اب فیصلے کا وقت ہے!!

جب دبئی ٹیسٹ کے پہلے روز پاکستان نے ایک ہی سیشن میں پانچ وکٹیں گنوائیں، تو درحقیقت انہی دو گھنٹوں میں اس امر کا بھی فیصلہ ہوگیا کہ سیریز پاکستان نہیں جیتے گا۔ 2011ء میں انگلستان کو وائٹ واش کرنے کے بعد آج تک سیریز جیتنے سے محروم پاکستان کو اب اگلا موقع 10 ماہ بعد یعنی اکتوبر میں ملے گا یعنی تب تک انگلستان کے خلاف تاریخی کامیابی کو پونے تین سال کا طویل عرصہ بیت چکا ہوگا۔ پاکستان کے پاس شارجہ میں آخری موقع ہوگا کہ وہ 10 سال متحدہ عرب امارات میں ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ بھی بچائے۔

تیسرے ٹیسٹ سے قبل مارو یا مر جاؤ کی صورتحال میں پسند و ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر اسپیشلسٹ کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنا ہوگا (تصویر: AP)

تیسرے ٹیسٹ سے قبل مارو یا مر جاؤ کی صورتحال میں پسند و ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر اسپیشلسٹ کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنا ہوگا (تصویر: AP)

دو سال سفید یونیفارم میں کوئی ٹرافی اٹھانے میں ناکامی کے بعد اب سیریز بچانے کے لیے کچھ سخت فیصلے بھی ضروری ہیں تاکہ مزید سبکی سے بچا جا سکے۔ سیریز کے آغاز سے پہلے ہی میں نے لکھا تھا کہ حفیظ کی شمولیت سے ٹیسٹ ٹیم کا توازن بگڑ گیا ہے، جسے ٹیم میں کھپانے کے لیے اظہر علی کو بینچ پر بٹھایا گیا جبکہ ’’پروفیسر‘‘ کی اسپن بالنگ کی ’’اضافی‘‘ صلاحیت ذوالفقار بابر کی اسکواڈ میں اور عبد الرحمٰن کی حتمی الیون میں عدم شمولیتکا سبب بھی بنی۔ عبد الرحمٰن متحدہ عرب امارات کی وکٹوں پر ماضی میں اچھی کارکردگی دکھا چکے ہیں جبکہ پاکستان کی آخری سیریز فتح میں بھی ان کا کردار نہایت موثر تھا، جنہوں نے سعید اجمل کے ساتھ مل کر اس وقت کی عالمی نمبر ایک انگلستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا تھا۔ لیکن حفیظ کی واپسی کی وجہ سے تین کھلاڑیوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔

اسی طرح احمد شہزاد کو بھی مختصر طرز کی کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا صلہ دیتے ہوئے ٹیسٹ کیپ پہنا دی گئی، جس سے ایک تو اوپننگ پوزیشن ایک مرتبہ پھر غیر مستحکم ہوگئی، دوسرا شان مسعود جیسا نوجوان بے حوصلہ ہوگیا، جو جنوبی افریقہ جیسے سخت حریف کے خلاف ٹیسٹ کیریئر کے بہترین آغاز کے باوجود اپنی جگہ سے محروم کردیا گیا۔

باؤلنگ کے شعبے میں عبد الرحمٰن سے ناانصافی کے علاوہ محمد طلحہ سے بھی صرف بوتلیں ڈھونے کا کام لیا جارہا ہے، جو پانچ سال بعد ٹیسٹ کھیلنے کا مضبوط امیدوار تھا۔ نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر طلحہ کو تو ٹیم سے باہر رکھا گیا لیکن راحت علی کو پہلے ٹیسٹ میں غیر متاثر کن کارکردگی کے باوجود دوسرا ٹیسٹ بھی کھلا دیا گیا۔ نئے گیند سے مخالف پر دباؤ قائم کرنے میں ناکام رہنے والا راحت شاید تیسرا ٹیسٹ بھی کھیل جائے۔

اب جبکہ پاکستان کو "مارو یا مر جاؤ" والی صورتحال کا سامنا ہے، اس لیے ٹیم انتظامیہ کو سرخرو ہونے کے لیے پسند و ناپسند کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسپیشلسٹ کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنا ہوگا، جن میں ٹیسٹ کرکٹ کا مزاج بھی رکھتے ہوں۔ اتنے کم میں بہت زیادہ تبدیلیوں کا موقع تو موجود نہیں کیونکہ پاکستان کو انہی کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنا ہوگا، جو اسکواڈ کا حصہ ہیں لیکن ٹاپ آرڈر میں تبدیلی ناگزیر ہے کیونکہ دبئی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں اس نے بہت مایوس کیا ہے۔ خرم منظور کی نصف سنچری کے علاوہ سرفہرست تین بلے باز کریز پر پانچ مرتبہ آمد کے باوجود 40 رنز ہی اکٹھے کر پائے۔ اس لیے شارجہ میں شان مسعود کو واپس لانا ہوگا جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی فارم دوبارہ حاصل کرنے وال اظہر علی کو بھی موقع دینا ہوگا، جس کے لیے پچھلا سال اچھا نہیں گزرا لیکن اس کے باوجود اظہر علی میں ٹیسٹ کرکٹ کا ٹمپرامنٹ موجود ہے اور وہ طویل طرز کے مزاج سے بخوبی واقف بھی ہے۔ دوسری جانب راحت علی کی جگہ محمد طلحہ کو کھلا کر پیس اٹیک کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

آخری ٹیسٹ میں وکٹ کی تیاری بھی بہت اہم ہوگی کیونکہ بسا اوقات پاکستان کے ’’تجربہ کار‘‘ کیوریٹر ایسی وکٹ تیار کردیتے ہیں جو نہ صرف کپتان کی ہدایت کے بالکل برعکس بلکہ مخالف ٹیم کے لیے سازگار ثابت ہوجاتی ہیں۔ اگر پاکستان شارجہ میں تین تیز باؤلرز کے ساتھ میدان میں اترتا ہے تو اسے گرین ٹاپ کی تیاری کی ضرورت ہے، جبکہ دو اسپنرز کے ساتھ کی صورت میں ٹرننگ وکٹ پر بھی سری لنکا کو گھیرا جا سکتا ہے لیکن حکمت عملی طے کرنے سے پہلے وکٹ کی تیاری سب سے اہم مرحلہ ہے۔

شارجہ ٹیسٹ میں اپنی مرضی کی وکٹ پر پاکستانی ٹیم اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اتر کر سیریز برابر کرسکتی ہے۔ ویسے ایک اور ٹیسٹ سیریز پاکستان کے ہاتھوں سے نکل تو چکی ہے اور ڈیو واٹمور کو دو سالہ عہد میں کوئی ٹیسٹ سیریز جیتے بغیر واپس جانا پڑے گا۔

Facebook Comments