنے مورکل  ناٹ آوٹ  0  0  0  0
 لونوابو سوٹسوبے  ناٹ آوٹ  0  1  0  0
فاضل رنز ب 1، ل ب 1، و 5 7
مجموعہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 259

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
 محمد عرفان  10  0  46  3
 سہیل تنویر  8  0  47  1
 محمد حفیظ  6  0  45  0
 سعید اجمل  10  1  38  2
 وہاب ریاض  6  0  40  0
 شاہد آفریدی  10  0  41  2

 

پاکستانہدف: 260 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
 محمد حفیظ  ک دو پلیسی ب مورکل  15  31  3  0
 احمد شہزاد  ک آملہ ب اسٹین  32  24  7  0
 عمر امین  ک ڈی کوک ب سوٹسوبے  13  27  2  0
 مصباح الحق  ایل بی ڈبلیو ب عمران طاہر  19  36  3  0
 اسد شفیق  ک دو پلیسی ب عمران طاہر  11  28  1  0
 عمر اکمل  ک اینڈ ب عمران طاہر  7  20  0  0
 شاہد آفریدی  ایل بی ڈبلیو میک لارن  6  7  1  0
 سہیل تنویر   ک آملہ ب میک لارن  31  38  6  0
 وہاب ریاض  ک ڈی کوک ب مورکل  33  47  3  1
 سعید اجمل  ایل بی ڈبلیو ب عمران طاہر  1  3  0  0
 محمد عرفان  ناٹ آؤٹ  4  6  1  0
فاضل رنز ب 5، ایل ب 2، وائڈ 12 19
مجموعہ 44.3 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 191

 

جنوبی افریقہ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
 مورنے مورکل  9  1  35  2
 لونوابو سوٹسوبے  10  2  34  1
 ڈیل اسٹین  8  0  31  1
عمران طاہر  10  1  53  4
راین میک لارن  7.3  0  31  2

Facebook Comments